89

نئی فارن میڈیا گائیڈ لائنز متنازع کیوں؟

خصوصی رپورٹ۔۔
پاکستان کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی فارن میڈیا فسیلی ٹیشن گائیڈ لائنز پر مقامی اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں، صحافی یونینز اور میڈیا اداروں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی ہدایات کے بعض نکات غیر ملکی صحافیوں اور عالمی میڈیا اداروں کی آزادانہ رپورٹنگ کو محدود کر سکتے ہیں۔حکومت کا مؤقف ہے کہ ان گائیڈ لائنز کا مقصد طریقۂ کار کو آسان بنانا، مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ بہتر کرنا، غیر ملکی صحافیوں کی حفاظت یقینی بنانا اور قومی سلامتی کے تقاضوں کا تحفظ کرنا ہے۔ تاہم آزادیٔ صحافت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بعض شرائط غیر ملکی میڈیا کے لیے پاکستان سے آزادانہ رپورٹنگ کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔
نئی گائیڈ لائنز کیا ہیں؟فارن میڈیا فسیلی ٹیشن گائیڈ لائنز کے تحت پاکستان میں رپورٹنگ کرنے والے غیرملکی صحافیوں، نمائندوں، ڈاکیومنٹری فلم سازوں، فوٹوگرافروں اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔حکومت کے مطابق اس نظام کے ذریعے ایکریڈیٹیشن، سفر، رپورٹنگ، لاجسٹک معاونت اور سکیورٹی سے متعلق معاملات کے لیے ایک مربوط طریقۂ کار قائم کیا جائے گا، جبکہ غیر ملکی صحافیوں کو پاکستانی قوانین اور سکیورٹی تقاضوں کی پابندی بھی کرنا ہوگی۔حکومتی حکام نئی ہدایات کو پابندیاں عائد کرنے کے بجائے سہولت فراہم کرنے والا نظام قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد غیر ملکی میڈیا اور سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا ہے۔
پیشگی اجازت کی شرط پر اعتراض: گائیڈ لائنز کے متعدد انتظامی پہلوؤں میں سب سے زیادہ توجہ ان شرائط پر مرکوز ہے جن کے تحت غیر ملکی صحافیوں کو بعض رپورٹنگ اسائنمنٹس، سفر یا دیگر صحافتی سرگرمیوں سے پہلے پیشگی اجازت یا کلیئرنس درکار ہوسکتی ہے۔آزادیٔ صحافت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایسی شرائط حکام کو یہ طے کرنے کے لیے زیادہ صوابدید دے سکتی ہیں کہ غیر ملکی صحافی کہاں جا سکتے ہیں اور کن معاملات پر رپورٹنگ کر سکتے ہیں۔گائیڈ لائنز کے تحت غیر ملکی نمائندوں کو پاکستان کے بعض علاقوں، خصوصاً حساس قرار دیے گئے یا اضافی سکیورٹی رابطہ کاری کے متقاضی علاقوں میں سفر سے پہلے اجازت لینا ہوگی۔ناقدین کے مطابق یہ پابندیاں سیاسی بے چینی، تنازعات، سکیورٹی واقعات یا دیگر اہم حالات سے متاثرہ علاقوں میں آزادانہ رپورٹنگ کو محدود کر سکتی ہیں۔
فلم بندی اور انٹرویوز کے لیے بھی رابطہ کاری؟: متعدد صحافتی تنظیموں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ بعض مقامات پر فلم بندی، انٹرویوز اور دیگر رپورٹنگ سرگرمیوں کے لیے حکام کے ساتھ پیشگی رابطہ یا اجازت درکار ہو سکتی ہے۔میڈیا آزادی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی صحافتی سرگرمی کے آغاز سے پہلے سرکاری منظوری لازمی قرار دی جائے تو اس سے ادارتی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔گائیڈ لائنز میں ایکریڈیٹیشن، دستاویزی تقاضوں، اجازت ناموں اور ان کی تجدید کا طریقۂ کار بھی بیان کیا گیا ہے۔ناقدین کو خدشہ ہے کہ اضافی انتظامی شرائط کے ذریعے غیر ملکی صحافیوں کی اجازت میں تاخیر، معطلی یا انکار کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
قومی سلامتی اہم جزو: نئی گائیڈ لائنز میں قومی سلامتی کو نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔دنیا بھر میں حکومتیں حساس علاقوں تک رسائی کے معاملے میں سکیورٹی تحفظات کو بنیاد بناتی ہیں، تاہم آزادیٔ صحافت کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وسیع تر اور غیر واضح سکیورٹی دفعات کو جائز صحافتی سرگرمیوں پر پابندی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ صحافتی تنظیموں کے اعتراضات بنیادی طور پر چار اہم نکات کے گرد گھومتے ہیں۔
ادارتی آزادی پر ممکنہ اثر: بہت سی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صحافت کو سرکاری اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے۔ان کا مؤقف ہے کہ پیشگی اجازت اور رابطہ کاری کے تقاضے حکام کو یہ طے کرنے میں زیادہ اختیار دے سکتے ہیں کہ غیر ملکی صحافی کیا رپورٹ کریں اور کہاں رپورٹنگ کے لیے جائیں۔
بریکنگ نیوز کی رپورٹنگ میں تاخیر: صحافتی تنظیموں کے مطابق آزاد رپورٹنگ کے لیے ضروری ہے کہ صحافی کسی اہم واقعے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ مقام تک پہنچ سکیں۔اگر ہر سفر یا رپورٹنگ سرگرمی کے لیے پیشگی منظوری درکار ہو تو بریکنگ نیوز، سیاسی واقعات، ہنگامی حالات یا سکیورٹی واقعات کی کوریج میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
صحافیوں پر ‘چِلنگ ایفیکٹ’ کا خدشہ: میڈیا آزادی کے حامیوں نے ایک ممکنہ “چِلنگ ایفیکٹ” کی نشاندہی بھی کی ہے، یعنی ایسا ماحول جس میں صحافی انتظامی رکاوٹوں، اجازت میں تاخیر یا ممکنہ نتائج کے خوف سے حساس معاملات پر رپورٹنگ سے گریز شروع کر دیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بالآخر اجازت مل بھی جائے، تب بھی اس عمل سے متعلق غیر یقینی صورتحال تحقیقاتی یا حساس موضوعات پر صحافت کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔
پاکستان میں غیر ملکی میڈیا کی موجودگی کم ہونے کا امکان: بعض تنظیموں کا خیال ہے کہ اگر پاکستان میں رپورٹنگ کے انتظامی تقاضے مزید پیچیدہ ہوئے تو بین الاقوامی نیوز ادارے یہاں اپنے نمائندوں کی تعداد یا رپورٹنگ اسائنمنٹس کم کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی صحافیوں کی تعداد میں کمی کا مطلب پاکستان کے اندر ہونے والے اہم واقعات کی عالمی میڈیا میں کم آزادانہ کوریج بھی ہو سکتی ہے۔
کن تنظیموں نے تحفظات ظاہر کیے؟نئی گائیڈ لائنز پر متعدد مقامی اور بین الاقوامی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات غیر ملکی میڈیا کی رپورٹنگ پر سرکاری کنٹرول میں اضافہ کر سکتے ہیں۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے مطابق قواعد آزادیٔ صحافت اور ادارتی خودمختاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے حکومت سے ان دفعات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے جو آزاد صحافت میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فریم ورک معلومات کے آزادانہ بہاؤ کو محدود کر سکتا ہے۔ڈیجی میپ نے بعض دفعات کو معلومات تک رسائی سے متعلق جمہوری اصولوں سے متصادم قرار دیا ہے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے گائیڈ لائنز پر عمل درآمد سے قبل صحافی برادری سے مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔نیشنل پریس کلب نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے اقدامات آزادیٔ صحافت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔رائٹرز اور بی بی سی سمیت بعض بین الاقوامی نیوز اداروں کی رپورٹس میں بھی میڈیا تنظیموں کی جانب سے نئے فریم ورک کے عملی اثرات سے متعلق تحفظات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ان تنظیموں کا مجموعی مؤقف ہے کہ نئی گائیڈ لائنز غیر ملکی صحافیوں پر سرکاری نگرانی بڑھا سکتی ہیں اور ادارتی خودمختاری میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔
حکومت کا مؤقف کیا ہے؟حکومت نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ نئی گائیڈ لائنز کا مقصد صحافت کو محدود کرنا ہے۔حکام کے مطابق فریم ورک کے بنیادی مقاصد میں غیر ملکی صحافیوں اور سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ آسان بنانا، صحافیوں کی حفاظت اور سکیورٹی بہتر کرنا، ایکریڈیٹیشن اور رپورٹنگ سے متعلق واضح طریقۂ کار قائم کرنا، پاکستانی قوانین پر عمل یقینی بنانا اور جائز بین الاقوامی میڈیا کوریج کو سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان ذمہ دارانہ بین الاقوامی صحافت کا خیر مقدم کرتا ہے، تاہم ساتھ ہی قومی سلامتی کے تقاضوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
پہلے کیا طریقہ کار تھا؟
نئی گائیڈ لائنز میں شامل متعدد معاملات اس سے پہلے بھی مختلف انتظامی طریقۂ کار کے تحت نمٹائے جاتے تھے، تاہم کوئی ایک جامع فریم ورک موجود نہیں تھا۔ماضی میں غیر ملکی نمائندے عموماً وزارتِ اطلاعات سے جاری کردہ ایکریڈیٹیشن کے تحت کام کرتے تھے، جبکہ حساس علاقوں میں سفر کے لیے ضرورت کے مطابق الگ اجازت حاصل کی جاتی تھی۔
نئی گائیڈ لائنزان طریقۂ کار کو باقاعدہ شکل دیتی اور انہیں مزید تفصیل کے ساتھ ایکریڈیٹیشن، سفر، رپورٹنگ، رابطہ کاری اور سکیورٹی اجازت ناموں کے نظام سے منسلک کرتی ہیں۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ واضح اور یکساں طریقۂ کار صحافیوں اور حکام دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔تاہم ناقدین کے مطابق اگر منظوری کے دائرۂ کار کو وسیع کر دیا گیا تو سابقہ طریقۂ کار کے مقابلے میں حکومتی نگرانی بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان کے عالمی تشخص پر اثر؟آزادیٔ صحافت کی عالمی درجہ بندیوں کو حکومتیں، سرمایہ کار، عالمی تنظیمیں اور سفارتی مشنز قریب سے دیکھتے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹنگ پر اضافی پابندیاں پاکستان میں میڈیا کی آزادی سے متعلق عالمی تاثر کو متاثر کر سکتی ہیں۔بین الاقوامی صحافی انتخابات، سیاسی تبدیلیوں، قدرتی آفات، سکیورٹی واقعات اور انسانی بحرانوں کے دوران عالمی سامعین کو پاکستان سے براہ راست رپورٹنگ فراہم کرتے ہیں۔اگر رپورٹنگ کے لیے اضافی انتظامی مراحل درکار ہوں تو ایسے واقعات کی فوری اور آزادانہ کوریج متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستانی صحافی بھی متاثر ہوسکتے ہیں
نئے قواعد کے اثرات صرف غیر ملکی صحافیوں تک محدود نہیں رہ سکتے۔بین الاقوامی نیوز اداروں کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی صحافی، پروڈیوسرز، کیمرہ پرسنز، فکسرز، مترجمین اور دیگر میڈیا پروفیشنلز بھی ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔یہ مقامی صحافی اور میڈیا ورکرز غیر ملکی نمائندوں کو رپورٹنگ، مقامی رابطوں، سفر اور خبر جمع کرنے میں اہم معاونت فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر بین الاقوامی میڈیا کی سرگرمیوں پر اضافی پابندیاں عائد ہوتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر ان مقامی میڈیا کارکنوں کے کام پر بھی پڑ سکتا ہے۔
نئی گائیڈ لائنز کے بعد مقامی اور بین الاقوامی میڈیا تنظیموں نے حکومت سے صحافیوں، ایڈیٹرز، میڈیا اداروں اور آزادیٔ صحافت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ مزید مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔آئندہ حکومت اس فریم ورک میں تبدیلی کرتی ہے یا مزید وضاحت جاری کرتی ہے، یہ ابھی واضح نہیں۔فی الحال اس معاملے پر بحث جاری رہنے کا امکان ہے، کیونکہ غیر ملکی صحافی، میڈیا ادارے اور حکومتی حکام یہ دیکھ رہے ہیں کہ نئے قواعد عملی طور پر کس طرح نافذ ہوتے ہیں اور پاکستان سے بین الاقوامی رپورٹنگ پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
خلاصہ
نئی فارن میڈیا فسیلی ٹیشن گائیڈ لائنز پاکستان میں غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے ایکریڈیٹیشن، سفر، رپورٹنگ اور لاجسٹک معاونت سے متعلق ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ پیشگی اجازت، سفری اجازت ناموں اور سرکاری رابطہ کاری کی شرائط آزادانہ رپورٹنگ کو محدود کر سکتی ہیں اور انہیں بعض معاملات کی کوریج روکنے یا کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ گائیڈ لائنز پابندی کے بجائے سہولت کے لیے ہیں اور ان کا مقصد طریقۂ کار کو آسان، رابطہ کاری کو بہتر، صحافیوں کی حفاظت کو یقینی اور قانونی و سکیورٹی تقاضوں پر عمل درآمد کو مؤثر بنانا ہے۔تاہم مقامی اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں، صحافی یونینز اور متعدد میڈیا اداروں نے ان اقدامات کے آزادیٔ صحافت اور آزادانہ رپورٹنگ تک رسائی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔(خصوصی رپورٹ)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں