خصوصی رپورٹ۔۔
پاکستان میں صحافیوں کے خلاف سائبر کرائم تحقیقات، بار بار جاری کیے جانے والے نوٹسز اور قانونی طریقۂ کار سے متعلق تنازعات ایک ایسے رجحان کی صورت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں جس کے تحت صحافیوں پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ متعدد مقدمات میں عدالتوں نے مداخلت کرتے ہوئے قانونی تقاضوں، شفاف تحقیقات اور طریقۂ کار سے متعلق اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ معاملات ٹیلی ویژن، ڈیجیٹل میڈیا، آن لائن نیوز پلیٹ فارمز اور سیاسی تبصرے سے وابستہ صحافیوں سے متعلق ہیں، جن کے باعث پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اختیارات اور ان کے صحافتی سرگرمیوں پر اطلاق پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔تاہم ان تحقیقات یا عدالتی کارروائیوں کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ صحافیوں پر عائد الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ تمام الزامات اور دعوے متعلقہ اداروں اور عدالتوں کے سامنے زیرِ غور ہیں۔
پریس فریڈم ٹریکر میں قانونی دباؤ کی نشاندہی
جرنلزم پاکستان کی جانب سے 9 اگست کو جاری کیے گئے پریس فریڈم ٹریکر میں بھی قانونی اور ریگولیٹری دباؤ کو پاکستان میں صحافت کو درپیش اہم چیلنجز میں شامل کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں صحافیوں کو جاری ہونے والے این سی سی آئی اے کے نوٹسز، عدالتی کارروائیوں اور سائبر کرائم قوانین کے صحافیوں پر اطلاق سے پیدا ہونے والے خدشات کا ذکر کیا گیا۔
4 اگست کو رپورٹ کیے گئے ایک معاملے میں صحافی اعزاز سید اور اسد علی طور نے این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے تھے۔
اعزاز سید کے مطابق انہیں دو دن کے اندر دو نوٹس موصول ہوئے، تاہم ان میں ان کے خلاف الزامات کی واضح تفصیل موجود نہیں تھی۔اسد طور نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں چند گھنٹوں کے دوران دو نوٹسز جاری کیے گئے اور جواب دینے کے لیے انتہائی محدود وقت فراہم کیا گیا۔جرنلزم پاکستان کے مطابق اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ اسد طور کی جانب سے پہلے جمع کرایا گیا تحریری جواب متعلقہ تفتیشی افسر نے قبول نہیں کیا تھا۔
دونوں صحافیوں کے معاملات کی نوعیت مختلف تھی، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ این سی سی آئی اے نے دونوں کیسز میں ایک ہی طریقۂ کار اپنایا۔ تاہم دونوں صحافیوں کی جانب سے اٹھایا جانے والا بنیادی سوال الزامات کی وضاحت اور جواب دینے کے لیے مناسب وقت سے متعلق تھا۔
اسد طور کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا
اسد طور کا معاملہ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچا۔این سی سی آئی اے نے انہیں 29 جولائی کو پیکا کی دفعہ 26 اے کے تحت مبینہ طور پر جھوٹی یا جعلی معلومات پھیلانے، منتقل کرنے یا عوامی سطح پر نشر کرنے کے الزام سے متعلق انکوائری کے لیے طلب کیا تھا۔نوٹس کے مطابق اسد طور کو 31 جولائی کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔6 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ تحقیقات کے دوران اسد طور کو ہراساں نہ کیا جائے۔عدالت نے متعلقہ تفتیشی افسر کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔سماعت کے دوران اسد طور کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ صحافی تحقیقات میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہیں گرفتاری کا خدشہ ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ آخر وہ کون سی مخصوص خبر یا رپورٹ ہے جسے جھوٹا قرار دیا جا رہا ہے؟وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی طبی حالت سے متعلق ایک رپورٹ سے جڑی ہوئی ہیں۔اس سے قبل اسد طور نے این سی سی آئی اے کے نوٹس کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، جس پر عدالت نے ادارے کو الزامات کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔عدالت کی مداخلت کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی الزام درست یا غلط قرار دے دیا گیا ہے، بلکہ اس سے ایک الگ اور اہم قانونی سوال سامنے آیا ہے کہ زیرِ تفتیش صحافی کو الزام کی مکمل اور واضح تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں یا نہیں اور کیا اسے مؤثر جواب دینے کا مناسب موقع دیا جا رہا ہے۔
عمران شفقت کیس، این سی سی آئی اے کے دائرہ اختیار پر سوال
صحافی عمران شفقت سے متعلق ایک اور کیس میں بھی طریقۂ کار اور قانونی دائرہ اختیار کا سوال سامنے آیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے ملتان کو عمران شفقت کے خلاف تادیبی کارروائی سے روکتے ہوئے ان کی درخواست پر سماعت کی، جس میں ایجنسی کے علاقائی دائرہ اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے۔عمران شفقت کی قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ این سی سی آئی اے ملتان نے لاہور کے رہائشی کے خلاف کارروائی شروع کرکے اپنے مقررہ علاقائی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔جرنلزم پاکستان کے مطابق ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔عمران شفقت نے بعد ازاں اپنے وکلا کے ذریعے تحریری جواب بھی جمع کرایا، جس میں انہوں نے دائرہ اختیار سے متعلق اعتراض برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ان کی نیوز رپورٹنگ، تجزیہ اور تبصرہ آئینی تحفظ کے دائرے میں آتے ہیں۔لاہور ہائیکورٹ میں اس معاملے کی مزید سماعت 12 اگست کو مقرر ہے۔
پیکا کی دفعہ 26 اے کیا ہے؟
ان مقدمات کا قانونی پس منظر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) ایکٹ 2025 ہے، جس کے ذریعے پیکا میں دفعہ 26 اے شامل کی گئی جبکہ این سی سی آئی اے کو قانون کے تحت جرائم کی تحقیقات کرنے والا ادارہ بنایا گیا۔ دفعہ 26 اے کے تحت کسی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے ایسی معلومات کو جان بوجھ کر پھیلانا، نشر کرنا یا عوامی سطح پر پیش کرنا جرم ہے، جن کے بارے میں متعلقہ شخص جانتا ہو یا اسے یہ یقین کرنے کی معقول وجہ ہو کہ وہ معلومات جھوٹی یا جعلی ہیں اور ان کے نتیجے میں عوام یا معاشرے میں خوف، گھبراہٹ، انتشار یا بدامنی پیدا ہونے کا امکان ہے۔اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
یہ قانون صرف صحافیوں تک محدود نہیں بلکہ عمومی طور پر تمام آن لائن صارفین پر لاگو ہو سکتا ہے۔تاہم صحافت کے تناظر میں یہ قانون اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب کسی نیوز رپورٹ، سیاسی تبصرے یا صحافتی مواد کو اسی دفعہ کے تحت تحقیقات کا موضوع بنایا جائے۔
قانونی کارروائی اور صحافتی آزادی میں توازن کا سوال
یہ فرق اہم ہے کہ سائبر کرائم کی تحقیقات غیر قانونی آن لائن سرگرمیوں، جان بوجھ کر گھڑی گئی جعلی معلومات، فراڈ، ہراسانی یا دیگر جرائم کے خلاف قانونی طور پر کی جا سکتی ہیں۔
تاہم جب تحقیقات کا مرکز کوئی صحافی ہو اور زیرِ تفتیش مواد نیوز رپورٹنگ یا سیاسی تجزیے سے متعلق ہو تو تحقیقات کا طریقۂ کار بھی صحافی کی پیشہ ورانہ آزادی پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب الزامات واضح نہ ہوں یا گرفتاری اور دیگر تادیبی اقدامات کا خدشہ موجود ہو۔
حالیہ مقدمات نے اس بنیادی سوال کو نمایاں کیا ہے کہ سائبر کرائم قوانین کے تحت صحافیوں سے تحقیقات کرتے وقت کون سے قانونی اور طریقۂ کار کے تحفظات یقینی بنائے جانے چاہییں۔اسد طور کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی توجہ الزام کی تفصیلات اور تحقیقات کے طریقۂ کار پر رہی۔عمران شفقت کے کیس میں بنیادی مسئلہ این سی سی آئی اے کے علاقائی دائرہ اختیار کا ہے۔جبکہ اعزاز سید اور اسد طور کو جاری ہونے والے نوٹسز کے معاملے میں صحافیوں نے الزامات کی غیر واضح نوعیت اور جواب دینے کے لیے فراہم کیے جانے والے محدود وقت پر اعتراض کیا۔
اگرچہ یہ مختلف قانونی سوالات ہیں، تاہم مجموعی طور پر یہ مقدمات اس بات کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں کہ تحقیقات کے دوران مناسب قانونی تحفظات موجود ہونے چاہییں۔ایک صحافی ایسے الزام کا مؤثر جواب نہیں دے سکتا جس کی نوعیت اور تفصیلات اسے واضح طور پر فراہم نہ کی گئی ہوں، جبکہ کسی ایسے ادارے کی جانب سے تحقیقات جسے قانونی دائرہ اختیار ہی حاصل نہ ہو، الگ قانونی سوال پیدا کرتی ہے۔
عدالتی نگرانی اہم تحفظ بن رہی ہے
حالیہ عدالتی مداخلت سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ محض این سی سی آئی اے کی جانب سے تحقیقات شروع ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ادارے کے اقدامات کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔عدالتی نظرثانی صحافیوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ تحقیقات کے قانونی جواز، طریقۂ کار، دائرہ اختیار یا دیگر اقدامات کو عدالت میں چیلنج کر سکیں۔
جرنلزم پاکستان کے 9 اگست کے پریس فریڈم ٹریکر میں ان مقدمات کو پاکستان میں صحافت پر بڑھتے ہوئے قانونی اور ریگولیٹری دباؤ کے وسیع تناظر میں دیکھا گیا تھا۔رپورٹ میں این سی سی آئی اے کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹنگ سے متعلق نئی پابندیوں اور صحافیوں کے کام کو متاثر کرنے والی دیگر پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق پریس فریڈم صرف گرفتاریوں اور براہِ راست سنسرشپ کا مسئلہ نہیں، بلکہ صحافت کے لیے موجود قانونی اور انتظامی ماحول بھی آزادیٔ صحافت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
ڈیجیٹل صحافت اور سائبر کرائم قوانین
حالیہ سائبر کرائم مقدمات اسی نکتے کو نمایاں کرتے ہیں۔انفرادی طور پر یہ مقدمات اس بات کا ثبوت نہیں کہ پاکستان میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی نئی ملک گیر پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ صحافیوں سے متعلق ہر این سی سی آئی اے تحقیقات غیر قانونی یا بلاجواز ہے۔تاہم ایسے مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد اس امر کا تقاضا ضرور کرتی ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ سائبر کرائم قوانین کا اطلاق میڈیا سے وابستہ افراد پر کس انداز میں کیا جا رہا ہے۔ڈیجیٹل صحافت کے پھیلاؤ نے روایتی اخبار، ٹیلی ویژن نشریات، یوٹیوب کمنٹری اور سوشل میڈیا پوسٹس کے درمیان فرق کو بڑی حد تک کم کر دیا ہے۔صحافی اب اپنی خبریں اور تجزیے ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور انفارمیشن سسٹمز کے ذریعے شائع اور تقسیم کرتے ہیں جو براہِ راست سائبر کرائم قوانین کے دائرے میں آتے ہیں۔
اسی لیے قانون کی وضاحت اور اس کے منصفانہ نفاذ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔پاکستان کو جان بوجھ کر پھیلائی جانے والی جعلی معلومات، آن لائن فراڈ، ہراسانی، سائبر جرائم اور دیگر قابلِ سزا سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔این سی سی آئی اے کو پیکا کے تحت جرائم کی انکوائری، تحقیقات اور قانونی کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔
تاہم آزادیٔ صحافت کا سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی اختیارات جائز صحافتی سرگرمیوں سے ٹکراتے ہیں۔صحافیوں کے لیے ایک قانونی تحقیقات اور ایک دباؤ پیدا کرنے والے تحقیقاتی عمل کے درمیان فرق صرف کیس کے حتمی نتیجے سے طے نہیں ہوتا بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ تحقیقات کس انداز میں کی گئیں۔اہم سوالات میں یہ شامل ہیں کہ آیا الزامات واضح اور مخصوص تھے، متعلقہ ادارے کو قانونی دائرہ اختیار حاصل تھا، صحافی کو جواب دینے کے لیے مناسب وقت دیا گیا اور کیا کسی ممکنہ خلاف ورزی کی صورت میں عدالت سے فوری رجوع ممکن تھا۔
حالیہ عدالتی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں صحافت، سائبر کرائم قوانین اور قانونی طریقۂ کار کا باہمی تعلق اب عدالتی اور قانونی بحث کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔
میڈیا برادری کا بنیادی مؤقف یہ نہیں کہ صحافیوں کو آن لائن سرگرمیوں سے متعلق قوانین سے استثنیٰ دیا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ ان قوانین کا نفاذ اس انداز میں ہو کہ قانون پر عملدرآمد بھی ممکن ہو اور آئین کے تحت صحافت کے لیے ضروری آزادی بھی برقرار رہے۔
عمران شفقت کیس کی آئندہ سماعت اور اسد طور سے متعلق جاری تحقیقات سے مستقبل میں یہ مزید واضح ہو سکتا ہے کہ پاکستانی عدالتیں سائبر کرائم قوانین، منصفانہ قانونی طریقۂ کار اور صحافتی آزادی کے درمیان توازن کو کس انداز میں دیکھتی ہیں۔
فی الحال ابھرتا ہوا رجحان اتنا واضح ضرور ہے کہ اس پر سنجیدہ توجہ دی جائے: پاکستان میں صحافیوں کو درپیش قانونی دباؤ صرف خبروں کی اشاعت پر براہِ راست پابندیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب تحقیقاتی عمل، اس کے قانونی دائرہ اختیار، طریقۂ کار اور حفاظتی تقاضے بھی عدالتی جانچ کا موضوع بن رہے ہیں۔(خصوصی رپورٹ)۔۔۔
151