anjanay kis ne arsh e ilahi hiladia 84

پی ٹی وی کا اتنا برا حال کیوں ہوا؟؟؟

تحریر: امجد عثمانی۔۔۔
پاکستان ٹیلی وژن کی بدمعاشی بد حالی کی تصویر کشی کرتی لاہور پریس کلب کی ایک پریس ریلیزمیں کہا گیا ہے کہ پی ٹی وی کے ملازمین ضروریات زندگی کے لیے گھریلو سامان بیچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔۔۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ قومی نشریاتی ادارے کا اتنا برا حال کیوں ہوا؟؟؟اس سوال سے پہلے دیکھتے ہیں کہ پی ٹی وی کے ملازمین واقعی اتنے بدحال ہوگئے؟؟؟جواب ہاں ہے کیونکہ تنخواہ دار لوگوں کا بجٹ اگر ایک مہینہ بھی ڈسٹرب ہوجائے تو یہی حال ہوتا ہے۔۔۔۔۔گھر کا کرایہ۔۔۔بجلی گیس کے ہوش ربا بل اور بچوں کی فیسیں وہ خرچے ہیں جو ملازمین کے لیے سوہان روح ٹھہرے۔۔۔اج ہی پی ٹی وی سے وابستہ پروڈیوسر دوست ملے۔۔۔کھلے دل کے آدمی ہیں لیکن حال دل کہتے جذباتی ہوگئے۔۔۔بتانے لگے میری عادت ہے کہ کھانا کھاؤں تو چھوٹے ملازمین کو بھی ساتھ بٹھا لیتا ہوں۔۔۔اج کھانا کھانے لگا تو ایک نائب قاصد بھی اگئے۔۔۔کھانے کے بعد وہ صاحب رو پڑے اور کہا کہ آج میری جیب خالی ہے۔۔۔ مجھے ایک دو ہزار روپے بھی دیں۔۔پروڈیوسر دوست کہنے لگے میں نے کہا کہ آج تو میرا بھی یہی حال ہے اور میرے پاس بھی 330روپے ہیں۔۔۔۔کہنے لگے پی ٹی وی پر ایک دہائی نچھاور کردی لیکن آج بھرم بھی چلا گیا۔۔۔۔۔سوال کہ پی ٹی وی کا برا حال کیوں ہوا ؟؟؟اس کا مختصر ترین اور سادہ ترین جواب یہ ہے کہ وہی روش جس نے نجی چینلز کا کباڑہ کردیا ۔۔۔۔یعنی اینکرز کروڑوں میں کھیلیں اور کسی بھی ادارے کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچانے والے رپورٹرز ۔۔۔نیوز ایڈیٹرز اور پروڈیوسر کے لیے پچاس ہزار سے لاکھ پر بھی تاریخ پر تاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پی ٹی وی کے ریگولر ملازمین کے مقابلے میں کنٹریکٹ مافیا کو بھاری پیکیج سرکاری ٹی وی کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے۔۔۔۔اللہ نہ کرے پی آئی اے کی طرح یہ قومی ادارہ بھی اس ناجائز بوجھ کی نحوست سے بانجھ ٹھہرے۔۔۔۔۔۔!!!!(امجد عثمانی)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں