پاکستان میں دل سمیت دیگر بیماریوں کے بوجھ میں ہولناک اضافہ ہورہا ہے ۔طرز زندگی تبدیل نا کرنے کی وجہ نوجوان نسل میں بھی دل اور دیگر بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ والدین اپنے بچوں میں فاسٹ فوڈ کے رجحان کی حوصلہ شکنی کریں۔ یہ بات کراچی پریس کلب میں ہفتے کو اغاخاں اسپتال کے اشتراک سے لگائے جانے والے میڈیکل کیمپ کے موقع پر ماہرین طب نے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پریس کلب میں لگائے جانے والے میڈیکل کیمپ میں کلب کےصدر فاضل جمیلی۔ سیکرٹری محمد،اسلم خاں ۔سینئر صحافی مقصودیوسفی،۔نصیر احمد ہیلتھ کمیتی کے طفیل احمد۔شفقت بھٹی۔ اسرار شیخ۔سراج امجدی سمیت اغاخاں اسپتال کی چیسٹ یونٹ کے سربراہ پروفیسر محمد جاوید خان۔ اسسٹنٹ پروفیسر کارڈیالوجی ڈاکٹر یاور سعید اے کے یو فیکلٹی اور کمیونیکیشن کے عادل صدیقی ۔ترجمان اے کے یو شبیر عالم سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ کیمپ میں ایکوکارڈیوگرام۔ای سی جی سمیت دیگر ٹیسٹ بھی کیے گئے ۔ اس موقع پر سیکرٹری ہریس کلب محمد اسلم خاں نے پریس کلب میں اغاخاں اسپتال کی جانب سے لگائے جانے والے میڈیکل کیمپ کے انعقاد کو سراہا اور کہا کہ پرائیویٹ علاج عام مریضوں کی دسترس سے باہر ہوتا جاریا ہے ۔انہوں نے کلب کے ممبران کو طبی سہولتوں کی فراہمی پر اغاخاں اسپتال اور کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا بھی شکریہ ادا کیا ۔اغاخاں اسپتال یونیورسٹی کے پلمونری کے پروفیسر جاوید خان نے کہا کہ دل کے امراض سے بچاؤ کے لیے جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی انتہائی اہم ہیں۔ نوجوانوں میں فاسٹ فوڈ کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے جبکہ خوراک میں سبزیوں اور صحت مند غذاؤں کا استعمال بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طرزِ زندگی میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی کرکے مختلف امراض کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ڈاکٹر جاوید خان نے تمباکو نوشی اور تمباکو کے دیگر استعمال سے اجتناب پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔، اس لیے احتیاطی اقدامات کے ذریعے ان بیماریوں کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔کاتڈیالوجی یونٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر یاور سعید نے کہا کہ دل کے امراض پاکستان سمیت ایشیا میں وبائی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران کم عمر افراد میں بھی ہارٹ اٹیک کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خوراک میں احتیاط ضروری ہے، ضرورت سے زیادہ کھانے کے بجائے معتدل اور متوازن غذا استعمال کی جائے۔ طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں دل کے امراض کی شرح میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
61
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل