خصوصی رپورٹ۔۔
دنیا بھر کی حکومتیں قومی سلامتی، غلط معلومات کے پھیلاؤ، نوجوانوں کے تحفظ، سائبر جرائم اور سیاسی اختلافِ رائے جیسے خدشات کے باعث آن لائن پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل اسپیس پر اپنا کنٹرول مسلسل سخت کر رہی ہیں۔ نیپال اور ایران سے لے کر روس اور یورپ کے مختلف ممالک تک، حکام نئے قوانین، تکنیکی نگرانی، مواد پر پابندیوں اور شناخت کی تصدیق جیسے اقدامات کے ذریعے آن لائن اظہار کو ضابطے میں لانے، مواد کی نگرانی کرنے اور سوشل نیٹ ورکس و میسجنگ سروسز پر اختیار قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کچھ آمرانہ نظاموں میں یہ اقدامات ڈیجیٹل آمرانہ طرزِ حکمرانی (ڈیجیٹل آتھارٹیرینزم) کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جہاں نگرانی اور سنسرشپ کے اوزاروں کو حکمرانی میں ضم کر کے اختلافِ رائے کو دبایا اور معلومات تک رسائی محدود کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ مستحکم جمہوریتوں میں بھی عمر کی تصدیق کے قوانین اور آن لائن سیفٹی ایکٹس جیسی قانون سازی کے ذریعے ریاستی نگرانی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بچوں کے تحفظ اور غلط معلومات جیسے مبینہ نقصانات سے نمٹنا بتایا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل جبر اور منقسم رسائی کی پالیسیاں، جیسے ایران میں درجوں پر مبنی انٹرنیٹ رسائی، اس بات کی مثال ہیں کہ آن لائن کنٹرول سخت ہونے سے غیر مساوی ڈیجیٹل ماحول جنم لیتا ہے جہاں صرف منتخب صارفین کو نسبتاً کھلی رسائی حاصل ہوتی ہے۔ حکومتیں ڈیپ پیکٹ انسپیکشن، پروٹوکول فلٹرنگ اور مخصوص پلیٹ فارمز پر پابندی جیسے طریقے بھی استعمال کرتی ہیں تاکہ ضابطوں پر عمل درآمد کرایا جا سکے اور اختلافِ رائے کو دبایا جا سکے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں مسلسل بارہویں سال دنیا بھر میں انٹرنیٹ آزادی میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
کنٹرول میں اس اضافے کے اثرات بین الاقوامی ٹیک کمپنیوں اور مقامی آن لائن کمیونٹیز دونوں پر پڑتے ہیں، جہاں پلیٹ فارمز کو نئے قانونی تقاضوں کی تعمیل کرنا پڑتی ہے اور بصورتِ دیگر جرمانوں، مواد ہٹانے یا مکمل پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیپال جیسے ممالک نے مقامی مواد کے معیار نافذ کرنے کے لیے ٹک ٹاک جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مکمل پابندی عائد کی ہے، جبکہ یورپی ریگولیٹرز شناخت کی تصدیق کے ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں جنہیں ناقدین رازداری اور گمنامی کے حق کے منافی قرار دیتے ہیں۔
پاکستانی صحافیوں اور میڈیا پیشہ ور افراد کے لیے آن لائن ضابطہ کاری کے عالمی رجحانات کو سمجھنا اس توازن کی نشاندہی کرتا ہے جو آن لائن نقصانات سے نمٹنے اور ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے درمیان قائم رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان میں بھی آن لائن نگرانی اور مواد پر کنٹرول بڑھانے کی کوششیں اس امر کو اجاگر کرتی ہیں کہ نیوز رومز ایسی حکمتِ عملیاں اختیار کریں جو بدلتے ہوئے قانونی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے ڈیجیٹل آزادیوں کا تحفظ کر سکیں۔
172