نظریاتی صحافت اب کمرشل صحافت میں تبدیل ۔۔ 64

نظریاتی صحافت اب کمرشل صحافت میں تبدیل ۔۔

تحریر: سید بدر سعید
پہلے میڈیا ہاؤسز کے مالک نظریاتی سیاسی تنظیموں کے راہنما تھے ۔۔۔۔ اس دور میں تنخواہیں لیٹ ملتی تھیں ۔ مولانا ظفر علی خان کے زمیندار میں بھی تنخواہوں کی ادائیگی تاخیر کا شکار رہتی تھی
پھر میڈیا ہاؤسز میں ٹاپ بزنس مین آئے ۔ ان میں سے اکثر اداروں کے حالات بہتر رہے۔ داؤد ، سہگل ، نصیر اے شیخ اور چودھری ظہور الٰہی سمیت دیگر نے اخبارات شائع کیے
تیسرے مرحلے میں تعلیمی اداروں کے مالکان اس میدان میں اترے ۔ دی نیشنل کالج (یونیورسٹی آف ساوتھ ایشیا ) کے مالک محمود صادق نے روزنامہ دن ، پنجاب کالج کے مالک میاں عامر نے روزنامہ دنیا اور دنیا ٹی وی ، سپیریئر کالجز کے مالک چودھری عبد الرحمن نے روزنامہ نئی بات اور نیو ٹی وی ، یونیورسٹی آف لاہور کے مالک ایم اے رؤف نے روزنامہ جہان پاکستان ، امپیریل کالج و یونیورسٹی کے کالج منور احمد نے روزنامہ سما خرید لیا ۔۔
اس وقت نظریاتی مالکان شاید ہی رہے ہیں ۔ اب میڈیا ہاؤسز کمرشل بنیادوں پر ہیں ۔ بزنس گروپس اور تعلیمی اداروں کے بعد پراپرٹی ڈویلپرز بھی اس میدان میں آ چکے ہیں ۔ علیم خان نے پہلے روزنامہ وقت خریدا تھا جو خاکسار تحریک کا ترجمان ہوتا تھا ، پھر لاہور کے ایک تحسین دواخانہ والے حکیم صاحب نے خریدا اور پھر علیم خان نے خرید لیا ۔
ٹی وی چینلز میں پراپرٹی بزنس اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مالکان آ گئے ۔ پارک ویو کے مالک علیم خان اس وقت سما ٹی وی کے مالک ہیں ۔ الرحمان گارڈن کے مالک میاں مشتاق پبلک نیوز کے بھی مالک ہیں ۔ الکبیر ٹاؤن کے مالکان چودھری اورنگ زیب نیوز ون ، ٹی وی ون اور وسیب ٹی وی کے مالک ہیں ۔ بسم اللہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک 89 نیوز ٹی وی کے مالک ہیں ۔سول سٹی کے مالکان ایک نیوز کے مالک ہیں۔ لیک سٹی کے گوہر اعجاز بھی ایک بڑے میڈیا گروپ میں شراکت دار ہیں ۔ بلیو ورلڈ سٹی کے مالک سعد نذیر سنو ٹی وی کے بھی مالک ہیں ۔ نیو لاہور سٹی / زیتون گروپ سے وابستہ پارٹنرز لاہور رنگ کے ساتھ منسلک ہیں۔سندھ میں مضافاتی زمینوں اور کالونیوں کے لوکل ڈویلپرز سندھی چینل دھرتی ٹی وی کے شراکت دار ہیں۔
نظریاتی صحافت اب تقریبا ختم ہو گئی ہے ۔ یہ میڈیا ورکرز کی حد تک ممکن ہے چل رہی ہو لیکن جہاں مالکان گیٹ کیپر ہیں وہاں نظریاتی صحافت کمرشل صحافت میں تبدیل ہو چکی ہے
بدقسمتی سے اس وقت پراپرٹی بزنس اور فیکٹری مالکان کے میڈیا ہاؤسز میں بھی میڈیا ورکرز کے حالات اچھے نہیں ہیں ۔ میڈیا مالکان ہمیشہ سے کاروباری شخصیات یا سرمایہ دار طبقہ کی رہا ہے کیونکہ میڈیا ہاؤس چلانے کے لیے بڑی انویسٹمنٹ درکار ہوتی ہے البتہ جب جب ایڈیٹر کو اس کے مکمل اختیارات دیے جاتے رہے تب تک میڈیا کی ساکھ برقرار رہی ۔جب ایڈیٹر کے اختیارات مالکان نے استعمال کرنا شروع کیے تب تب ادارے اپنی ساکھ کھونے لگے ۔۔(سید بدرسعید)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں