177

چینلز اداراتی خودمختاری کھوچکے

تحریر: زاہد گشکوری۔۔
پاکستان کے بیشتر نیوز چینلز اپنی اداراتی خودمختاری کھو چکے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایڈیٹرز کا کردار یا تو زبردستی چھین لیا گیا ہے یا پھر اسے خوش دلی سے خود ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔
گزشتہ سال معروف ٹی وی چینلز نے مجموعی طور پر 79 ارب روپے سے زائد آمدنی حاصل کی، لیکن ان میں سے بیشتر آج بھی خود کو پبلک لسٹڈ کمپنیاں بنانے سے گریزاں ہیں۔ اسی طرح، چند استثناؤں کے علاوہ، زیادہ تر چینلز کا کبھی فرانزک آڈٹ بھی نہیں ہوا۔
جب نہ آڈٹ ہو، نہ اداراتی نگرانی، نہ ملازمین کے حقوق اور نہ ہی کوئی مؤثر احتساب، تو ہر قسم کا مواد بغیر کسی جانچ پڑتال کے براہِ راست عوام تک پہنچ جاتا ہے۔ ٹی وی ریٹنگز کے نظام پر بھی بڑے پیمانے پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، اور صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ چند افراد بھی ریٹنگز پر اثر انداز ہو کر رپورٹرز، میڈیا مالکان اور میڈیا اداروں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، بلکہ کسی چینل کی نشریات معطل کرانے تک میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
میڈیا مالکان اگر اس زہر کو اپنی مرضی سے قبول کرتے رہیں گے تو انہیں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ یہ کاروباری ماڈل زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اداراتی نگرانی بحال کی جائے اور پیشہ ور صحافیوں کو وہ کام کرنے دیا جائے جس کی انہیں تربیت دی گئی ہے۔( زاہد گشگوری)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں