تحریر: میاں ندیم۔۔
کوئی شک نہیں صحافت کے میڈیم وقت کے ساتھ بدلتے رہے اخبار،ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور آج سوشل میڈیا مگر ابلاغ عامہ کی تعریف اور ضوابط وہی رہے۔ذمہ داری، قابل اعتبار انفارمیشن سورس،تحقیق اور الفاظ کا چناو معذرت آج ان میں سے کوئی ایک بھی نظر نہیں آتا۔۔اسٹیج پر کردار طے کرکے آتے ہیں کہ کون کیا بولے گا اور جواب میں دوسرے کا ری ایکشن کیا ہوگا یہی کچھ ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر ہونے والے کام میں ہورہا ہے جہاں تک سبسکرائبز،فالورز اور ویوز کی تعداد کا تعلق ہے تو اب یہ کوئی سکریٹ نہیں رہا کہ اگر پیسے ہیں تو کئی ملین فالورز اور سبسکرائبز والے اکاؤنٹ بھی برائے فروخت دستیاب رہتے ہیں ہر وقت اسی طرح ویڈیو یا پوسٹ پر لاکھوں ویوز بھی تھوڑا سا بجٹ خرچ کرکے مل جاتے ہیں۔۔۔اب آتے ہیں کانٹیکٹ کی طرف تو اونچے سے اونچا بولنا،ذومعنی الفاظ، بدزبانی یہ معیار رہ گیا ہے، تحقیق کہیں نظر آتی ہے؟ ایک صاحب نے ویڈیو کے ٹائٹل میں جملہ لکھا “عمران خان کے بارے میں شرطیہ خصوصی خبر” بہت سنئیر صحافی ہیں۔۔اب چونکہ سوشل میڈیا پر ایک نام بک رہا ہے سو انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا۔۔میں برطانوی صحافی جان اوبرئن،امریکی صحافی ٹکرکارلسن، کرس ہیجز، شون ریان وغیرہ کو سنتا ہوں ان کا تین چار گھنٹے کا “پوڈ کاسٹ” بھی بور نہیں ہونے دیتا مگر اپنے دوستوں کو چیخنے، چنگھاڑتے سنتے ہیں تو 20 منٹ برداشت کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا،دنیا میں پروفیشنل صحافی سوشل میڈیا پر بھی اپنی ساکھ قائم رکھنے کے لیے ریسرچ کرتے ہیں جان لگاتے ہیں۔۔ہمارے ہاں سب سے بڑا مسلہ سوشل میڈیا پر پروفیشنل صحافیوں کی کمی ہے جو بیٹھے ہیں ان کے فالورز ضرور ہونگے مگر وہ صحافی نہیں ہیں جس طرح ہمارے بعض دوست زندگیاں صحافت میں گزارنے کے باوجود صحافی نہیں بن سکے اسی طرح یہ احباب بھی صرف چیخ اور چلا سکتے ہیں، پوڈکاسٹ کو رنگین کرنے کے لیے ذومعنی جملوں کا استعمال کرسکتے ہیں مگر تحقیق نہیں کرسکتے۔۔۔تحقیقاتی صحافت سوشل میڈیا پر جتنا بھی کام ہورہا ہے اس میں کہیں نظر نہیں آتی کرائم کی پرانی سٹوریوں کو ری پروڈیوس کرنا تحقیقاتی صحافت نہیں۔۔میں سوشل میڈیا پر کام کرنے والے دوستوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ پہلے چند ماہ تک دنیا کے مختلف تحقیقاتی صحافیوں کو سنیں اس کے بعد اپنے کام کا تقابلی جائزہ لے کر خود فیصلہ۔۔ٹکرکارلسن نے اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کا انٹرویو کرکے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا جن دوستوں نے نہیں دیکھا وہ ڈیڑھ، دو گھنٹے نکال کر ضرور دیکھیں اس کا انٹرویو مشرق سے مغرب تک پوری دنیا میں ڈسکس ہوا۔۔اس کی باز گشت عالمی اداروں میں سنی گئی یہاں تک کہ وائٹ ہاوس کو وضاحت دینا پڑی۔۔برطانوی صحافی جان اوبرائے کو بھی ضرور سنیں،یہ لوگ دنیا کو دینے والی خبریں نکالتے ہیں، ان کے انٹرویوز کے انداز، سوالوں اور الفاظ کے چناو کو دیکھیں۔۔آپ کو کہیں چیخ و پکار نہیں ملے گی، کہیں آواز بلند سے بلند تر نہیں ہوگی مگر ان کی تحقیق میں اتنی جان ہوتی ہے کہ دیکھنے والے کو دو،تین گھنٹے تک سننے پر مجبور کرتی ہے۔۔شون ریان نے ایک انتہائی زبردست انٹرویو 12 گھنٹے کا کیا ہوا ہے جو اس کے یوٹیوب پر موجود ہے اور کئی سو ملین لوگ دیکھ چکے ہیں۔۔ان کے سبسکرائبز کی تعداد پاکستان میں کام کرنے والے نامور صحافیوں اور سوشل میڈیا کے لوگوں سے کہیں زیادہ ہے ان کے پروگراموں کو لاکھوں ڈالر کے سپانسرز ملتے ہیں۔۔یہ کہنا درست نہیں کہ لوگ زیادہ دورانیے کے پوڈ کاسٹ یا انٹرویوز دیکھنا نہیں چاہتے اصل یہ کہہ کر احباب اپنی قابلیت کا پردہ رکھنا چاہتے ہیں کہ اگر وہ 20/30 منٹ کی ایک اچھی ویڈیو نہیں سکتے تو دو چار گھنٹے میں تو ان کے اپنے پلے کچھ نہیں بچے گا۔۔۔(میاں ندیم)۔۔۔
109