خصوصی رپورٹ۔۔
جون 2026 میں پاکستان بھر میں صحافیوں کے خلاف دھمکیوں، گرفتاریوں اور تشدد کے 9 واقعات رپورٹ ہوئے۔ لاہور، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پیش آنے والے واقعات میں چھ میں مبینہ طور پر ریاستی عناصر ملوث پائے گئے، صحافتی آزادی اور میڈیا کارکنوں کے تحفظ پر سنگین خدشات برقرار ہیں۔
پاکستان میں جون 2026 کے دوران صحافیوں کے خلاف دھمکیوں، قانونی کارروائیوں، گرفتاری، تشدد، ہراسانی اور خوف زدہ کرنے کے نو واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آئے ہیں، جو ملک میں آزادیٔ صحافت اور میڈیا کارکنوں کے تحفظ سے متعلق مسلسل بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان پریس کلب سیفٹی ہبز نیٹ ورک کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے یہ واقعات پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آئے۔ رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران قانونی مقدمات، گرفتاریوں، قتل کی دھمکیوں، جسمانی حملوں، ہراسانی اور سرکاری اہلکاروں کے دباؤ سمیت مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان پریس کلب سیفٹی ہبز نیٹ ورک، فریڈم نیٹ ورک کے زیر انتظام 2016 سے کام کر رہا ہے اور لاہور، ملتان، کوئٹہ، پشاور، گلگت اور مظفرآباد کے چھ بڑے پریس کلبوں کے تعاون سے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور متاثرین کو معاونت فراہم کرتا ہے۔
جون کے اعدادوشمار کے مطابق نو میں سے چھ واقعات میں مبینہ طور پر ریاستی عناصر، دو میں غیر ریاستی عناصر اور ایک واقعے میں ایک جرائم پیشہ گروہ ملوث تھا۔ متاثرہ صحافیوں میں دو ٹی وی رپورٹر، پانچ پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافی اور دو آن لائن پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے صحافی شامل تھے۔
سنگین واقعات میں آزاد صحافی رضی طاہر کی گرفتاری بھی شامل ہے۔ انہیں 23 جون کو اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب پیکا کے تحت درج مقدمے میں ان کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کردی گئی۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اہلکاروں نے انہیں عدالتی احاطے سے حراست میں لیا۔ آزادیٔ صحافت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں اور آن لائن اظہارِ رائے سے متعلق معاملات میں پیکا کی فوجداری دفعات کا استعمال بدستور جاری ہے۔ جون کی رپورٹ مرتب کیے جانے تک مقدمے کی عدالتی کارروائی جاری تھی۔
لاہور رنگ کے نمائندے ارسلان شوکت مہندرا کے خلاف رحیم یار خان میں اس وقت فوجداری مقدمہ درج کیا گیا جب انہوں نے عوامی پارکوں میں مبینہ طور پر ویڈیوز بنانے والے خواجہ سرا افراد سے متعلق ایک عوامی مسئلے کی رپورٹنگ کی۔ پولیس نے ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 341 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ مقامی صحافیوں کا مؤقف تھا کہ ارسلان شوکت پیشہ ورانہ صحافتی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ ڈسٹرکٹ پریس کلب کے ارکان نے مقدمے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ میں روزنامہ صاف صاف کے چیف ایڈیٹر حبیب اللہ ملک کے خلاف ریگولیٹری کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان نے انہیں پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن آرڈیننس 2002 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیا۔ یہ نوٹس کھلے سیوریج مین ہول سے متعلق خبر شائع کرنے پر جاری کیا گیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ خبر میں ہتک آمیز اور غیر تصدیق شدہ معلومات شامل تھیں۔ ایڈیٹر کو ثبوتوں سمیت ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی، جبکہ مزید قانونی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا۔
ملتان میں روزنامہ بیٹھک کے ایڈیٹر شکیل احمد بلوچ نے الزام عائد کیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اہلکار ایک ہی روز میں دو مرتبہ ان کے نیوز روم پہنچے۔
ان کے مطابق اہلکار کسی عدالتی وارنٹ یا تحریری اجازت نامے کے بغیر دفتر میں داخل ہوئے، عملے کو خوف زدہ کیا اور بغیر کسی تحریری رسید کے ایک کمپیوٹر اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس مبینہ کارروائی کے بعد سائبر کرائم تحقیقات کے دوران قانونی طریقۂ کار اور صحافتی مواد کے تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔
چینل 92 کے نمائندے فرحان ارشد بھٹی نے الزام عائد کیا کہ گوجرانوالہ میں تاجروں کے ساتھ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے مبینہ نامناسب رویے پر رپورٹ شائع کرنے کے بعد ادارے کے اہلکاروں نے انہیں ہراساں اور خوف زدہ کیا۔رپورٹ کے مطابق معاملہ بعد میں ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد مبینہ طور پر معذرت کی گئی اور واقعے میں ملوث ایک اہلکار کا تبادلہ کردیا گیا۔
جون کے دوران صحافیوں کے خلاف جسمانی تشدد کے واقعات بھی نمایاں رہے۔ روزنامہ خبریں کے کرائم رپورٹر میاں زاہد اویسی کو 7 جون کو بہاولپور میں بندرہ پل کے قریب نامعلوم افراد کے ایک گروہ نے حملے کا نشانہ بنایا۔حملہ آوروں نے انہیں ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں علاج کے لیے بہاول وکٹوریہ ہسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا، جبکہ دیگر حملہ آوروں کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری رہیں۔ مقامی صحافتی تنظیموں نے حملے کو آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے تحفظ پر حملہ قرار دیا۔
آج نیوز اور روزنامہ آج سے وابستہ رپورٹر ہدایت اللہ کو بنوں میں سڑک کی تعمیر میں مبینہ طور پر ناقص مواد کے استعمال کی رپورٹنگ کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔واقعے کے بعد ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ تفتیش کا عمل جاری رہا۔
چارسدہ سے تعلق رکھنے والے فری لانس صحافی کفایت اللہ یوسفزئی کو ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں سے متعلق خبریں شائع کرنے کے بعد دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی۔رپورٹ کے مطابق کال کرنے والے شخص نے انہیں معاملے پر مزید رپورٹنگ سے باز رہنے کا کہا اور دعویٰ کیا کہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے وابستہ افراد اور بٹ خیلہ میں سرگرم ایک جرائم پیشہ گروہ انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔اگرچہ اس دھمکی کے بعد کوئی جسمانی حملہ رپورٹ نہیں ہوا، تاہم واقعے نے بدعنوانی، انتظامی معاملات اور جواب دہی سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو لاحق خطرات کو نمایاں کیا۔
لاہور میں روزنامہ خبریں کے نمائندے حسنین اخلاق نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ہاؤسنگ تھری ونگ میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق خبر شائع کرنے کے بعد ملنے والی قتل کی دھمکیوں پر پولیس سے کارروائی کی درخواست کی۔شکایت کے مطابق صحافی نے خبر کے حوالے سے ایل ڈی اے کا مؤقف لینے کی کوشش کی تو ایک سرکاری افسر نے انہیں دھمکایا۔ بعدازاں ایک یونین عہدیدار نے مبینہ طور پر واٹس ایپ کے ذریعے خبردار کیا کہ اگر ایسی مزید خبریں شائع کی گئیں تو صحافی اور ان کے بچوں کو قتل کردیا جائے گا۔صحافتی تنظیموں نے دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے مقدمہ درج کرنے اور صحافی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
جون کے دوران سامنے آنے والے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات کسی ایک صوبے یا کسی ایک نوعیت کے دباؤ تک محدود نہیں۔ دستاویزی واقعات میں فوجداری مقدمات، ریگولیٹری نوٹس، گرفتاری، جسمانی تشدد، نیوز روم پر مبینہ چھاپے، سرکاری اہلکاروں کی جانب سے خوف زدہ کرنے کی کوششیں اور تحقیقاتی رپورٹنگ سے منسلک قتل کی دھمکیاں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی، حکمرانی، جرائم، مقامی انتظامیہ، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مفاد کے معاملات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی خاص طور پر انتقامی کارروائیوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔اگرچہ بعض واقعات میں حکام نے ملزمان کی گرفتاری، اہلکاروں کے تبادلے یا تحقیقات کی صورت میں کارروائی کی، تاہم جون کی ماہانہ رپورٹ مرتب ہونے تک بیشتر معاملات حل طلب تھے۔(خصوصی رپورٹ)۔۔
99