تحریر: عاصم ارشاد۔۔۔
پوڈکاسٹر اور اینکر ریحان طارق کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی۔ اگر واقعی کسی صحافی، اینکر یا پوڈکاسٹر کو صرف سوال کرنے کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے تو یہ ایک تشویش ناک روایت ہے۔ اختلافِ رائے، تنقیدی سوال اور طاقتور حلقوں سے جواب طلب کرنا صحافت کا بنیادی فریضہ ہے، اور کسی بھی جمہوری معاشرے میں صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں خوف کے بغیر انجام دینے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا اصول بھی اتنا ہی اہم ہے، اور بدقسمتی سے ہم اکثر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
صحافت کا کام سوال کرنا ہے، فیصلہ سنانا نہیں۔ صحافی عدالت نہیں ہوتا، پراسیکیوٹر نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس کا کام کسی مہمان کو ذہنی طور پر ایسے مقام تک دھکیلنا ہوتا ہے جہاں وہ اشتعال میں آ کر وہی جواب دے جس کی پہلے سے توقع کی جا رہی ہو۔ دنیا کے معتبر صحافتی اداروں اور انٹرویو لینے والوں کو دیکھیں، ان کا سب سے بڑا ہتھیار سوال ہوتا ہے، رائے نہیں۔ وہ سخت ترین سوال بھی کرتے ہیں، مگر سوال اور فیصلہ الگ الگ رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں پوڈکاسٹ کلچر میں ایک ایسا رجحان پروان چڑھا ہے جہاں بعض اوقات میزبان خود منصف بھی بن جاتا ہے، وکیل بھی، اور سوشل میڈیا کا جج بھی۔ کئی پروگراموں میں سوال کم اور بیانیہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ بعض اوقات مہمان کو بار بار ایک خاص سمت میں دھکیلا جاتا ہے تاکہ وہ متنازع یا سنسنی خیز جملہ بول دے، پھر اسی کلپ کو وائرل کر کے کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ صحافت نہیں، بلکہ ریٹنگ اور وائرل ہونے کی دوڑ ہے۔
اگر کوئی سمجھنا چاہے تو ریحان طارق کے پوڈکاسٹس کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ان کے خلاف مقدمہ درست ہے یا غلط، سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا پوڈکاسٹ کلچر واقعی صحافت کے اصولوں پر کھڑا ہے؟ کیا ہر جگہ مقصد معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے، یا بعض اوقات مہمان سے اپنی پسند کا جواب نکلوانا اصل ہدف بن جاتا ہے؟ یہ سوال صرف ایک شخص سے متعلق نہیں، بلکہ پورے شعبے کے لیے ہے۔ اسی تناظر میں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر ریحان طارق کی جانب سے “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگائے گئے۔ اگر ان پر درج مقدمہ مذہبی حساسیت یا نفرت انگیزی سے متعلق الزامات کے تناظر میں ہے، تو اس معاملے کو حب الوطنی یا غداری کے بیانیے سے جوڑنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ جب مقدمہ نہ بغاوت کا ہو، نہ ریاست دشمنی کا، تو پھر “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگا کر اصل قانونی بحث کو جذباتی رنگ دینا مسئلے کا حل نہیں بنتا۔ ایسے طرزِ عمل سے سنجیدہ قانونی اور صحافتی بحث کمزور پڑ جاتی ہے۔
اصول ہمیشہ افراد سے بڑے ہوتے ہیں۔ اگر آج ہم صرف پسند اور ناپسند کی بنیاد پر مؤقف اختیار کریں گے تو کل انہی اصولوں کا دفاع نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں صحافیوں کے خلاف غیر ضروری جبر کی مخالفت بھی کرنی چاہیے، اور صحافیوں کو پیشہ ورانہ حدود یاد دلانی بھی چاہییں۔ دونوں باتیں ایک ساتھ درست ہو سکتی ہیں۔ صحافت کی طاقت سوال میں ہے، اشتعال میں نہیں۔ صحافت کی طاقت حقائق میں ہے، تماشے میں نہیں۔ صحافت کی طاقت غیر جانبداری میں ہے، نہ کہ پہلے سے طے شدہ نتیجے تک مہمان کو پہنچانے میں۔ اگر ہم واقعی صحافت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں شخصیات کے بجائے اصولوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ غلطی ریاست کرے تو اس پر بھی تنقید ہونی چاہیے، اور اگر صحافی اپنے پیشے کی حدود سے تجاوز کرے تو اس پر بھی سوال اٹھنا چاہیے۔(عاصم ارشاد)۔۔
242