anjanay kis ne arsh e ilahi hiladia 102

محسن نقوی کو شہ سرخیاں پسند ہیں

تحریر: امجد عثمانی۔۔
وزیر داخلہ جناب محسن نقوی کل سے شہ سرخیوں میں ہیں۔۔۔نقوی صاحب بنیادی طور پر۔ صحافی اور ایڈیٹر ہیں اور انہیں شہ سرخیاں پسند ہیں۔۔۔۔انہوں ایک معاشی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مروجہ نظام زمین بوس ہو چکا ہے۔۔۔تب سے سیاسی منظر نامے پر ایک کہرام مچا ہوا ہے۔۔۔میرے خیال میں نقوی صاحب نے تو محض عنوان ٹھہرایا ۔۔۔چل دیے اور شاید ان کا مقصود تھا۔۔۔۔ںہر حال دانشور پولیس افسر جناب ذوالفقار چیمہ نے غم میں ڈوب کر داستان غم کہی ہے۔۔۔۔آپ اسے نظام کا مائیکروسکوپک تجزیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔۔۔چیمہ صاحب لکھتے ہیں کہ وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے کہا ہے کہ پورا سسٹم collapse کر چکا۔۔۔ آپ نے بجا فرمایا مگر آپ اسکا حل کیا بتا رہے ہیں۔۔چار کی بجائے بارہ صوبے۔۔۔نہیں نقوی صاحب جس کو میجر سرجری کی ضرورت ہے اس مریض کو آپ دیسی پھکی سے ٹھیک کرنے کا نسخہ بتا رہے ہیں جو کارگر نہیں ہو سکتا۔۔
صوبے بھی بننے چاہئیں مگر اسوقت صوبوں سے زیادہ اہم اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ لوگوں کے پاس صرف ایک حق بچا تھا کہ وہ اپنے ووٹ سے حکومت بناتے تھے۔۔انکا یہ حق حکمرانی بھی چھین لیا گیا ہے۔۔سب سے پہلے وہ حق واپس ملنا چاہیے۔۔
چیمہ صاحب نے تلخ حقائق سے پردہ اٹھاتے لکھا کہ نظام کی صورت حال یہ ہے کہ
قومی ادارے اپنا وجود کھو چکے ہیں۔۔
پارلیمنٹ irrelevant ہو چکی ہے
عدلیہ کو اپاہج بنا دیا گیا ہے ۔۔۔تمام شہریوں کی آخری امید سپریم کورٹ کی اہمیت اور وقعت ایک سول جج کی عدالت سے بھی نیچے چلی گئی ہے
الیکشن کمیشن جانبداری کا استعارہ بن چکا ہے
نیب ۔ایف آئی اے اورایف بی آر حکومت کے اشاروں پر چلتے ہیں
ریاست کا چوتھا ستون بھی گرا دیا گیا ہے۔۔یعنی میڈیا کو صرف تعریف و تحسین کی اجازت ہے۔تنقید کرنے والے کا روزگار چھین لیا جاتا ہے
انتظامیہ اور پولیس کے افسران حکمرانوں کے ذاتی ملازم بن چکے ہیں جو حکمرانوں کے کہنے پر ہر غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ملک کے ہر حصے میں بے چینی اور بد امنی کی آگ لگی ہوئی ہے
ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔
انصاف ناپید ہے اور سرکار کے ہر دفتر میں کرپشن کا راج ہے۔۔۔۔لگتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔۔
نوجوان فرسٹریشن کا شکار ہیں اور پروفیشنلز ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔۔شہریوں کا ریاست سے تعلق کمزور ہو رہا ہے
یہ حال کر دیا ہے آپ نے ملک کا۔
نقوی صاحب۔یاد رکھیں
امن جبر سے نہیں، انصاف سے قائم ہو سکتا ہے اور
استحکام ظلم اور نا انصافی سے نہیں ۔۔۔۔صرف قانون کی حکمرانی سے آ سکتا ہے۔۔
اوپر بتائے گئے امراض کا علاج کریں تاکہ شہریوں کا وطن عزیز کے ساتھ پھر سے تعلق اور رشتہ مضبوط ہو۔
میرا خیال ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب سے جناب ذوالفقار چیمہ صاحب کی نظام بارے گواہی زیادہ معتبر ہے کہ وہ خود اس نظام کے جز رہے ہیں۔۔۔انہوں نے دل سے” دل کی بات “کہہ دی ۔۔۔۔صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے۔۔(امجدعثمانی)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں