ہم مرنے سے پہلے سابقہ ہو رہے ہیں ! 36

ہم مرنے سے پہلے سابقہ ہو رہے ہیں !

تحریر: سید بدرسعید۔۔
کیا آپ نے محسوس کیا ؟ یقینا آپ کو بھی اس کا احساس ہوا ہو گا لیکن مجھے شدت سے احساس ہوتا ہے ۔ گزشتہ چند برس میں جب بھی کسی صحافی ساتھی کی وفات کی خبر آتی ہے تو ان کے تعارف میں "سابقہ " کا لفظ لکھا ہوتا ہے ۔فلاں ادارے کے سابقہ رپورٹر ، فلاں ادارے کے سابقہ سب ایڈیٹر اور فلاں ادارے کے سابقہ کیمرہ مین ۔
ہم مرنے سے پہلے "سابقہ" ہو رہے ہیں ۔ شاید ہم میں سے بہت سے زندہ حالت میں بھی سابقہ ہو چکے ہیں اور اس اعلان کا انتظار کر رہے ہیں جس میں سابقہ ادارے کا نام لے کر ہمیں شناخت دی جائے گی ۔ سابقہ ہوتے ہی ہمیں زندگی میں ہی بھلا دیا جاتا ہے ۔ کوئی یہ جاننے کی زحمت تک نہیں کرتا کہ جو شخص بےروزگار ہوا ہے اس اس کے گھر چولہا کیسے جلتا ہے ؟
مرنا ہم سب نے ہے ۔ آج کسی کارکن صحافی کی وفات کا اعلان ہو رہا ہے تو یہ اعلان ہمارا بھی ہو گا کہ موت اٹل حقیقت ہے لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ بےروزگاری ہمارے کارکن ساتھیوں کو وقت سے پہلے بوڑھا ، بیمار اور لاچار بنا رہی ہے ۔ موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ہے یا سابقہ ہونے کا غم ، بے بسی ، لاچاری اور معاشی حالات ہیں ؟
میں نے ڈیٹا اینالسز کیا تھا ۔ آپ بھی گزشتہ چند سال کا ریکارڈ نکال لیں ۔ ہارٹ اٹیک ، بلڈپریشر ، فالج، کینسر ، کڈنی اور برین ہیمرج ۔ یہ وہ 6 وجوہات ہیں جو 90 فیصد سے زائد "سابقہ " صحافیوں کے ساتھ جڑی ہیں ۔ ہماری کمیونٹی میں جب کوئی مرتا ہے تو ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ان 6 میں سے ایک وجہ لکھ دی جاتی ہے ۔
ان میں سے دو بیماریوں کا تعلق ہماری روٹین خوراک اور ماحول سے جڑا ہے ۔ ہم بدترین حالات میں کام کرتے ہیں جس میں ہر روز ڈپریشن میں اضافے کا باعث بنتا ہے ۔ ہم جو سستا اور غیر معیاری کھانا کھانے پر مجبور ہیں وہ ہمارے گردے اور معدہ تباہ کر دیتا ہے۔ باقی چار کا تعلق براہ راست ہمارے اداروں کے ماحول ، دفتری سیاست ، کم تنخواہ میں زیادہ کام ، ذہنی دباؤ ، بےروزگاری اور معاشی مسائل سے جڑا ہے
یہ ہمارے مجموعی مسائل ہیں جن کا شکار ہو کر ہم ایک ایک کر کے مر رہے ہیں ۔
ہم پہلے "سابقہ " ہوتے ہیں پھر معاشی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور پھر ایک دن اچانک مر جاتے ہیں ۔ ہمارے جنازوں پر ہماری کمیونٹی کی شمولیت ایک فیصد بھی نہیں ہوتی ۔
بےروزگاری اور معاشی حالات کارکن صحافیوں کے ان مسائل کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ان مسائل پر ہماری مجموعی قیادت کی توجہ ہی نہیں ہے ۔ کبھی کبھار ایک ایسی پریس ریلیز جاری ہو جاتی ہے جو کوئی پڑھتا ہی نہیں ۔ اس پر کیس سٹڈیز ، ڈیٹا اینالسز کے ساتھ این جی اوز اور حکومتی سطح پر کانفرنسز اور نشان دہی نظر نہیں آتی ، ان کا حل تلاش ہی نہیں کیا جا رہا ۔ کسی قسم کا ڈائیلاگ نہیں ہے ۔ اس معاملے پر ہمارے بڑوں کا کوئی اکٹھ یا گول میز کانفرنس تک نہیں ہے ۔ کلب اور یوجیز دونوں جگہوں پر کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہے ۔ بس جیسے ہی کوئی کارکن صحافی مرتا ہے تو سب ایک ایک پریس ریلیز جاری کر کے بری الزمہ ہو جاتے ہیں ۔ایسی پریس ریلیز کو کوئی نہیں پڑھتا ۔ اس پریس ریلیز میں بتا دیا جاتا ہے کہ مرحوم فلاں ادارے کے سابقہ ملازم تھے ۔ان ایشوز پر کانفرنس ہونی ضروری ہے ۔ جہاں اسٹیک ہولڈرز بلائے جائیں اور مل کر اس کا حل تلاش کیا جائے ۔ آپ کا اپنا۔۔ (سید بدر سعید)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں