خصوصی رپورٹ۔۔۔۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے پاکستان میں میڈیا ورکرز کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اور صحافتی آزادیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور یورپی یونین کے صدر کے نام خط میں پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کے سنگین ترین بحرانوں کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی ہے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے مطابق 2018 میں میڈیا سیکٹر میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار افراد کام کرتے تھے، جن میں تقریباً 18 ہزار صحافی شامل تھے.
پی ایف یوجے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور کوآرڈنیٹربرائے انٹرنیشنل ریلیشنز میاں محمد ندیم کی جانب سے لکھے گئے تفصیلی خط میں موجودہ صورتحال میں میڈیا ورکرز کو بڑے پیمانے پر معاشی مشکلات، من پسند برطرفیوں، کئی ماہ تک تنخواہوں کی عدم ادائیگی، روزگار کے مواقع میں کمی اور آزاد صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے. پی ایف یوجے کی جانب سے خط کی کاپی دنیا کی تمام بڑی صحافتی اور مزدور تنظیموں کے سربراہان کو بھی ارسال کی گئی ہے پی ایف یو جے نے اپنے صوبائی یونٹس اور رکن تنظیموں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر بتایا ہے کہ حالیہ عرصے میں ٹیلی ویڑن چینلز اور دیگر میڈیا اداروں کی بندش اور ڈاﺅن سائزنگ کے باعث تقریباً 700 میڈیا ورکرز اپنی ملازمتوں سے محروم ہوچکے ہیں خط میں کہا گیا ہے کہ متعدد میڈیا ہاﺅسز کے ملازمین کو گزشتہ تین سے چار ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں جبکہ پی ایف یو جے کا تخمینہ ہے کہ 70 سے 80 فیصد میڈیا ادارے سنگین مزدور حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں تنخواہوں کی تاخیر، غیر قانونی برطرفیاں اور قانونی ملازمت کے فوائد سے محرومی شامل ہے.
پی ایف یو جے کے مطابق میڈیا انڈسٹری کی موجودہ تنظیم نو سے کئی بڑے ادارے بھی متاثر ہوئے ہیں سماءٹی وی نے مبینہ طور پر اپنی افرادی قوت میں تقریباً نصف کمی کردی ہے، روہی ٹی وی نے کام بند کردیا ہے، جبکہ 24 نیوز ‘ایک نیوز‘سنوٹی وی سمیت متعدداداروں کے ملازمین کو مبینہ طور پر نوٹسز جاری کیے گئے ہیں کہ ان کی خدمات درکار نہیں رہیں گی ان کا کہنا ہے کہ پی ایف یوجے اس رویے کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے کہ کارکنوں کو مروجہ قانونی تقاضوں کو پورا کیئے بغیرنوکریوں سے برخاست کرنا عالمی و ملکی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے .
خط میں کہا گیا ہے کہ جنگ گروپ کی جانب سے لاہور میں واقع دفتر، پرنٹنگ پریس اور دیگر متعلقہ اثاثوں کی فروخت کے لیے اشتہار بھی سامنے آیا ہے، جو پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کو درپیش شدید مالی مشکلات کی عکاسی کرتا ہے پی ایف یو جے نے کہا کہ میڈیا ورکرز کا معاشی بحران صحافیوں کے لیے تیزی سے محدود ہوتے ہوئے ماحول کے ساتھ جڑا ہوا ہے”رپورٹرز ودآﺅٹ بارڈرز“ (آر ایس ایف) نے 2025 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کو 180 ممالک میں 158ویں نمبر پر رکھا، جبکہ سیاسی دباﺅ، معاشی کمزوری، دھمکیوں اور بڑھتی ہوئی خود سنسرشپ کو پاکستان میں صحافت کے لیے بڑے خطرات قرار دیا گیا خط کے مطابق کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے 1992 سے اب تک پاکستان میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران صحافیوں کے 60 سے زائد قتل کے واقعات ریکارڈ کیے ہیں، جبکہ متعدد حملوں کے مقدمات تاحال حل طلب ہیں، جس کے باعث صحافیوں کے خلاف کارروائیوں میں سزا سے استثنیٰ کا رجحان برقرار ہے.
پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو اب بھی گرفتاریوں، فوجداری تحقیقات، دھمکیوں، آن لائن ہراسانی، سائبر کرائم اور دیگر قوانین کے تحت پابندیوں اور بڑھتے ہوئے دباوکا سامنا ہے، جس سے ادارتی آزادی اور آزادی اظہار متاثر ہو رہی ہے خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال نے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے جہاں متعدد صحافی انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے قاصر ہیں.
پی ایف یو جے نے یاد دلایا کہ پاکستان نے عالمی ادارہ محنت کے کئی بنیادی کنونشنز کی توثیق کر رکھی ہے، جن میں کنونشن نمبر 87، آزادیِ انجمن سازی اور کنونشن نمبر 98، تنظیم سازی اور اجتماعی سودے بازی کے حق سے متعلق ہیں پاکستان شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) کا بھی فریق ہے، جس کے آرٹیکل 19 میں آزادی اظہار کی ضمانت دی گئی ہے پی ایف یو جے کے مطابق موجودہ صورتحال ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے.
پی ایف یو جے کے کوآرڈنیٹرکی جانب سے لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں میڈیا ورکرز کو درپیش مزدور حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور جائزہ لیا جائے‘ من پسند برطرفیوں، طویل عرصے تک اجرتوں کی عدم ادائیگی اور بین الاقوامی مزدور قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے حکومت پاکستان سے بات چیت کی جائے‘ صحافیوں پر حملوں، دھمکیوں، گرفتاریوں اور پابندیوں کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کی حوصلہ افزائی کی جائے‘ میڈیا ورکرز کے قانونی تحفظ، پیشہ ورانہ سلامتی اور معاشی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے پروگراموں کی حمایت کی جائے‘ حکومت، میڈیا مالکان، صحافتی یونینز اور سول سوسائٹی کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لیے سہولت فراہم کی جائے تاکہ ایک پائیدار اور آزاد میڈیا ماحول بحال ہوسکے.
پی ایف یو جے نے کہا کہ آزاد میڈیا جمہوری طرز حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے جب صحافی بے روزگاری، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، سنسرشپ، دھمکیوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے پر گرفتاری کے خوف سے دوچار ہوں تو وہ موثر انداز میں عوام کی خدمت نہیں کرسکتے پی ایف یو جے نے کہا کہ وہ قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے میں آئی ایل او کی معاونت کے لیے دستاویزی شواہد، تصدیق شدہ کیس اسٹڈیز اور دیگر ضروری معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے.
پی ایف یو جے نے آئی ایل او اور دیگر عالمی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے میڈیا ورکرز کے لیے تعاون اور یکجہتی کا اظہار کریں، اس سے پہلے کہ یہ بحران ملک کے اہم ترین جمہوری اداروں میں سے ایک، آزاد میڈیا، کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے.(بشکریہ اردو پوائنٹ)۔۔۔
9