خصوصی رپورٹ۔۔۔
پاکستان میں آزادیٔ اظہار، صحافتی آزادی اور ڈیجیٹل حقوق پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے کراچی میں ایک اہم راؤنڈ ٹیبل اجلاس منعقد کیا، جس میں ملک گیر سطح پر آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے وسیع اتحاد قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ایچ آر سی پی کے مطابق 19 اگست 2026 کو کراچی میں ہونے والی اس نشست کا بنیادی مقصد مختلف حلقوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے آزادیٔ اظہار کے دفاع کے لیے اجتماعی حکمت عملی تشکیل دینا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے افراد کی جانب سے سائبر کرائم قوانین، میڈیا ریگولیشن، آن لائن مواد پر پابندیوں اور صحافتی سرگرمیوں پر انتظامی رکاوٹوں کے حوالے سے مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
قومی اتحاد بنانے پر زور
ایچ آر سی پی کی آزادیٔ اظہار کے لیے قومی اتحاد کی کوشش کوئی اچانک سامنے آنے والا اقدام نہیں بلکہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران کمیشن کی جانب سے مختلف شہروں میں ہونے والی مشاورت اور راؤنڈ ٹیبلز کا تسلسل ہے۔ جنوری 2025 میں اسلام آباد میں ایچ آر سی پی کے زیر اہتمام ایک مشاورتی اجلاس کے اختتام پر آزادیٔ اظہار کے لیے ایک وسیع اتحاد بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، ایچ آر سی پی، اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل، ڈیجیٹل میڈیا الائنس آف پاکستان، فریڈم نیٹ ورک، ارادہ، وجہ اور بولو بھی سمیت مختلف اداروں کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
اس اتحاد کا بنیادی تصور یہ رہا ہے کہ آزادیٔ اظہار کا معاملہ صرف روایتی میڈیا یا صحافیوں تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا صارفین، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا، سیاسی کارکنوں، ڈیجیٹل کریئیٹرز اور عام شہریوں کے بنیادی حقوق سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔
دسمبر 2025 میں ایچ آر سی پی کے ایک اور راؤنڈ ٹیبل میں بھی شرکا نے ایک وسیع سول سوسائٹی اتحاد قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نشست میں بالخصوص پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، یعنی پیکا، اور اس میں ہونے والی ترامیم کے اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ قانونی جدوجہد کے ساتھ ساتھ عوامی مباحثے اور اجتماعی مزاحمت کی بھی ضرورت ہے۔
پیکا آزادیٔ اظہار کی بحث کا مرکز
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران آزادیٔ اظہار سے متعلق بحث کا بڑا حصہ پیکا اور خصوصاً 2025 میں کی جانے والی ترامیم کے گرد گھومتا رہا ہے۔ ایچ آر سی پی پہلے بھی پیکا کی ان شقوں پر تحفظات ظاہر کر چکا ہے جن کے تحت مبینہ طور پر جھوٹی یا غلط معلومات کی اشاعت کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
ایچ آر سی پی کا مؤقف رہا ہے کہ غلط معلومات اور آن لائن نقصان دہ مواد سے نمٹنا ضروری ہے، تاہم قانون میں مبہم اصطلاحات یا وسیع اختیارات ایسے انداز میں استعمال نہیں ہونے چاہییں جو ریاستی اداروں پر تنقید، سیاسی اختلاف یا صحافتی کام کو جرم میں تبدیل کردیں۔ جولائی 2025 کے ایک قومی راؤنڈ ٹیبل میں بھی صحافیوں، وکلا اور ڈیجیٹل رائٹس ماہرین نے پیکا اور ڈیجیٹل آزادیوں پر پابندیوں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔
ایچ آر سی پی کی 2025 کے انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق سالانہ رپورٹ، جو مئی 2026 میں جاری ہوئی، میں بھی کہا گیا کہ اظہارِ رائے، خصوصاً حکام سے سوال کرنے اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے کی آزادی شدید دباؤ میں رہی، جبکہ پیکا کی ترامیم، بغاوت اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قوانین کے استعمال نے صحافیوں، کارکنوں اور وکلا کے لیے ماحول مزید مشکل بنایا۔
صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر دباؤ
کراچی میں ہونے والا تازہ راؤنڈ ٹیبل ایک ایسے مرحلے پر منعقد ہوا ہے جب ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پاکستان میں آزادیٔ اظہار کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اگست 2026 کے آغاز میں ARTICLE 19، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایچ آر سی پی، بولو بھی، ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن اور دیگر تنظیموں نے حکومت پاکستان کو مشترکہ خط میں صحافیوں، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف مبینہ قانونی اور انتظامی دباؤ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ تنظیموں نے پیکا کے تحت صحافیوں کو جاری ہونے والے نوٹسز، بعض صحافیوں پر مبینہ ادارہ جاتی دباؤ، انٹرنیٹ کی بندش اور میڈیا تک رسائی کی پابندیوں کو آزادیٔ اظہار کے لیے تشویش کا باعث قرار دیا۔
مشترکہ مطالبات میں پیکا کی مبہم دفعات کا جائزہ لینے، صحافتی یا انسانی حقوق سے متعلق جائز سرگرمی کو فوجداری کارروائی کا نشانہ نہ بنانے، میڈیا اداروں پر غیر رسمی دباؤ ختم کرنے اور آزادیٔ اظہار سے متعلق قوانین و پالیسیوں کو پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق بنانے پر زور دیا گیا۔
غیر ملکی صحافیوں کے لیے نئی ہدایات بھی زیرِ بحث ماحول کا حصہ
آزادیٔ صحافت سے متعلق حالیہ تشویش میں حکومت کی Foreign Media Facilitation Guidelines 2026 بھی شامل ہیں۔ ان ہدایات کے تحت غیر ملکی صحافیوں کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر رپورٹنگ کے لیے پیشگی اجازت درکار ہوتی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ان قواعد کا مقصد غیر ملکی میڈیا کے لیے ایک واضح اور منظم فریم ورک فراہم کرنا ہے، جبکہ ایچ آر سی پی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قسم کی شرائط آزاد رپورٹنگ میں انتظامی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
ایچ آر سی پی نے رواں ماہ ان ہدایات کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ صحافیوں سے ملک کے بڑے حصوں میں رپورٹنگ کے لیے ریاستی منظوری طلب کرنا آزاد صحافت کے ماحول کو مزید محدود کرسکتا ہے۔
آزادیٔ اظہار اور غلط معلومات میں توازن
ایچ آر سی پی اور دیگر حقوق تنظیموں کے مباحثوں میں یہ نکتہ بھی سامنے آتا رہا ہے کہ آزادیٔ اظہار کا دفاع کرنے کا مطلب نفرت انگیز تقریر، ہراسانی، تشدد پر اکسانے یا دانستہ غلط معلومات کے مسئلے کو نظرانداز کرنا نہیں ہے۔
جولائی 2025 کی قومی مشاورت میں ایچ آر سی پی کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق نے اس فرق پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ نفرت انگیز تقریر، آن لائن ہراسانی اور تشدد پر اکسانے جیسے معاملات کو ریگولیٹ کیا جانا چاہیے، لیکن ریاستی پالیسیوں پر تنقید اور سیاسی اختلاف کو اس دائرے میں نہیں لایا جانا چاہیے۔
اسی لیے آزادیٔ اظہار کے مجوزہ قومی اتحاد کے سامنے ایک اہم چیلنج یہ بھی ہوگا کہ وہ ایک ایسا مشترکہ ایجنڈا مرتب کرے جو ایک طرف آزاد صحافت، سیاسی اختلاف، ڈیجیٹل حقوق اور شہری آزادیوں کی حفاظت کرے اور دوسری طرف غلط معلومات اور نقصان دہ آن لائن مواد سے متعلق جائز خدشات کے لیے حقوق پر مبنی اور متناسب حل پیش کرے۔
قانونی جدوجہد کے ساتھ اجتماعی آواز کی ضرورت
ایچ آر سی پی کی گزشتہ مشاورتوں میں یہ رائے بھی سامنے آ چکی ہے کہ آزادیٔ اظہار کے مقدمات میں صرف عدالتوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ دسمبر 2025 کے اجلاس میں وکلا اور صحافیوں نے مربوط قانونی چارہ جوئی، پیکا سے متعلق مقدمات کے لیے شواہد پر مبنی حکمت عملی اور ضرورت مند متاثرین کے لیے پرو بونو قانونی ٹیموں کے قیام کی تجویز دی تھی۔
ساتھ ہی شرکا نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ باضابطہ مکالمے اور ایسے قوانین کے خلاف وسیع عوامی مباحثے کی ضرورت پر زور دیا تھا جو آزادیٔ اظہار کو محدود کرتے ہیں۔
اسی پس منظر میں کراچی میں 19 اگست کو ہونے والا تازہ اجلاس اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ایچ آر سی پی کی جانب سے قومی سطح پر آزادیٔ اظہار کے اتحاد کی تشکیل کی کوشش اگر عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے ذریعے صحافتی تنظیموں، بار ایسوسی ایشنز، ڈیجیٹل رائٹس گروپس، انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی کے دیگر حلقوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آسکتا ہے۔
آگے کا راستہ
پاکستان میں آزادیٔ اظہار سے متعلق موجودہ بحث اب صرف ایک قانون یا میڈیا کے کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہی۔ روایتی میڈیا، ڈیجیٹل صحافت، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ تک رسائی، صحافیوں کی نقل و حرکت، سائبر کرائم قوانین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل بن چکے ہیں۔
کراچی میں ایچ آر سی پی کی تازہ کوشش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حقوق کی تنظیمیں اب ان معاملات پر الگ الگ ردعمل دینے کے بجائے ایک مشترکہ قومی پلیٹ فارم اور مستقل حکمت عملی کی طرف بڑھنا چاہتی ہیں۔ آئندہ مرحلے میں اس ممکنہ اتحاد کی ساخت، رکن تنظیموں، مشترکہ چارٹر آف ڈیمانڈز اور حکومت و پارلیمان کے ساتھ مذاکرات کے طریقۂ کار کا تعین اس کی عملی افادیت کے لیے اہم ہوگا۔
آزادیٔ اظہار کے حامی حلقوں کے نزدیک اصل امتحان صرف اتحاد قائم کرنا نہیں بلکہ مختلف صحافتی، قانونی اور سول سوسائٹی گروہوں کو ایک ایسے قابلِ عمل ایجنڈے پر متفق کرنا ہوگا جو آئینی آزادیوں کے تحفظ، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی سلامتی، ڈیجیٹل حقوق اور ذمہ دارانہ اظہار کے درمیان مؤثر توازن قائم کرسکے۔(خصوصی رپورٹ)۔۔۔