خصوصی رپورٹ۔۔۔
موٹروے پر نان کسٹم پیڈ سگریٹوں سے لدے گیارہ ٹرک پکڑے جانے سے شروع ہونے والا معاملہ اب آزادیٔ صحافت، صحافتی ذرائع کے تحفظ اور سرکاری اداروں کے اختیارات سے متعلق ایک اہم تنازع بن گیا ہے۔ اے بی این نیوز کے اسلام آباد بیورو چیف زمان مغل کی رپورٹ کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی نے خبر کی تحقیقات، متعلقہ ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی اور رپورٹر کے موبائل فون کے فرانزک کا معاملہ اٹھایا، جبکہ بعد ازاں پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے صحافی کو فون جمع کرانے کا نوٹس بھیجے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔زمان مغل کا کہنا ہے کہ ان کی خبر دستاویزی شواہد پر مبنی ہے اور وہ اب بھی اپنی رپورٹ پر قائم ہیں۔
گیارہ ٹرک کب اور کہاں پکڑے گئے؟
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق 22 جولائی 2026 کو نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے چکری کے قریب انٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے گیارہ ٹرک روکے تھے۔ موٹروے پولیس کا دعویٰ تھا کہ ان ٹرکوں میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ موجود تھے، جنہیں پشاور سے لاہور منتقل کیا جارہا تھا۔ابتدائی سرکاری بیان میں پکڑے گئے سگریٹوں کی مالیت تقریباً دو ارب 20 کروڑ روپے بتائی گئی، جبکہ گیارہ ٹرک ڈرائیوروں کو حراست میں لے کر ٹرک، سگریٹ اور ملزمان مزید کارروائی کے لیے کسٹمز حکام کے حوالے کردیے گئے۔یہ کارروائی بظاہر نان کسٹم پیڈ سگریٹوں اور ممکنہ ٹیکس چوری کے خلاف ایک بڑی کامیابی تھی، تاہم بعد میں سامنے آنے والی مختلف سرکاری تفصیلات نے معاملے کو پیچیدہ بنادیا۔
اے بی این نیوز کی رپورٹ میں کیا بتایا گیا؟
اے بی این نیوز کے بیورو چیف زمان مغل نے ٹرک پکڑے جانے، سگریٹوں کی مبینہ اسمگلنگ، مال کی ملکیت اور بعض بااثر شخصیات سے ممکنہ تعلق کے حوالے سے رپورٹ نشر کی۔سینیٹ سیکریٹریٹ اور مختلف اخبارات کی رپورٹس کے مطابق ٹی وی رپورٹ کو دو سینیٹرز کے ناموں کو پکڑے گئے سگریٹوں سے منسلک کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔ سینیٹ کمیٹی نے اس کوریج کو غیر مصدقہ، کردار کشی پر مبنی اور کمیٹی کے ارکان کے خلاف مہم قرار دیا۔ تاہم زمان مغل اور اے بی این نیوز کا مؤقف ہے کہ خبر کسی ذاتی اختلاف یا سیاسی مقصد کے تحت نشر نہیں کی گئی، بلکہ اس کی بنیاد دستاویزات، متعلقہ اداروں سے حاصل ہونے والی معلومات اور صحافتی تحقیقات پر تھی۔
سینیٹ کمیٹی میں معاملہ کیسے اٹھا؟
تین اگست 2026 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔اجلاس میں اے بی این نیوز کی رپورٹ کی ویڈیو دکھائی گئی اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ٹرک پکڑے جانے اور بعض سینیٹرز کے نام سامنے آنے سے متعلق پریس ریلیز یا ہینڈ آؤٹ کس ادارے نے جاری کیا تھا۔کسٹمز اور ایف بی آر کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے اداروں کی جانب سے جاری کردہ ایف آئی آر یا سرکاری بیان میں کسی مخصوص سینیٹر، کمپنی یا فرد کو نامزد نہیں کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق سب سے پہلی اطلاع موٹروے پولیس کی جانب سے سامنے آئی تھی، جس کے بعد کسٹمز نے قانونی کارروائی شروع کی۔کمیٹی نے ایف بی آر کے متعلقہ رکن کو میڈیا ونگ سے جاری ہونے والے مبینہ ہینڈ آؤٹ کی تحقیقات کرنے اور اس کے ذمہ دار حکام کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے، کو بھی ٹی وی چینلز پر چلنے والی کوریج کی غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق وزارتِ داخلہ کو متعلقہ ٹی وی چینل کے خلاف پیکا کے تحت قانونی کارروائی پر غور کرنے کی ہدایت بھی کی گئی اور چینل کے مالک کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ ہوا۔
گرفتاری اور مقدمے کے مطالبے پر متضاد مؤقف
اے بی این نیوز کی نشریات اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا کہ کمیٹی اجلاس میں چینل کے مالک اور بیورو چیف زمان مغل کے خلاف مقدمہ درج کرنے، گرفتاری اور رپورٹر کے موبائل فون کا فرانزک کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔تاہم سینیٹر طلحہ محمود نے بعد میں اس تاثر کی تردید کی کہ کمیٹی نے کسی صحافی یا میڈیا مالک کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے مطابق اجلاس میں گرفتاری کی کوئی باضابطہ ہدایت نہیں دی گئی، بلکہ زمان مغل اور چینل کے مالک کو آئندہ اجلاس میں اپنا مؤقف اور شواہد پیش کرنے کے لیے بلانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اس طرح ایک طرف اے بی این نیوز کمیٹی اجلاس میں مقدمے، گرفتاری اور موبائل فرانزک کے مطالبات کی بات کررہا ہے، جبکہ دوسری جانب کمیٹی کے رکن ان دعوؤں کی تردید کررہے ہیں۔ اجلاس کی مکمل اور غیر ترمیم شدہ کارروائی سامنے آنے سے ہی اس تضاد کا حتمی تعین ہوسکتا ہے۔
ٹرکوں اور سگریٹوں کی مالیت میں تضاد
معاملے کا ایک اہم پہلو پکڑے گئے سگریٹوں کی مالیت سے متعلق مختلف اعداد و شمار ہیں۔
موٹروے پولیس کے ابتدائی بیان اور سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں سگریٹوں کی مالیت تقریباً دو ارب 20 کروڑ روپے بتائی گئی۔ دوسری جانب سینیٹ کمیٹی کی کارروائی سے متعلق بعض رپورٹس میں 22 کروڑ روپے کا ذکر کیا گیا، جبکہ ایک دوسری رپورٹ میں کسٹمز ایف آئی آر کے حوالے سے تقریباً 40 کروڑ روپے کی مالیت بتائی گئی۔دو ارب 20 کروڑ، 22 کروڑ اور 40 کروڑ روپے کے مختلف اعداد نے کارروائی، مال کی مقدار، برانڈ، ٹیکس واجبات اور سرکاری تخمینے کی صحت پر سوالات پیدا کردیے ہیں۔سینیٹ کمیٹی نے بھی متضاد اعداد و شمار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جامع تفصیلات طلب کیں۔
کسٹمز کی کارروائی اور ایف آئی آر پر بھی سوالات
سینیٹ کمیٹی نے صرف میڈیا رپورٹ ہی نہیں بلکہ سرکاری اداروں کی کارروائی پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔کمیٹی کے ارکان نے دریافت کیا کہ موٹروے پر پکڑے جانے والے مال کے خلاف کارروائی کسٹمز کے دائرۂ اختیار میں تھی یا ان لینڈ ریونیو کے دائرۂ اختیار میں۔ موٹروے پولیس کے انسپکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹمز کے ساتھ مفاہمتی یادداشت صرف مشکوک گاڑیاں رکوانے میں عملی معاونت تک محدود ہے۔کمیٹی نے کسٹمز کی ایف آئی آر کی قانونی بنیاد، ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے میں مبینہ چھ روزہ تاخیر اور مال کی اصل ملکیت کا تعین نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے۔ ایف آئی آر تیار کرنے والے انسپکٹر کو طلب کرنے اور ٹرانسپورٹ و متعلقہ کاروباری اداروں کے مالکان سے تفصیلات لینے کی ہدایات دی گئیں۔یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر کسٹمز کی ایف آئی آر اور سرکاری پریس ریلیز میں کسی سیاسی شخصیت یا کمپنی کو نامزد نہیں کیا گیا تو میڈیا تک وہ معلومات کس ذریعے سے پہنچیں جن کی بنیاد پر سیاسی شخصیات کے نام خبر کا حصہ بنے۔
پی آئی ڈی کی جانب سے موبائل جمع کرانے کا نوٹس
بعد ازاں عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات اور سوشل میڈیا پر زیر گردش نوٹس کے مطابق پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے زمان مغل کو اپنا موبائل فون جمع کرانے کی ہدایت کی تاکہ اس کا فرانزک معائنہ کرایا جاسکے۔اس پیش رفت نے معاملے میں کئی نئے سوالات پیدا کردیے ہیں۔پی آئی ڈی کی اپنی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ادارے کی بنیادی ذمہ داریوں میں حکومتی پالیسیوں کی تشہیر، میڈیا مانیٹرنگ، سرکاری اشتہارات، میڈیا سے رابطہ کاری، تحقیق اور حکومت کو میڈیا فیڈبیک فراہم کرنا شامل ہیں۔ پی آئی ڈی کی شائع شدہ ذمہ داریوں میں موبائل فون قبضے میں لینے، ڈیجیٹل شواہد ضبط کرنے یا فرانزک تحقیقات کرنے کا کوئی واضح اختیار درج نہیں۔
اس لیے بنیادی قانونی سوال یہ ہے کہ صحافی کا فون کس قانون، کس مجاز تحقیقاتی ادارے، کس مقدمے اور کس تحریری اختیار کے تحت طلب کیا گیا ہے۔یہ بھی واضح ہونا ضروری ہے کہ آیا پی آئی ڈی صرف سینیٹ کمیٹی یا کسی تحقیقاتی ادارے کا خط زمان مغل تک پہنچا رہا ہے، یا اس نے خود موبائل جمع کرانے اور فرانزک کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔
صحافتی ذرائع کی رازداری کا معاملہ
صحافی کا موبائل فون محض ایک ذاتی آلہ نہیں ہوتا۔ اس میں خبر کے ذرائع، رابطوں، پیغامات، تصاویر، دستاویزات، زیر تکمیل تحقیقات اور ایسے افراد کی شناخت موجود ہوسکتی ہے جنہوں نے رازداری کی شرط پر معلومات فراہم کی ہوں۔ پاکستان میں نافذ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 صحافیوں کے ذرائع کی رازداری کے تحفظ کو تسلیم کرتا ہے۔ وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے جاری کردہ قانون کی وضاحت میں بھی صحافیوں کے ذرائع کو خفیہ رکھنے کے حق کو قانون کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔اس تناظر میں کسی صحافی کے پورے موبائل فون کی فرانزک جانچ، اگر واضح قانونی اختیار، عدالتی نگرانی، محدود دائرۂ کار اور ڈیٹا کے تحفظ کی ضمانتوں کے بغیر کی جائے، تو اس سے صرف زیر بحث خبر کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ صحافی کے دیگر غیر متعلقہ اور خفیہ ذرائع بھی سامنے آسکتے ہیں۔
آئین کا آرٹیکل 19 آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دیتا ہے، اگرچہ یہ حق قانون کے تحت عائد معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔ آرٹیکل 19 اے عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق بھی تسلیم کرتا ہے۔
زمان مغل کا مؤقف
زمان مغل نے کہا ہے کہ وہ اور اے بی این نیوز اپنی رپورٹ پر قائم ہیں اور ان کے پاس خبر کی حمایت میں دستاویزات اور شواہد موجود ہیں۔ان کے مطابق اگر کسی ادارے یا شخص کو خبر پر اعتراض ہے تو اس کا فیصلہ دھمکیوں یا دباؤ کے بجائے کسی مجاز قانونی یا ریگولیٹری فورم پر شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔زمان مغل نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں گرفتار کرنا ہے تو کھلے انداز میں گرفتار کیا جائے، لیکن خبر واپس لینے یا تبدیل کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا کسی سینیٹر یا سیاسی شخصیت سے ذاتی تنازع نہیں اور خبر صرف صحافتی بنیادوں پر نشر کی گئی۔صحافیوں کے احتجاج کے دوران زمان مغل نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس خبر سے متعلق تمام شواہد موجود ہیں اور اعتراضات کا جواب حقائق کی بنیاد پر دیا جانا چاہیے۔
تحقیقات کا اصل مرکز کیا ہونا چاہیے؟
اس معاملے میں میڈیا رپورٹ کی صحت کی تحقیقات ضرور ہونی چاہییں، لیکن اس کے ساتھ ان بنیادی سوالات کے جواب بھی سامنے آنا ضروری ہیں:
گیارہ ٹرکوں میں موجود سگریٹ یا خام مال کا حقیقی مالک کون تھا؟ مال قانونی طور پر تیار یا درآمد کیا گیا تھا یا واقعی نان کسٹم پیڈ تھا؟ اس کی اصل مالیت دو ارب 20 کروڑ، 40 کروڑ یا 22 کروڑ روپے تھی؟ موٹروے پولیس کو خفیہ اطلاع کس ادارے نے دی؟ کسٹمز کی ایف آئی آر میں کسی کمپنی یا مالک کو نامزد کیوں نہیں کیا گیا؟ متعلقہ ہینڈ آؤٹ کس ادارے نے تیار اور میڈیا کو فراہم کیا؟ ڈرائیوروں کو عدالت میں پیش کرنے میں مبینہ تاخیر کیوں ہوئی؟ اور صحافی سے موبائل فون طلب کرنے کا قانونی اختیار کس ادارے کے پاس ہے؟صرف صحافی کے ذرائع تلاش کرنے پر توجہ دینے کے بجائے اسمگلنگ، ٹیکس چوری، ٹرکوں کی ملکیت اور سرکاری اداروں کے متضاد بیانات کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
نتیجہ:
گیارہ ٹرکوں کی خبر اب دو الگ مگر باہم جڑے معاملات میں تبدیل ہوچکی ہے۔
پہلا معاملہ نان کسٹم پیڈ سگریٹوں، ممکنہ اسمگلنگ، ٹیکس چوری، مال کی ملکیت اور سرکاری اداروں کی کارروائی سے متعلق ہے۔ دوسرا معاملہ صحافی زمان مغل، اے بی این نیوز، سینیٹ کمیٹی کی ہدایات اور موبائل فون کے فرانزک سے متعلق ہے۔
اگر اے بی این نیوز کی رپورٹ میں کوئی غلط یا غیر مصدقہ الزام شامل تھا تو اس کی جانچ شفاف، غیر جانب دار اور قانونی طریقے سے ہونی چاہیے اور چینل کو اپنے شواہد پیش کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔
اسی طرح اگر سرکاری اداروں نے واقعی گیارہ ٹرک نان کسٹم پیڈ سگریٹ پکڑے تھے تو تحقیقات کا بنیادی مقصد مال کے اصل مالکان، اسمگلنگ کے نیٹ ورک، ٹیکس نقصان اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین ہونا چاہیے۔
صحافی کے پورے موبائل فون کا فرانزک، قانونی اختیار اور حفاظتی حدود واضح کیے بغیر، صحافتی ذرائع کی رازداری اور تحقیقاتی صحافت پر دور رس اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پی آئی ڈی، وزارتِ اطلاعات، ایف آئی اے، کسٹمز اور سینیٹ کمیٹی موبائل فون طلب کرنے کی قانونی بنیاد، تحقیقات کے دائرۂ کار اور صحافی کے خفیہ ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق واضح اور تحریری مؤقف سامنے لائیں۔(خصوصی رپورٹ)۔۔۔۔
231