پشاور سے ڈھائی سو صحافی بیروزگار۔۔۔ 42

پشاور سے ڈھائی سو صحافی بیروزگار۔۔۔

تحریر: انصار یوسفزئی۔۔۔
فریڈم نیٹ ورک نامی ادارے نے ستمبر میں کہا تھا کہ پشاور میں حالیہ وقتوں میں 250 صحافی بے روز گار ہوئے- پشاور میں یہ بہت بڑی تعداد ہے کیوں کہ وہاں عمومی طور پر پورے بیوروز کو دو دو یا تین تین لوگ چلا رہے ہوتے ہیں- اور دیگر شہروں کے مقابلے میں سب سے کم تنخواہ شائد پشاور میں صحافیوں کو ملتی ہے- لوگ برسوں سے 30/30 یا 40/40 ہزار پر رپورٹنگ کر رہے ہیں کیوں کہ مواقع ہیں ہی نہیں-
اسی ماحول میں کل یہ خبر آئی کہ آج نیوز/ ٹی وی نے سینئر صحافی فرزانہ علی صاحبہ، جو وہاں بیورو چیف کے طور پر کام کر رہی تھی، ان کو دیگر دو ساتھیوں سمیت چینل نے نکال دیا ہے- چینل کا موقف ہماری نظروں سے نہیں گزرا لیکن سینئر صحافی فرزانہ علی صاحبہ کی ایک ٹویٹ ہم نے دیکھی جس میں وہ لکھ رہی ہیں کہ " ملازمت سے فارغ کروا کر اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہم سوال کرنا چھوڑ دیں گے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے، سوال تو ہوگا "
سینئر صحافی فرزانہ علی صاحبہ نے شائد " کسی " کی طرف اشارہ کیا کہ وہ ان کی صحافت سے خوش نہیں اور اس لیے ان کو چینل والوں نے نکال دیا- یہ بات ٹھیک بھی ہو سکتی ہے لیکن پھر سوال یہاں یہ اٹھ رہا ہے کہ ان کے باقی دو ساتھیوں عبدالبصیر قلندر اور ملک تنویر کو ادارے نے کیوں نکالا؟ میں فرزانہ علی صاحبہ پر شک نہیں کر رہا ہے لیکن یہ سوال اٹھنا بنتا ہے کہ اگر محض سوال کی وجہ سے فرزانہ علی صاحبہ کو چینل نے نکالا ہے تو باقی دو کیوں؟
کل جب یہ خبر آئی اور اس کو جب " کسی " سے لنک کرنے کی کوشش کی گئی تو میں نے اپنے ایک ذریعے سے رابطہ کیا کہ سینئر صحافی فرزانہ علی صاحبہ نے ٹویٹ کیا ہے کہ وہ سوال تو کرے گی، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو آج نیوز نے " کسی " کے کہنے پر نکالا ہے؟ مجھے چوں کہ اپنے ذریعے کا جواب رات 2 بجے آیا تھا، ابھی جب میں اٹھا ہوں تو میں نے دیکھا اور یہ تحریر لکھ رہا ہوں-
میرا ذریعہ پختون ہیں اور انہوں نے مخصوص پشتو انداز میں مجھے کہا کہ انصار، فرزانہ سے " کسی " کو آخر کیا مسئلہ ہو سکتا ہے کہ وہ چینل کو کہتے اور ان کو نکالتے، یہ محض چینل کا مالی ایشو ہے،" کسی " کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے- میرے ذریعے کا یہ رد عمل اس سوال کو مزید بر محل بنا رہا ہے کہ چینل نے باقی دو ملازمین کو کیوں نکالا ہے؟ میں کسی بھی طور پر کسی بھی وجہ سے کسی کی بھی نوکری جانے کے خلاف ہوں کیوں کہ میری سوچ یہ ہے کہ حالات جو بھی ہوں کسی سے ان کا روزگار نہیں لینا چاہئے لیکن مالی ایشو کو " کسی " سے جوڑنا بددیانتی ہے-
پھر آپ یہ ملاحظہ کریں کہ اس ماحول میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ ایمل ولی خان، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ " کسی " کی وجہ سے بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے ہیں، وہ اپنے پلیٹ فارم فیکٹس آر فیکٹس کی سربراہی کیلئے سینئر صحافی فرزانہ علی صاحبہ کو آفر کرتے ہیں-
کمال ہے " کسی " نے ایک چینل سے ایک صحافی کو نکالنے کا کہا ہے کیوں کہ " کسی " کو ان کے سوال سے بڑا مسئلہ ہے لیکن سینیٹر ایمل ولی خان جو " کسی " کے بہت قریب ہیں وہ انہی صحافی فرزانہ صاحبہ کو دوبارہ آفر کرتے ہے؟ یہ تاریخ رہی ہے کہ جس کو " کسی " نے نکالا ہو ان کو کوئی آفر نہیں کر سکتا، کاشف عباسی صاحب کو ہی دیکھ لیں-
اب اگر اس ماحول میں سینئر صحافی فرزانہ علی صاحبہ ایک سیاسی پلیٹ فارم فیکٹس آر فیکٹس پر جائیں گی تو اس سے 100 فیصد واضح ہو جائے گا کہ ان کو ان کے سوال کی وجہ سے " کسی " نے بالکل بھی نکالا نہیں لیکن اگر کوئی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم یا میڈیا ہاؤس ان کو لینے کیلئے تیار نہیں ہوگا تو پھر کہنا بنتا ہوگا کہ ہاں ان کو شائد " کسی " نے آج نیوز سے نکلوایا ہوں-
سینئر صحافی فرزانہ علی صاحبہ کو میں کافی عرصے سے فالو کر رہا ہوں وہ ایک شاندار صحافی ہیں ان کو اگر ایک چینل نے مالی ایشو کی بنیاد پر نکالا ہے تو یہ شائد چینل کی بد قسمتی ہے، فرزانہ علی صاحبہ کی نہیں، وہ انتہائی قابل شخصیت ہیں اور جلد آج نیوز سے کہیں بہتر جگہ پر ہوں گی- (انصار یوسفزئی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں