199

ہماری کون سنے گا

تحریر: عرفان شیخ
دور حاضر میں طبی سہولیات ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہیں نوکری پیشہ افراد ایسے اداروں کو غنیمت سمجھتے ہیں اور بہت سے تحفظات کے باوجود چھوڑنے کا نہیں سوچتے جہاں میڈیکل کی سہولیات دی جاتی ہوں مگر بد قسمتی سے پاکستان میں چند ہی ادارے ایسے ہونگے جو اپنے ورکرز کو میڈیکل کی سہولیات دیتے ہوں او ران میں سے بھی زیادہ تر وہ ہیں جو کہتے ہیں جناب آپ کو میڈیکل کی سہولت تب ملے گی جب آپ یا آپ کا پیارا کسی بد ترین حادثے کا شکار ہو جائے یا کسی موذی بیماری میں مبتلا ہو کر اسپتال میں داخل ہو جائے،وہ بھی صرف اسپتال میں علاج کا خرچہ باقی دوائیاں آپ نے خود خریدنی ہیں۔ بصورت دیگر آپ نے اسی 25سے 35ہزار والی نوکری میں اپنا بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے گھر کا کرایہ دینا اپنا اپنے گھر والوں کا علاج کرانا ہے پھر جو بچیں انہیں جمع کرلیں،یہ مذاق تقریباََ تمام نجی اداروں میں روز کیا جاتا ہے مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ انسانی حقوق،بنیادی حقوق،مزدور کے حقوق اور غریب کے حقوق سمیت نجانے کس کس حقوق کی بات کرنے والے میڈیا اداروں میں بھی یہی رونا ہے۔
روزبروز زوال کی جانب پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں مالکان کو شاید کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑا لیکن عام ورکر اس نام نہاد میڈیا کی زبوں حالی کی ہاتھوں معاشی طور پر تقریباََ تباہ ہوچکے ہیں، پروفیشنلز نے میڈیا انڈسٹری کے بجائے محلے میں فرنچ فرائز کا اسٹال لگانا زیادہ مناسب سمجھنا شروع کردیا ہے کیونکہ جتنے پیسے مہینے بھرے کی کھجل خواری کے بعد چینل انکو دیتا ہے اس سے کہیں زیادہ وہ فرائز کے اسٹال سے کما لیتے ہیں مگر تمام سفید پوش ملازمین اسکی بھی ہمت نہیں کرتے سوچتے ہونگے لوگ کیا کہیں گے اتنا پڑھ لکھ کر یہی کرنا تھا تو بھائی پہلے سے کرلیتے،میڈیا اداروں میں ورکرز کی زبوں حالی میں مالکان کی سفاکیت کے علاوہ غیر پیشہ وارانہ افراد کا اہم عہدوں پر ہونا اور سب سے بڑھ کر تنخواہوں کی تاخیر وقت پر نہ ملنا اور اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف معاوضہ ہونا ہے،شہریوں کی حقوق کی بات کرنے کا دعویٰ دار میڈیا ورکر جب دیکھتا ہے اس کے تو خود کے حقوق کی ماپالی کی جا رہی ہے تووہ مسلسل کی شرمندگی سے بچنے کے لیے پیشہ کو ہی خیر باد کہہ دیتا ہے،وفاقی اور صوبے کے بجٹس میں ہر سال ایک روایتی اعلان کردیا جاتا ہے جس میں سرکاری ملازمین کو تو فائدہ ہوجاتا ہے مگر بے چارے نجی ملازمین بلخصوص میڈیا ورکرز بے چارے آج بھی مقررہ کم سے کم اجرت سے انتہائی کم معاوضے پر کام کرنے پر مجبور ہیں جس کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔مہنگائی کا گھوڑا ہر روز ایک نئی رفتار سے دوڑ لگارہا ہے مگر زیادہ تر اداروں میں پانچ پانچ دس دس سال سے تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا ہے اگر ملازمین بات کریں تو انہیں کہا جاتا ہے کرنا ہے تو کرو ورنہ چلتے بنو بے روزگاری کا طوفان ملازمین میں اتنی ہمت بھی نہیں پید اہونے دیتا کہ وہ کسی اور اداے میں نوکرے کی لیے دروازہ کھٹکھٹائیں کیونکہ مزید نوکریاں نکلنا تو درکنا جو پہلے سے موجود ہیں وہ بھی ہر روز دھڑکتے دل کے ساتھ آفس جاتے ہیں کہ ناجانے کس دن کہہ دیا جائے کہ آپ کل سے تشریف نہ لائیں،سوال یہ اٹھتا ہے کہ ناچار ورکرز کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں کیونکہ حکومتوں میں بیٹھے وزرا اور اعلیٰ عہدیدار زیادہ تر میڈیا مالکان ہیں اب بھلا انکے خلاف انہی کو شکایت کیسے کی جا سکتی ہے۔(عرفان شیخ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں