تحریر: محمد طاہر۔۔
مجیب الرحمان شامی صاحب سے ایک قلبی تعلق کے باعث کوئی بات کرنا قدرے دشوار رہتا ہے، مگر صحافت کے فرائض تعلق کی تہہ داریوں سے زیادہ نزاکتوں کے حامل ہوتے ہیں۔مجیب شامی کو دنیا ٹی وی سے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ درست بات یہ ہے کہ اُنہیں یہ پیغام دیا گیا کہ وہ یکم اگست کے بعد پروگرام نہیں کر سکیں گے، چنانچہ اُنہوں نے فوری استعفیٰ دیتے ہوئے یکم اگست تک بھی اپنے پروگرام کو جاری رکھنے سے معذرت کر لی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ مجیب شامی صاحب کی رخصتی سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک دوسرے سوال میں پوشیدہ ہے کہ کیا اُن کے پروگرام سے بھی کوئی فرق پڑتا تھا؟
اُصولی طور پر مجیب شامی کا دنیائے صحافت میں قد اتنا بلند تھا کہ پورا دنیا ٹی وی اس کے آگے چھوٹا نظر آ سکتا تھا، مگر وہ بھی اس بھیڑ کا حصہ بنے رہے جو بھیڑ چال چلتے ہوئے صرف اپنے “معاملات” (یہاں تعلق کے باعث مفادات کا لفظ لکھنے سے احتیاط برت رہا ہوں) پر نگاہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ بھی ہزاروں پروگرامات میں سے ایک پروگرام کی شمار قطار میں کہیں دور پرے آسودہ تھے۔ ایک ایسا آدمی جو اپنی کوئی پوزیشن رکھتا ہو، مستحکم رائے رکھتا ہو اور اس کے لیے خطرہ مول لیتا ہو، جب اسکرین سے علیحدہ ہوتا ہے تو فرق پڑتا ہے، فکری طور پر فاصلہ ہونے کے باوجود منیزے جہانگیر کی آج ٹی وی سے علیحدگی محسوس کی گئی۔ اور اس پر ایک آواز بھی بلند ہوئی مگر مجیب شامی کے لیے کوئی آواز اس لیے موجود نہیں کہ دنیا ٹی وی کے پروگرام میں یا اُن کی حالیہ صحافتی زندگی میں کسی معاملے پر پوزیشن یا سوال کی شدت منیزے جہانگیر جیسی بھی نہیں رہ گئی تھی۔ صلاحیت اور مقام کے اعتبار سے مجیب شامی اور منیزے جہانگیر کے درمیان کوئی موازنہ ہی نہیں مگر ایسا کیا ہے کہ منیزے جہانگیر دنیا ٹی وی سے چھوٹے ٹی وی میں ہوتے ہوئے اور مجیب شامی جیسا قد نہ رکھتے ہوئے بھی زیادہ موثر تھیں، اور زیادہ لوگوں کو افسردہ کر گئیں۔ سچ یہ ہے کہ میں منیزے جہانگیر کے خیالات سے اختلاف رکھتے ہوئے بھی اُن کے آف ائیر کیے جانے پر زیادہ افسردہ ہوں اور مجیب شامی کے ساتھ دہائیوں پر پھیلے قلبی تعلق کے باوجود اُن کو آف ائیر کرنے پر کوئی بھی دکھ محسوس نہیں کر سکا۔ کیوں؟
واضح طور پر مجیب شامی کسی رائے کے باعث ، طاقت ور حلقوں کے لیے کوئی خطرہ پیدا کرنے کے سبب ،ملک کی موجودہ زبوں حالی کے خلاف کسی پوزیشن کی وجہ سے، کسی دباؤ میں ٹی وی سے علیحدہ نہیں کیے گئے۔ بلکہ دنیا ٹی وی کی مینجمنٹ نے اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے اس پروگرام کو غیر مفید سمجھ کر ختم کر دیا۔ جبکہ “آج” کتنا ہی چھوٹا ٹی وی کیوں نہ رہا ہوں، منیزے جہانگیر پروگرام کی اثر پزیری یا کوئی نہ کوئی فرق ڈالنے کے باعث کسی نہ کسی “دباؤ” کے باعث علیحدہ کی گئی۔ یہ وہ فرق ہے جو صلاحیت سے زیادہ کسی بھی معاملے میں ایک کردار کے مطالبے کی وضاحت کرتا ہے۔ ہمارا سماج حقیقی تبدیلی کے خلاف کھڑے اور طاقت کے محور میں گھومنے والوں کے لیے اب روایتی جذبات محسوس نہیں کرتا۔ دو لوگوں کے آف ائیر ہونے سے پائے جانے والے جذبات میں یہ فرق زیادہ دکھی کرنے والا ہے۔
رہی بات دنیا ٹی وی کی تو یہاں میاں عامر محمود سے لے کر نوید کاشف تک سب کی ایک پہلو دار داستان ہے، اس پر خامہ فرسائی پھر کبھی۔۔(محمد طاہر)۔۔
95