لاہور پریس کلب نے اسکروٹنی کے بعد گزشتہ دنوں ایک سو چورانوے ارکان کی رکنیت ختم کردی۔ لاہور کے صحافتی حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پریس کلب کا برسراقتدار گروپ نے اسکروٹنی کے ذریعے سیاسی مخالفین کی اکثریت کے نام شامل کئے۔لاہور پریس کلب نے اپنے سابق جوائنٹ سیکرٹری کی ممبر شپ بھی کینسل کر دی،حسن تیمور جکھڑ تین بار گورننگ باڈی کا الیکشن جیتے جبکہ اس کے بعد جوائنٹ سیکرٹری بھی منتخب ہو چکے ہیں،اب حالیہ سکروٹنی لسٹ میں ان کا بھی نام شامل ہے کہ ان کا شعبہ صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔حسن تیمور جکھڑ نے عمران جونیئر ڈاٹ سے بات چیت میں بتایا کہ وہ کچھ عرصہ سے جرنلسٹس گروپ اور اس کے مرکزی عہدیداروں کی پالیسیوں پر تنقید کررہے تھے، کچھ عرصہ قبل ان کے والد اور سینئر صحافی اقبال جکھڑ پر بھی تنقید کرنے کے جرم میں پریس کلب میں داخلہ پر پابندی لگائی گئی تھی جو تاحال ختم نہیں کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقبال جکھڑ جرنلسٹ گروپ کے ہی سپورٹر ہیں لیکن وہ پریس کلب کے صدر کی پالیسیز پر تنقید کرتے تھے ۔اسکروٹنی لسٹ میں لائف ممبر فاروق بھٹی، کاشف بھٹی، امجدبخاری، اظہرتھراج، ندیم عباس، عثمان یوسف قصوری، روبا عروج، علی رضا رحمانی سمیت کئی نام ایسے ہیں جو اس وقت کلب کی رکنیت کی تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں اور عامل صحافی ہیں، 2025 کے لیے جرنلسٹ گروپ کے مخالف کے طور پر الیکشن لڑنے والے امیدوار اظہر تھراج کی ممبر شپ بھی ختم کر دی گئی ۔ مگرپریس کلب کے نوٹس کے مطابق ان سب کا شعبہ صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
357
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل