149

پاکستان میں ٹیلی وژن نشریات کا بدلتا معاشی منظرنامہ(حصہ دوم)

خصوصی رپورٹ۔۔
مالیاتی انحصار کا مسئلہ صرف کاروباری خطرات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات ادارتی آزادی تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ابھرتی ہوئی معیشتوں میں میڈیا کا جائزہ لینے والے ماہرین طویل عرصے سے اس امر کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ جب کسی نشریاتی ادارے کی آمدنی کا بڑا حصہ چند مخصوص اشتہار دہندگان پر منحصر ہو تو یہ انحصار بالواسطہ طور پر ادارتی فیصلوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس کے لیے براہِ راست دباؤ یا مداخلت کی جائے، بلکہ محض مالی وابستگی ہی بعض اوقات نیوز رومز کو زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ نتیجتاً ادارتی ترجیحات، پروگراموں کے انتخاب اور تحقیقاتی صحافت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً وہاں جہاں اشتہاری تعلقات کاروباری بقا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہوں۔
پاکستان میں اس موضوع پر کئی برسوں سے بحث جاری ہے، تاہم یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔
بھارت، بنگلہ دیش، مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک اور افریقہ کی کئی معیشتوں میں بھی نشریاتی ادارے ایسے ہی اشتہاری ڈھانچے کے تحت کام کرتے ہیں جہاں سرکاری ادارے، ریاستی ملکیتی کمپنیاں، بڑے صنعتی گروپ اور بااثر کاروباری خاندان اشتہاری اخراجات کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں۔
چنانچہ جب معیشت سست روی کا شکار ہوتی ہے یا سیاسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں تو اشتہاری بجٹ اکثر سب سے پہلے کم کیے جاتے ہیں، مؤخر کر دیے جاتے ہیں یا نئی ترجیحات کے مطابق تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پورا میڈیا سیکٹر ایسے بیرونی عوامل کے رحم و کرم پر آ جاتا ہے جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔
حتیٰ کہ ترقی یافتہ میڈیا منڈیاں بھی اس حقیقت سے مستثنیٰ نہیں۔
امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت کے دوران بڑے ٹیلی وژن نیٹ ورکس اور انتظامیہ کے تعلقات نے واضح کیا کہ سیاسی دباؤ، ناظرین کی توقعات، شیئر ہولڈرز کے مفادات اور اشتہار دہندگان کی ترجیحات بیک وقت میڈیا اداروں کی حکمتِ عملی پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ مختلف اداروں کی ادارتی پالیسیاں ایک دوسرے سے مختلف تھیں، لیکن بنیادی حقیقت یہی رہی کہ کوئی بھی براڈکاسٹر تجارتی اور سیاسی حقائق سے مکمل طور پر الگ ہو کر کام نہیں کر سکتا۔
فرق صرف یہ ہے کہ دنیا کے کئی بڑے میڈیا اداروں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنی آمدنی کے ذرائع میں نمایاں تنوع پیدا کر لیا ہے، جس کی بدولت وہ کسی ایک مالی ذریعہ پر مکمل انحصار نہیں کرتے۔
ڈیجیٹل اشتہارات نے میڈیا کی معیشت بدل دی،نشریاتی صنعت میں سب سے بڑی تبدیلی عالمی اشتہاری اخراجات کی نئی تقسیم ہے۔
ایک وقت تھا جب ٹیلی وژن اشتہارات کی دنیا پر تقریباً مکمل غلبہ رکھتا تھا کیونکہ بڑے پیمانے پر ناظرین تک رسائی کا یہی سب سے مؤثر ذریعہ تھا۔ مگر اب یہ صورتحال تیزی سے بدل چکی ہے۔
آج عالمی اشتہاری بجٹ کا مسلسل بڑھتا ہوا حصہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ گوگل، میٹا، ایمیزون، ٹک ٹاک اور مختلف اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نے اشتہار دہندگان کے سوچنے کا انداز ہی تبدیل کر دیا ہے۔
اب کمپنیاں صرف زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ وہ درست ہدفی صارفین، قابلِ پیمائش نتائج، فوری ڈیٹا، ناظرین کے رویّوں کا تجزیہ اور مہمات میں مسلسل بہتری جیسی سہولتیں چاہتی ہیں۔
بین الاقوامی اداروں گروپ ایم (GroupM) اور وارک (WARC) کی پیش گوئیوں کے مطابق عالمی اشتہاری اخراجات کا دو تہائی سے بھی زیادہ حصہ اب ڈیجیٹل میڈیا پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ ٹیلی وژن کا حصہ مسلسل سکڑ رہا ہے، خصوصاً ترقی یافتہ معیشتوں میں۔
یہ صرف ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں بلکہ اشتہار بازی کے پورے تصور میں بنیادی تبدیلی ہے۔
آج کا اشتہار دہندہ اپنے ہر خرچ کا قابلِ پیمائش نتیجہ چاہتا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ کتنے لوگوں نے اشتہار دیکھا، کس نے اس پر ردِعمل دیا، کون سی مہم زیادہ مؤثر رہی اور سرمایہ کاری سے حقیقی منافع کتنا حاصل ہوا۔
روایتی ٹیلی وژن اب بھی اپنی ساکھ، وسیع رسائی اور اثر انگیزی کی بدولت اہمیت رکھتا ہے، مگر صرف یہی خصوصیات اب اشتہاری بجٹ حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں رہیں۔
پاکستان اور اسی نوعیت کی دیگر معیشتوں کے براڈکاسٹرز کے لیے یہ تبدیلی عارضی نہیں بلکہ میڈیا کی معیشت کی مستقل تشکیلِ نو ہے۔
ٹیلی وژن چینل نہیں، ایک مربوط میڈیا ادارہ، اس نئی حقیقت کا مقابلہ صرف سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے یا موبائل ایپ لانچ کرنے سے ممکن نہیں۔براڈکاسٹرز کو اپنی بنیادی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔ انہیں خود کو صرف ایک ٹیلی وژن چینل نہیں بلکہ ایک مربوط میڈیا ادارہ سمجھنا ہوگا جو مختلف پلیٹ فارمز پر بیک وقت اپنے ناظرین تک پہنچ سکے۔
آج کا صارف صرف ٹیلی وژن اسکرین تک محدود نہیں رہا۔ وہ خبروں اور تفریحی مواد تک ویب سائٹس، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، یوٹیوب، پوڈکاسٹس، نیوز لیٹرز، موبائل ایپس، سوشل میڈیا اور اسمارٹ ٹی وی کے ذریعے رسائی حاصل کرتا ہے، اور دن بھر مختلف پلیٹ فارمز کے درمیان آسانی سے منتقل ہوتا رہتا ہے۔
اس لیے مستقبل کا کامیاب براڈکاسٹر وہ ہوگا جو ہر پلیٹ فارم پر یکساں معیار کے ساتھ اپنی موجودگی برقرار رکھ سکے۔
ٹیلی وژن اپنی اہمیت برقرار رکھے گا، لیکن اب وہ میڈیا کاروبار کا واحد ستون نہیں بلکہ ایک وسیع ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کا صرف ایک حصہ ہوگا۔
آمدنی کے نئے ذرائع ناگزیر
اسی طرح کاروباری ماڈل میں بھی بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
اشتہارات آئندہ بھی اہم ذریعۂ آمدنی رہیں گے، لیکن صرف اشتہارات پر انحصار کرنا اب پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکا ہے۔
جو براڈکاسٹر اپنی آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کریں گے وہ معاشی بحرانوں، اشتہاری منڈی میں اتار چڑھاؤ اور سیاسی تبدیلیوں کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں گے۔
ممکنہ متبادل ذرائع میں برانڈڈ کانٹینٹ، اسپانسرشپس، لائیو ایونٹس، مواد کی لائسنسنگ، پروڈکشن سروسز، تربیتی پروگرام، تحقیقی خدمات، ڈیجیٹل سبسکرپشنز، ممبرشپ پروگرامز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری شامل ہیں۔
ان تمام ذرائع کا مشترکہ فائدہ یہ ہے کہ ادارہ کسی ایک آمدنی کے ذریعے پر انحصار کرنے کے بجائے متعدد مالی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، جس سے اس کی طویل المدتی مالی پائیداری مضبوط ہوتی ہے۔
اب آمدنی میں تنوع محض ایک کاروباری برتری نہیں بلکہ بقا کی بنیادی شرط بنتا جا رہا ہے۔(خصوصی رپورٹ)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں