سرائے گدائی کے علاقے میں کمسن عثمان کی پراسرار موت کا معاملہ اجاگر کرنے والے مقامی صحافی شاہد اختر اعوان سمیت بعض صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر نوٹس جاری کیے جانے پر صحافتی اور سماجی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔دستیاب اطلاعات کے مطابق 23 ستمبر کو سرائے گدائی کے رہائشی محمد عثمان کی لاش ایک مویشی فارم میں پھندے سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق عثمان پانچویں جماعت کا طالب علم تھا تاہم گھر کے مالی حالات کے باعث تعلیم چھوڑ کر کام کر رہا تھا۔ ابتدائی طور پر واقعے کو مبینہ خودکشی قرار دیا گیا جبکہ پوسٹ مارٹم نہ ہونے کے بعد بچے کی تدفین چند گھنٹوں کے اندر کر دی گئی تھی۔بعد ازاں عثمان کے والدین نے بیٹے کی موت کے حالات پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ معاملہ مقامی میڈیا میں آنے کے بعد تھانہ کوٹ نجیب اللہ پولیس نے بھی موت کے حالات کو مشکوک قرار دیتے ہوئے عدالت سے قبر کشائی کی اجازت طلب کی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر عثمان کی قبر کشائی کر کے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کیا گیا۔مقامی ذرائع کے مطابق قبر کشائی کے بعد لاش کو مبینہ طور پر ٹی ایم اے کے لوڈر رکشے میں منتقل کرنے کی تیاری کی گئی جس پر اہل علاقہ نے احتجاج کیا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ کی مداخلت پر ایمبولینس کا انتظام کیا گیا۔ تاہم اس مخصوص واقعے کی سرکاری سطح پر آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔بعد میں سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عثمان کی موت گلا دبانے کے باعث ہوئی، جس کے بعد تھانہ کوٹ نجیب اللہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایف آئی آر میں ایک شخص کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے واقعے کے محرکات، شواہد اور دیگر پہلوؤں پر تفتیش شروع کر رکھی ہے۔دوسری جانب اس کیس کو ابتدا سے اٹھانے والے مقامی صحافی شاہد اختر اعوان اور بعض سماجی و سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس کی جانب سے سادہ کاغذ پر یکساں نوعیت کے نوٹس دیے گئے ہیں۔ ان حلقوں نے ان نوٹسز کو مبینہ ہراسانی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایک قتل کے معاملے کو اجاگر کرنے والے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو کس قانونی بنیاد پر طلب کیا جا رہا ہے۔شاہد اختر اعوان ہری پور کے صحافتی حلقوں میں ایک معروف نام ہیں اور وہ ماضی میں ہری پور پریس کلب کے انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔صحافتی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس واضح کرے کہ جاری کیے گئے نوٹس کس قانونی دفعہ یا تفتیشی ضرورت کے تحت دیے گئے ہیں اور آیا یہ افراد بطور گواہ، شکایت کنندہ یا کسی اور حیثیت میں طلب کیے گئے ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ عثمان کی موت کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تفتیش کے ساتھ ساتھ کیس کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں کی آزادی اور قانونی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔تاحال پولیس کی جانب سے صحافی شاہد اختر اعوان اور دیگر افراد کو مبینہ طور پر دیے گئے نوٹس کے حوالے سے کوئی تفصیلی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔
25
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل