143

صحافت کا اگلا بحران: سامعین پر اختیار کس کا ہوگا؟

خصوصی رپورٹ۔۔۔
صحافت کو گزشتہ دو دہائیوں میں کئی بڑے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پہلے اخبارات کی سرکولیشن کم ہوئی، پھر اشتہارات پر گوگل اور فیس بک جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی گرفت مضبوط ہوئی، اس کے بعد سوشل میڈیا نے خبروں کی تقسیم کا طریقہ بدل دیا۔ اب مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence صحافت اور خبر تک رسائی کے پورے نظام کو ایک نئی شکل دے رہی ہے۔ لیکن صحافت کے سامنے اب جو بنیادی سوال کھڑا ہے، وہ شاید ان تمام مسائل سے زیادہ اہم ہے: آخر سامعین یعنی Audience پر اختیار کس کا ہوگا؟
ماضی میں صورتحال نسبتاً سادہ تھی۔ اخبار شائع ہوتا تھا تو قاری اخبار خریدتا تھا، ٹی وی چینل خبر نشر کرتا تھا تو ناظر اسی چینل کا رخ کرتا تھا۔ میڈیا ادارہ خبر بھی تیار کرتا تھا، اسے تقسیم بھی کرتا تھا اور اپنے قارئین یا ناظرین کے ساتھ براہِ راست تعلق بھی رکھتا تھا۔
ڈیجیٹل دور نے اس تعلق کے درمیان کئی نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
آج ایک خبر کسی نیوز ویب سائٹ سے زیادہ Facebook، YouTube، TikTok، Instagram، X، Google Discover یا کسی AI chatbot کے ذریعے لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ یوں خبر بنانے والا ادارہ اور خبر پڑھنے والا شخص ایک دوسرے سے براہِ راست جڑے رہنے کے بجائے کسی تیسرے پلیٹ فارم کے ذریعے جڑ رہے ہیں۔
خبر میڈیا کی، سامعین پلیٹ فارم کے
یہی موجودہ بحران کا بنیادی نکتہ ہے۔
ایک نیوز ادارہ اپنے وسائل استعمال کرکے رپورٹر رکھتا ہے، خبر حاصل کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے، ویڈیو بناتا ہے اور اسے شائع کرتا ہے، لیکن اس خبر کو کتنے لوگ دیکھیں گے، یہ فیصلہ بڑی حد تک Facebook، Google، YouTube یا TikTok کے الگورتھم کرسکتے ہیں۔
Reuters Institute کی Digital News Report 2026 کے مطابق پہلی مرتبہ عالمی سطح پر سوشل میڈیا اور ویڈیو نیٹ ورکس خبر حاصل کرنے کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ بن گئے ہیں۔ سروے میں شامل 48 مارکیٹس میں تقریباً 54 فیصد افراد سوشل اور ویڈیو پلیٹ فارمز کے ذریعے خبریں حاصل کرتے ہیں، جبکہ نیوز اداروں کی اپنی ویب سائٹس اور ایپس استعمال کرنے والوں کی شرح 51 فیصد ہے۔
یہ محض ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں بلکہ طاقت کی منتقلی ہے۔
اگر کسی اخبار کے دس لاکھ سبسکرائبرز ہوں تو ادارے کا ان کے ساتھ براہِ راست تعلق موجود ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی میڈیا ادارے کے YouTube پر دس لاکھ سبسکرائبرز یا Facebook پر دس لاکھ فالوورز ہیں، تو حقیقت میں ان سامعین تک رسائی پلیٹ فارم کی شرائط کے تابع ہے۔
الگورتھم بدلے تو Reach کم ہوسکتی ہے۔ اکاؤنٹ معطل ہو تو لاکھوں افراد سے رابطہ اچانک ختم ہوسکتا ہے۔ کسی خاص قسم کے مواد کو پلیٹ فارم کم اہمیت دینے لگے تو برسوں میں بنائی گئی آڈیئنس چند مہینوں میں غیر مؤثر ہوسکتی ہے۔
صحافت اب خبر کے ساتھ توجہ کی جنگ بھی ہے
ڈیجیٹل میڈیا میں اصل کرنسی صرف خبر نہیں بلکہ Attention یعنی انسانی توجہ ہے۔
ایک نیوز اسٹوری اب صرف دوسری نیوز اسٹوری سے مقابلہ نہیں کررہی۔ وہ Netflix، YouTube vlog، TikTok، gaming، podcasts، memes، influencers اور entertainment content سے بھی مقابلہ کررہی ہے۔
Reuters Institute کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 77 فیصد افراد ہفتے میں کسی نہ کسی شکل میں آن لائن نیوز ویڈیو دیکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ویڈیو کی بڑھتی ہوئی کھپت زیادہ تر نیوز اداروں کی اپنی ویب سائٹس کے بجائے تیسرے فریق کے پلیٹ فارمز پر ہورہی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صحافت کے روایتی اصولوں کے ساتھ اب algorithmic logic بھی کام کررہی ہے۔
سوشل میڈیا پر وہ مواد زیادہ پھیل سکتا ہے جس پر لوگ فوری ردعمل دیں، جس کی thumbnail زیادہ جذباتی ہو، headline زیادہ تجسس پیدا کرے یا جس پر comments اور shares زیادہ آئیں۔ نتیجتاً بعض اوقات ایک پیچیدہ مگر اہم تحقیقاتی رپورٹ کے مقابلے میں جذباتی یا سنسنی خیز مواد زیادہ لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خبر کی اہمیت کا تعین ایڈیٹر کے بجائے engagement algorithm کرے گا تو معاشرے کا news agenda کون طے کرے گا؟
صحافی بمقابلہ نیوز کریئیٹر
Audience Control کی جنگ کا ایک نیا فریق individual creators بھی ہیں۔
ماضی میں صحافی عموماً کسی اخبار، ٹی وی چینل یا میڈیا ادارے کے ذریعے شناخت حاصل کرتا تھا۔ آج ایک صحافی YouTube channel، newsletter، podcast یا social media account کے ذریعے اپنی ذاتی audience بنا سکتا ہے۔
Reuters Institute کی 2026 رپورٹ کے مطابق تقریباً 27 فیصد افراد نے ایک ہفتے کے دوران خبر پر توجہ مرکوز کرنے والے individual creators یا influencers سے نیوز مواد حاصل کیا۔ بہت سے صارفین creators کو روایتی میڈیا کے مقابلے میں زیادہ relatable، آسان اور دلچسپ سمجھتے ہیں، اگرچہ اعتماد اور غیر جانب داری کے معاملے میں روایتی صحافت اب بھی اہم مقام رکھتی ہے۔
یہ رجحان میڈیا اداروں کے لیے ایک اور چیلنج پیدا کرتا ہے۔
اگر سامعین ادارے کے بجائے کسی مخصوص صحافی کے وفادار ہوجائیں تو اصل برانڈ کون ہے؟ اخبار، یا صحافی؟
اور اگر وہ صحافی ادارہ چھوڑ کر اپنی newsletter یا YouTube channel شروع کردے تو audience کس کے ساتھ جائے گی؟
AI اس بحران کو مزید گہرا کرسکتی ہے
اس بحث میں سب سے نیا کردار Artificial Intelligence ہے۔
اب تک سرچ انجن صارف کو کسی خبر کا لنک دکھاتے تھے اور وہ نیوز ویب سائٹ پر جاکر پوری خبر پڑھتا تھا۔ لیکن AI chatbot براہِ راست سوال کا جواب دے سکتا ہے۔
مثلاً صارف پوچھ سکتا ہے:
“آج تیل کی قیمت کیوں گری؟”
AI مختلف ذرائع سے معلومات لے کر چند سیکنڈ میں خلاصہ دے سکتی ہے۔ ممکن ہے صارف اصل خبر شائع کرنے والے ادارے کی ویب سائٹ تک جائے ہی نہ۔
Reuters Institute کے مطابق 2026 میں تقریباً 10 فیصد افراد ہفتہ وار AI chatbots کو نیوز کے لیے استعمال کررہے ہیں، جبکہ 35 سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح تقریباً 16 فیصد ہے۔
یہاں صحافت کے کاروباری ماڈل کے لیے ایک بنیادی مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
اگر تحقیق میڈیا ادارہ کرے، معلومات رپورٹر حاصل کرے، خبر newsroom تیار کرے، لیکن آخری صارف کو اس کا جواب AI platform دے تو اصل معاشی فائدہ کس کو ملے گا؟
یہ سوال آنے والے برسوں میں copyright، licensing، advertising اور subscriptions کی بحث کا مرکز بن سکتا ہے۔
اپنی Audience بنانا کیوں ضروری ہے؟
اسی وجہ سے دنیا کے بہت سے میڈیا ادارے اب صرف زیادہ سے زیادہ views حاصل کرنے کے بجائے Direct Audience Relationship پر توجہ دے رہے ہیں۔
اس حکمت عملی میں newsletters، mobile apps، paid subscriptions، registered users، podcasts، memberships اور direct communities اہم ہیں۔
اسے میڈیا انڈسٹری میں first-party relationship بھی کہا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر Facebook کا follower پلیٹ فارم کے اندر موجود تعلق ہے، لیکن اگر وہی شخص کسی نیوز ادارے کی email newsletter subscribe کرتا ہے تو ادارے کے پاس اس تک پہنچنے کا زیادہ براہِ راست ذریعہ موجود ہوتا ہے۔
اسی طرح دس لاکھ غیر مستقل social-media views کے مقابلے میں ایک لاکھ انتہائی وفادار subscribers بعض اوقات کاروباری لحاظ سے زیادہ قیمتی ہوسکتے ہیں۔
Reuters Institute کی تازہ تحقیق بھی اشارہ کرتی ہے کہ publishers اب محض وسیع reach کے بجائے نسبتاً چھوٹی مگر زیادہ وفادار اور engaged audience کی قدر پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
مسئلہ صرف کاروبار کا نہیں، جمہوریت کا بھی ہے
Audience Control کا معاملہ صرف میڈیا کمپنیوں کے منافع تک محدود نہیں۔
صحافت جمہوری معاشروں میں معلومات کی فراہمی، حکمرانوں کے احتساب، عوامی مباحثے اور حقیقت کی تصدیق کا بنیادی ذریعہ ہے۔
اگر خبر تک رسائی کے دروازوں پر چند عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں، algorithms یا AI systems کا غیر معمولی اختیار قائم ہوجاتا ہے تو اس کے اثرات پورے information ecosystem پر پڑ سکتے ہیں۔
کون سی خبر لوگوں تک پہنچے گی؟
کون سی خبر دب جائے گی؟
کون سا ذریعہ معتبر سمجھا جائے گا؟
اور جھوٹی خبر اور مستند صحافت میں فرق کون کرے گا؟
یہ سوال اب صرف newsroom کے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے سوال ہیں۔
صحافت کا مستقبل: پلیٹ فارم پر موجود رہیں، مگر ان کے محتاج نہ ہوں
مستقبل کی کامیاب نیوز آرگنائزیشن شاید وہ ہوگی جو سوشل میڈیا اور AI سے جنگ کرنے کے بجائے انہیں distribution tools کے طور پر استعمال کرے، لیکن اپنی پوری audience ان کے حوالے نہ کردے۔
YouTube، TikTok، Facebook اور AI systems نئی audience تلاش کرنے کے بہترین ذرائع رہیں گے، مگر اس audience کو آہستہ آہستہ اپنی website، app، newsletter، membership یا community کے ذریعے براہِ راست تعلق میں تبدیل کرنا ضروری ہوگا۔
یوں آنے والی صحافتی جنگ صرف یہ نہیں ہوگی کہ سب سے پہلے خبر کون دیتا ہے یا سب سے اچھی خبر کون بناتا ہے۔
اصل مقابلہ یہ بھی ہوگا کہ:
خبر پڑھنے والے شخص کے ساتھ مستقل تعلق کس کا ہے؟
کیونکہ ڈیجیٹل دور میں جس کے پاس audience کے ساتھ براہِ راست تعلق ہوگا، اسی کے پاس distribution، revenue، influence اور بالآخر صحافت کے مستقبل پر زیادہ اختیار ہوگا۔

اسی لیے صحافت کا اگلا بڑا بحران شاید خبر پیدا کرنے کا نہیں، بلکہ یہ طے کرنے کا ہے کہ خبر سننے والی audience آخر کس کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں