کیا پیکا ایکٹ پھیکا پڑنے والا ہے؟ 61

صحافیوں پر دباؤ کا نیا رجحان، جولائی میں 6 پیکا کیس درج۔۔

خصوصی رپورٹ۔۔۔۔
پاکستان میں صحافیوں پر دباؤ کے واقعات میں قانونی کارروائیاں اور سائبر کرائم تحقیقات نمایاں ذریعہ بن کر سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رائٹس واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک کی تازہ رپورٹ کے مطابق جولائی میں صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور حقوق کی خلاف ورزیوں کے 11 واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آئے، جن میں سے 6 واقعات پیکا یا این سی سی آئی اے سے متعلق تھے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 6 واقعات پنجاب میں پیش آئے، جبکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں 3، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں ایک، ایک واقعہ ریکارڈ کیا گیا۔ گیارہ میں سے 7 واقعات میں ریاستی عناصر، 3 میں غیر ریاستی عناصر جبکہ ایک واقعے میں دیگر عناصر کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔
فریڈم نیٹ ورک کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں پر دباؤ اب صرف جسمانی حملوں تک محدود نہیں رہا بلکہ قانونی کارروائیاں، سائبر کرائم تحقیقات، گرفتاریوں، ڈیجیٹل دھمکیوں اور سنسرشپ کی صورت میں بھی سامنے آ رہا ہے۔
جولائی میں ریکارڈ کیے گئے واقعات میں 5 ڈیجیٹل میڈیا، 4 الیکٹرانک میڈیا جبکہ 2 پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں سے متعلق تھے۔
رپورٹ میں شامل نمایاں کیسز میں این نیوز کے ایڈیٹر اِن چیف سید ذیشان گیلانی کی 15 جولائی کو نارووال میں گرفتاری بھی شامل ہے۔ انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب عدالت نے پیکا کے تحت درج مقدمے میں ان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ یہ مقدمات مارچ میں نشر ہونے والے ایک پروگرام سے متعلق تھے جس میں مال آف ملتان کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔شکایت میں مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور ذیشان گیلانی اور این نیوز کے خلاف چار پیکا مقدمات درج کیے گئے۔ انہیں 21 جولائی کو بعد از گرفتاری ضمانت مل گئی، تاہم فریڈم نیٹ ورک کے مطابق اس مرحلے پر مطلوبہ ضمانتی مچلکے جمع نہ ہونے کے باعث وہ بدستور حراست میں تھے۔
لیہ میں پریس کلب کے صدر اور لیہ ٹوڈے کے پبلشر محسن عدیل چوہدری اور سچ نیوز کے صحافی ظہور درانی کو لیہ ای کامرس کالج اسکینڈل سے متعلق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا۔ دونوں صحافیوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ان کی رپورٹنگ کے ردعمل میں مقدمے میں شامل کیا گیا۔ دونوں نے عبوری ضمانت حاصل کرلی، جبکہ صحافتی تنظیموں نے معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ جولائی کے دوران این سی سی آئی اے کی کارروائیاں بھی نمایاں رہیں۔ صحافی اور یوٹیوبر عمران شفقت کو 24 جولائی کو درج ہونے والی ایک انکوائری کے سلسلے میں این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر ملتان میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا۔
نوٹس میں ان پر سرکاری اداروں اور عوامی شخصیات کے خلاف مبینہ طور پر غلط، من گھڑت، بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے۔ تاہم یہ نوٹس محض ایک انکوائری کا حصہ تھا اور اس سے کسی جرم کا ثابت ہونا مراد نہیں تھا۔
لاہور رنگ کے رپورٹر اور اینکر محمد اویس کے خلاف بھی ایک رپورٹنگ اسائنمنٹ کے دوران بنائی گئی ویڈیو پر پیکا کے تحت این سی سی آئی اے کارروائی کی درخواست دی گئی۔
اسی طرح اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی فیاض تنولی کو ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران کیے گئے تبصروں کی بنیاد پر آن لائن ہتک عزت سے متعلق شکایت پر این سی سی آئی اے نے طلب کیا۔
صحافی اور یوٹیوبر اسد طور کو بھی 29 جولائی کو پیکا کی دفعہ 26-A کے تحت مبینہ جھوٹی یا جعلی معلومات پھیلانے کی انکوائری میں طلب کیا گیا۔ اسد طور نے شکایت اور زیر تفتیش مواد کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور بعد ازاں نوٹس کو عدالت میں چیلنج کردیا۔ 31 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ مزید کارروائی سے قبل اسد علی طور کو ان کے خلاف الزامات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اس عدالتی حکم کے بعد صحافیوں کے خلاف سائبر کرائم تحقیقات میں قانونی طریقۂ کار اور شفافیت سے متعلق سوالات مزید نمایاں ہوئے۔ بعدازاں 6 اگست کی سماعت کے دوران عدالت نے اسد علی طور کو مزید عبوری تحفظ دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو انہیں ہراساں کرنے سے روک دیا اور متعلقہ افسر کو عدالت میں طلب کرلیا۔
فریڈم نیٹ ورک کے مطابق اسد طور کا کیس اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ یہ معاملہ محض این سی سی آئی اے کے نوٹسز تک محدود نہیں رہا بلکہ اب عدالتیں اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ صحافیوں کے خلاف سائبر کرائم انکوائریاں کس طریقے سے کی جا رہی ہیں۔
تنازع کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ آیا پیکا کے تحت طلب کیے جانے والے صحافیوں کو ان کے خلاف شکایت، الزامات اور شواہد کی اتنی تفصیلات دی جاتی ہیں کہ وہ مؤثر انداز میں اپنا دفاع یا جواب پیش کرسکیں۔
فریڈم نیٹ ورک نے سائبر کرائم تحقیقات سے ہٹ کر بھی صحافیوں پر دباؤ کے کئی واقعات رپورٹ کیے۔ فری لانس صحافی لال وزیر کو ایک احتجاج کے دوران سامنے آنے والے الزامات سے متعلق رپورٹنگ پر قانونی نوٹس بھجوایا گیا۔ دی پختونخوا ٹائمز کے اینکر امر الہیٰ کو خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور سکیورٹی سے متعلق پوڈکاسٹ کی میزبانی کے بعد نامعلوم شخص کی جانب سے دھمکی موصول ہوئی۔ پاکستان ٹی وی کی رپورٹر ماہ نور قریشی نے آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کی کوریج کے بعد آن لائن ہراسانی کی شکایت کی۔ خانیوال میں ایشیا اردو کے نمائندے مہر حسنین شیخانہ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مبینہ طور پر ایک غیر سرکاری پولیس حراستی مقام پر موجود افراد کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ بعدازاں ان کے خلاف پانچ فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ مقامی صحافیوں نے الزام لگایا کہ یہ کارروائی ان کی صحافتی رپورٹنگ کے ردعمل میں کی گئی اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ مختلف مقدمات میں ضمانت ملنے کے باوجود انہیں بار بار گرفتار کیا گیا۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق ایک مجسٹریٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شناخت پریڈ کے دوران شیخانہ کی شناخت نہیں کی گئی تھی۔
فریڈم نیٹ ورک نے سینئر صحافی منیزے جہانگیر کے پروگرام “اسپاٹ لائٹ” کی آج ٹی وی پر بندش کو بھی سنسرشپ کے زمرے میں شامل کیا۔ منیزے جہانگیر نے پروگرام کی آخری قسط 22 جولائی کو پیش کی، جس کے ساتھ ہی چینل کے ساتھ ان کا 11 سال سے زائد عرصے کا تعلق اختتام پذیر ہوگیا۔ صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پروگرام کی بندش میں ممکنہ طور پر ادارتی یا بیرونی دباؤ کا کردار ہوسکتا ہے۔ تاہم فریڈم نیٹ ورک نے واضح کیا کہ بیرونی دباؤ کے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی منیزے جہانگیر یا آج ٹی وی نے عوامی سطح پر اس بات کی تصدیق کی کہ پروگرام کی بندش بیرونی دباؤ کا نتیجہ تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جولائی کے اعدادوشمار مجموعی طور پر اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں صحافیوں کے لیے قانونی اور ڈیجیٹل ذرائع سے پیدا ہونے والا دباؤ مرکزی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کے سائبر کرائم قوانین اور ان کے صحافت، آن لائن اظہارِ رائے اور ڈیجیٹل میڈیا پر اطلاق کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ فریڈم نیٹ ورک اپنی مانیٹرنگ رپورٹس میں میڈیا سے متعلق قوانین اور قواعد، صحافتی معیارات، میڈیا اکانومی، اظہار رائے کی صورتحال اور صحافیوں و معلومات فراہم کرنے والے افراد کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کو دستاویزی شکل دیتا ہے۔ (خصوصی رپورٹ)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں