تحریر: سید بدر سعید۔۔
یوم صحافت پر میں نے کسی قسم کی “آزادی صحافت” والی پوسٹ نہیں کی تھی۔۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں آزادی صحافت کے حق میں نہیں ہوں بلکہ وجہ یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں صحافت آزاد نہیں ہے ۔ صحافت غیر ذمہ دارانہ بھی ہو گئی ہے اور انویسٹی گیٹیو جرنلزم بھی دم توڑ چکی ہے ۔ اب انویسٹیگیٹیو رپورٹ اسے کہا جاتا ہے جو کسی صحافی کو ایک ہی ذریعے سے کسی فائل یا محکمہ کا ڈیٹا مہیا کر دیا جائے ۔ یہ سورس جرنلزم تو ہوسکتی ہے لیکن اسے انویسٹیگیٹو صحافت نہیں کہہ سکتے ۔ یہاں تک کہ کاونٹر چیک والی روایت بھی ختم ہو گئی ہے ۔ واٹس ایپ ٹکرز کے بعد اب بیٹ جرنلزم بھی ختم ہو رہی ہے ۔اب ایک ہی رپورٹر ڈی ایس این جی یا کیمرے کے ساتھ مختلف بیٹس کی پریس کانفرنسز کی کوریج میں مصروف رہتا ہے ۔ کیمرہ لگا دیں اور پھر بنے بنائے ٹکرز کے کر فوٹیج کے ساتھ بھیج دیں بس ڈیوٹی پوری ہو گئی۔ نیوز روم اور بیورو دونوں ہی سکڑ رہے ہیں۔ گیٹ کیپر تقریبا دم توڑ چکے ہیں ۔ زبان و بیان پرانے دور کی پریکٹس ہے ۔آپ پوچھ لیں اس سال اب تک کتنی کتب پڑھی ہیں ۔ چلیں عمران سیریز یا ڈائجسٹ مارکہ کہانیاں پی پوچھ لیں ۔ رپورٹرز کی اکثریت نے ایک بھی کتاب نہیں پڑھی ہو گی ۔ نیوز روم والوں میں بھی ایک فیصد ایسے نکلیں گے جنہوں نے کوئی کتاب پڑھ لی ہو گی ۔ یہاں تک کہ صحافیوں نے اخبارات پڑھنا بھی چھوڑ دیا ہے اور ٹی وی دیکھنے کا وقت نہیں ملتا
صحافت کے اس زوال کے ذمہ دار صحافی خود ہیں ۔ ہم حکومت کو کہتے ہیں کہ اس نے پیکا ایکٹ کے نام پر صحافت کو محدود کرنے کی کوشش کی ۔ کیا آپ جانتے ہیں خود صحافیوں نے بھی مخالفین پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کروائے یا کروانے کی کوشش کی ہے ۔ یہ دوہرا معیار مزید زوال کا باعث بن رہا ہے ۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں خبر کی آزادی ہو ، دوسری طرف تقریب میں کوریج کے دوران اپنی اصل تصویر نشر کر دینے پر مقدمات درج کروانے والی بھی ایک صحافی ہیں ۔ کرائم رپورٹرز کی اکثریت نے مخالفین پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کروانے کے لیے درخواستیں دیں۔ ان میں بڑے نام بھی شامل ہیں اور ڈیجیٹل جرنلزم سے منسلک لوگ بھی شامل ہیں ۔ غیر تصدیق شدہ خبر ٹویٹر یا فیس بک کے ذریعے جاری کرنے والوں میں بھی کئی بڑے نام شامل ہیں جس سے پتا لگتا ہے کہ سینئرز میں بھی اب خبریت ختم ہو گئی ہے ۔ سورس ختم ہو گئے ہیں ۔ فیلڈ ورک ختم ہو گیا ہے ۔اب ذرائع کا مطلب سنی سنائی باتیں ہیں ۔ خبر کا حوالہ سوشل میڈیا پر کسی کا ٹویٹ ہے ۔ رپورٹنگ کے مراکز پریس کانفرنسز اور ان پریس کانفرنسز میں تھوڑے “اوکھے ” سوال پوچھ کر بس واہ واہ کروانا ہے ۔ ایڈیٹنگ اور گیٹ کیپنگ کا یہ حال ہے کہ اینکر کو بلاول کے عہدے کا علم نہ ہونے والا سوال بھی نشر ہو جاتا ہے ۔
آج صحافت نہ آزاد ہے اور نہ ہی معتبر ہے ،ذمہ دار بھی نہیں ہے اور سورس فل بھی نہیں ہے ۔ پریس کانفرنس کا نام فیلڈ رپورٹنگ ہے اور سیاسی جماعت کے بیانیہ کا نام نظریہ ہے ۔ یوم صحافت اب ماضی کی ایک یادگار کے سوا کچھ نہیں رہا (سید بدر سعید )
143