خصوصی رپورٹ۔۔۔۔
قتل کیے گئےصحافی ارشد شریف کی بیوہ جویریہ صدیق نےکہا ہے کہ ان کے شوہر کے قتل کو تقریباً چار سال گزرنے کے باوجود انصاف تاحال نہیں مل سکا، حالانکہ کینیا کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ان پر فائرنگ غیر قانونی تھی اور یہ ان کے حقِ زندگی کی خلاف ورزی تھی۔ایکس پر جاری ایک بیان میں جویریہ صدیق نے کہا کہ عدالت نے تصدیق کی ہے کہ کینیا کی پولیس کے ہاتھوں ارشد شریف کا قتل غیر قانونی تھا، تاہم عدالت نے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلانے، سرکاری معافی جاری کرنے یا اس قتل کو تشدد قرار دینے کا حکم نہیں دیا۔
احتساب نہ ہونے پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے جویریہ صدیق نے مزید کہا، “نہ کوئی گرفتاری، نہ کوئی احتساب۔ میں نے یہ پاکستان میں بھی دیکھا اور اب کینیا میں بھی۔ چار سال بعد ہمارے پاس عدالتی اعلان تو ہے، لیکن انصاف اب بھی نہیں ملا۔ اب معاملہ دوبارہ کورٹ آف اپیل میں چلا گیا ہے۔۔
ان کے ریمارکس اس خاندان کی اس مسلسل جدوجہد کو ظاہر کرتے ہیں جو کینیا اور پاکستان دونوں ملکوں میں قانونی کارروائیوں کے ذریعے انصاف اور احتساب کے حصول کے لیے جاری ہے۔ ارشد شریف کی اکتوبر 2022 میں موت کے بعد سے یہ کیس عوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
کینیا کی سپریم کورٹ کا تازہ فیصلہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ ارشد شریف کا قتل ان کے آئینی حقِ زندگی کی خلاف ورزی تھا۔ تاہم جویریہ صدیق کے مطابق عدالت نے مجرمانہ کارروائی یا دیگر مطلوبہ قانونی اقدامات کا حکم دینے سے گریز کیا، جس کے باعث احتساب کا معاملہ تاحال حل طلب ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ اب دوبارہ کورٹ آف اپیل میں پہنچ گیا ہے۔
یہ تازہ پیش رفت جویریہ صدیق کی جانب سے کینیا میں برسوں سے جاری قانونی جدوجہد کے بعد سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کینیا کی نیشنل پولیس سروس اور اعلیٰ سرکاری حکام کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں قتل میں ملوث افراد کے خلاف مجرمانہ احتساب اور سرکاری معافی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران وہ مسلسل “غلط شناخت” کے بیانیے کو مسترد کرتی رہی ہیں اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
فروری 2026 میں پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے ازخود نوٹس کی کارروائی نمٹاتے ہوئے قرار دیا تھا کہ چونکہ یہ قتل پاکستان سے باہر ہوا، اس لیے عدالت کے پاس عدالتی نگرانی جاری رکھنے کا اختیار نہیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ کینیا کے حکام کے ساتھ تحقیقات اور تعاون باہمی قانونی معاونت کے طریقہ کار کے تحت جاری ہے۔ عدالت کے مطابق ارشد شریف کے قانونی ورثا مناسب عدالتوں سے مخصوص قانونی چارہ جوئی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس فیصلے نے جویریہ صدیق اور دیگر افراد کو مایوس کیا، جو امید کر رہے تھے کہ پاکستان کی عدلیہ تحقیقات میں پیش رفت کی نگرانی جاری رکھے گی۔ کیس کے باضابطہ طور پر بند ہونے سے پہلے ہی جویریہ صدیق عوامی سطح پر یہ خدشہ ظاہر کر چکی تھیں کہ کارروائی کسی معنی خیز احتساب کے بغیر اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔(خصوصی رپورٹ)۔۔۔
61