پاکستانی نژاد برطانوی فلم ساز سیماب گل کی تنقیدی سطح پر سراہی جانے والی فلم’’گھوسٹ اسکول‘‘ کو سندھ میں نمائش کی اجازت نہیں مل سکی، کیونکہ سندھ بورڈ آف فلم سینسرز نے فلم کو سینسر سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔فلم’’گھوسٹ سکول‘‘ نے برطانیہ کے ایشیئن فلم فیسٹیول میں بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ اپنے نام کیا، جبکہ اس کا پریمیئر ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ٹی آئی ایف ایف) میں ہوا تھا، جہاں اسے بہترین فلم کے زمرے میں نامزد بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ فلم کو جدہ میں ریڈ سی فلم فیسٹیول میں پیش کیا گیا اور لاس اینجلس کے انڈین فلم فیسٹیول میں’’بہترین سماجی حقیقت نگاری اور مؤثر کہانی‘‘ پر خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔فلم میں سندھ میں موجود ’’گھوسٹ سکولوں‘‘ اور لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔ کہانی 10 سالہ رابعہ کے گرد گھومتی ہے، جس کا کردار نازولیہ ارسلان نے ادا کیا ہے۔ رابعہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کا مقامی سکول ایک افواہ کے باعث بند کر دیا جاتا ہے کہ وہاں بھوت ہیں۔ درحقیقت یہ بہانہ استاد اور گاؤں کے بااثر افراد کی جانب سے سکول بند رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ فلم کراچی کے مضافاتی علاقوں چشما گوٹھ اور دیگر دیہات میں فلمائی گئی تھی۔سیماب گل نے’’ڈان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ بورڈ آف فلم سینسرز کے فیصلے پر حیران ہیں، کیونکہ ان کی فلم میں کوئی متنازع مواد شامل نہیں اور اس کا مقصد صرف تعلیم کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی سینسر بورڈ اور پنجاب کے حکام نے فلم پر کوئی اعتراض نہیں کیا، تاہم سندھ میں اسے’’عوامی نمائش کے لیے ناموزوں‘‘ قرار دیا گیا۔سندھ بورڈ آف فلم سینسرز کے سیکریٹری کی جانب سے جاری کردہ خط میں کہا گیا کہ ’’تفصیلی جائزے اور غور و خوض کے بعد بورڈ نے فلم کو عوامی نمائش کے لیے موزوں نہیں سمجھا‘‘۔سیماب گل کا کہنا تھا کہ انہیں اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ بورڈ کو فلم کے کس پہلو پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کے بعد بورڈ سے رابطہ کیا، لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔دوسری جانب سندھ کے وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ فلم سینسر بورڈ ایک خودمختار ادارہ ہے، جس کے 15 ارکان فلموں کی نمائش سے متعلق فیصلے کرنے کے مجاز ہیں، اور یقیناً بورڈ کے پاس فلم کو مسترد کرنے کی کوئی معقول وجہ ہوگی۔ سیماب گل، جنہوں نے فلم کی تیاری اور تقسیم کے اخراجات اپنی جیب سے برداشت کیے ہیں، کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے بڑے سینما بازار میں فلم کی نمائش نہ ہونے سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے سندھ میں موجود تقریباً 15 ہزار ’’گھوسٹ سکولوں‘‘ کے مسئلے کو سنگین قرار دیتے ہوئے سینسر بورڈ سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔
120
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل