(خصوصی رپورٹ)۔۔
پاکستان کے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی دفعہ 26 اے حالیہ دنوں میں ملک کے سب سے زیادہ زیر بحث سائبر کرائم قوانین میں شامل ہو گئی ہے۔ صحافیوں، میڈیا تنظیموں، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس دفعہ کے آزادیٔ اظہار پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ قانون ایک بار پھر اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے ) نے صحافی اسد علی طور کو دفعہ 26 اے کے تحت جاری انکوائری میں طلب کیا۔ اگرچہ اس انکوائری کا نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا، تاہم اس پیش رفت نے اس قانون کی نوعیت اور اس کے ممکنہ اطلاق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اہم نکات
دفعہ 26 اے کو پیکا (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے ذریعے قانون کا حصہ بنایا گیا۔
یہ دفعہ مخصوص حالات میں جان بوجھ کر جھوٹی یا جعلی معلومات پھیلانے کو جرم قرار دیتی ہے۔
جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ تین سال قید، 20 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
اس قانون پر صحافیوں، وکلا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق عدالتیں مستقبل میں اس دفعہ کی تشریح اور حدود کا تعین کریں گی۔
دفعہ 26 اے کیا کہتی ہے؟
دفعہ 26 اے کے مطابق:
جو شخص کسی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے جان بوجھ کر ایسی معلومات عام کرے، نشر کرے یا عوام کے سامنے پیش کرے جن کے بارے میں اسے معلوم ہو یا یقین کرنے کی معقول وجہ ہو کہ وہ جھوٹی یا جعلی ہیں، اور جن سے عوام یا معاشرے میں خوف، ہراس، بے چینی یا بدامنی پیدا ہونے کا امکان ہو، اسے تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔”
یہ قانون 29 جنوری 2025 کو پیکا (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت نافذ کیا گیا تھا۔
قانون کو آسان الفاظ میں سمجھیں
اگرچہ دفعہ 26 اے بظاہر سادہ معلوم ہوتی ہے، لیکن اس میں استعمال ہونے والی کئی اصطلاحات ایسی ہیں جن کی تشریح عدالتوں کو کرنا ہوگی۔
“جان بوجھ کر معلومات پھیلانا”
یہ قانون صرف ان معاملات پر لاگو ہوتا ہے جہاں معلومات دانستہ طور پر شیئر کی گئی ہوں۔ اگر کوئی غلطی غیر ارادی ہو یا تکنیکی خرابی کے باعث پیش آئے تو ہر صورت میں اس دفعہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔
کسی بھی مقدمے میں یہ طے کرنا کہ نیت موجود تھی یا نہیں، حقائق اور شواہد کی بنیاد پر عدالت کا اختیار ہوگا۔
“انفارمیشن سسٹم کے ذریعے”
پیکا میں “انفارمیشن سسٹم” کی تعریف بہت وسیع رکھی گئی ہے، جس میں کمپیوٹر، موبائل فون، ویب سائٹس، ای میل، میسجنگ ایپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم شامل ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ یہ قانون ایکس، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، واٹس ایپ اور آن لائن نیوز ویب سائٹس پر شائع ہونے والے مواد پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔
“جھوٹی یا جعلی معلومات”
یہ دفعہ “جھوٹی” اور “جعلی” معلومات کی اصطلاحات استعمال کرتی ہے، مگر ان کی واضح قانونی تعریف فراہم نہیں کرتی۔استغاثہ یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ ملزم کو نہ صرف معلومات کے غلط ہونے کا علم تھا بلکہ ایک عام اور سمجھدار شخص بھی انہی حالات میں اسے غلط سمجھتا۔قانونی ماہرین کے مطابق اسی ابہام کی وجہ سے اس قانون پر سب سے زیادہ تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ واضح نہیں کہ کن حالات میں کسی معلومات کو “جھوٹا” یا “جعلی” قرار دیا جائے گا۔
ممکنہ طور پر درج ذیل معاملات عدالتوں میں زیر بحث آ سکتے ہیں:
ایسی بریکنگ نیوز جو بعد میں غلط ثابت ہو۔
خفیہ ذرائع کی بنیاد پر کی جانے والی رپورٹنگ۔
تجزیاتی یا رائے پر مبنی مواد۔
طنز و مزاح یا پیروڈی۔
غیر ارادی حقائقی غلطیاں جنہیں بعد میں درست کر دیا جائے۔
“خوف یا بدامنی پیدا ہونے کا امکان”
اس قانون کے تحت یہ ثابت کرنا ضروری نہیں کہ واقعی خوف یا بدامنی پیدا ہوئی ہو۔
صرف یہ دکھانا کافی ہو سکتا ہے کہ متعلقہ معلومات سے ایسے نتائج پیدا ہونے کا امکان موجود تھا۔ اس امکان کا تعین بھی مستقبل میں عدالتیں اپنے فیصلوں کے ذریعے کریں گی۔
کیا ہر غلط پوسٹ جرم بن جائے گی؟
مختصر جواب نہیں۔
دفعہ 26 اے کے تحت کسی شخص کے خلاف کارروائی کے لیے عمومی طور پر درج ذیل عناصر ثابت کرنا ضروری ہوں گے:
معلومات جان بوجھ کر شیئر کی گئی ہوں۔
متعلقہ شخص کو معلوم ہو یا معقول وجہ ہو کہ معلومات جھوٹی یا جعلی ہیں۔
معلومات سے خوف، ہراس، بدامنی یا عوامی بے چینی پیدا ہونے کا امکان ہو۔
معلومات کسی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے نشر کی گئی ہوں۔
یہ تمام عناصر ثابت ہوئے ہیں یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
صحافی کیوں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں؟
میڈیا تنظیموں اور آزادیٔ صحافت کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون کی وسیع اور مبہم زبان تحقیقاتی صحافت اور عوامی مفاد میں ہونے والی رپورٹنگ کو متاثر کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق:
صحافی اکثر ایسے واقعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں جن کی معلومات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
کئی رپورٹس سرکاری تصدیق سے پہلے خفیہ یا نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع پر مبنی ہوتی ہیں۔
اگر متنازع معلومات پر فوجداری کارروائی کا خدشہ رہے تو صحافی خود ساختہ سنسرشپ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
سیاسی نوعیت کے معاملات میں یہ طے کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ کون سی معلومات جھوٹی ہیں اور کون سی درست۔
متعدد میڈیا تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی خبر میں غلطی ہو جائے تو اس کا حل اصلاح، وضاحت یا دیگر قانونی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ ہر معاملے میں فوجداری کارروائی کی جائے۔
قانون کے حامی کیا کہتے ہیں؟
دفعہ 26 اے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والی نقصان دہ غلط معلومات کا سدباب کرنا ہے۔
ان کے مطابق دانستہ طور پر جھوٹی معلومات پھیلانے سے:
ہنگامی حالات میں خوف و ہراس پیدا ہو سکتا ہے۔
افراد اور اداروں کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
فرقہ وارانہ یا سماجی کشیدگی کو ہوا مل سکتی ہے۔
امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔
منظم غلط معلوماتی مہمات کو فروغ مل سکتا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ قانون صرف ایسے افراد کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے جو جان بوجھ کر معاشرے کو نقصان پہنچانے والی جھوٹی معلومات پھیلاتے ہیں۔
عدالتوں کا کردار اہم ہوگا
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ دفعہ 26 اے کی کئی اصطلاحات وسیع اور مبہم ہیں، اس لیے مستقبل میں عدالتوں کے فیصلے ہی اس قانون کی اصل حدود متعین کریں گے۔
عدالتیں ممکنہ طور پر یہ واضح کریں گی کہ:
جھوٹی” یا “جعلی” معلومات سے کیا مراد ہے۔
مجرمانہ نیت کیسے ثابت کی جائے گی۔
“معقول وجہ سے یقین” کی قانونی تشریح کیا ہوگی۔
کن حالات میں معلومات کو خوف یا بدامنی پیدا کرنے کے قابل تصور کیا جائے گا۔
اس قانون کا اطلاق آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار کی ضمانت کے ساتھ کس طرح متوازن رکھا جائے گا۔
قانونی حلقوں کے مطابق انہی عدالتی تشریحات سے طے ہوگا کہ مستقبل میں دفعہ 26 اے کا استعمال محدود دائرے میں ہوگا یا اس کا اطلاق وسیع پیمانے پر کیا جائے گا۔(خصوصی رپورٹ)۔۔۔
159