197

صحافت میں کوئی جاب سیکورٹی نہیں

تحریر: نجم ولی خان۔۔
صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں کوئی جاب سیکورٹی نہیں مگر اس کے باوجود کئی دوست ایک ایک ادارے میں بیس بیس برس سے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سے جیسے ایکسپریس چھوڑے مجھے بیس برس سے زیادہ ہو گئے مگر اس وقت کے کئی دوست وہاں پر اب بھی ہیں اور بہت سیٹ ۔۔ یقینا یہ تسلسل ایک آرٹ ہے جو صحافیوں کو کم ہی آتا ہے۔
ایک وقت کہا جاتا تھا کہ صحافت کے ساتھ ایک دو بڑی بے روزگاریاں ضرور آتی ہیں، مجھ پر ایک آئی مگر شاید ایک آدھ ماہ کی، مجھے تو اپنا پہلا اخبار یاد آتا ہے جس میں یہ علم نہیں ہوتا تھا کہ سیزھیاں چڑھ رہے ہیں تو یہ آخری بار تو نہیں۔ ایک اور ادارہ جو اب بھی آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اس میں تو بڑے بڑے لوگوں کو بھی اس طرح نکالا گیا کہ دفتر کی دی ہوئی گاڑی میں دفتر پہنچے۔ گارڈ نے ادب سے کہا سر گاڑی کی چابی دیجئے گا آئل چینج کرنا ہے۔ گارڈ نے چابی پکڑی اور ریسپشن سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔
مشورہ یہی ہے کہ اگر کسی کو جاب سیکورٹی چاہئے تو اس فیلڈ میں سوچ سمجھ کے آئے کہ یہ جذباتی، مہم جواور ambitious قسم کی فیلڈ ہے۔ اس میں cut throat competition ہے اور بہت مرتبہ یہ بھی ہوتا کہ مالک کے نکالنے سے پہلے آپ خود نکل جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ thankless جاب ہے۔ آپ سو مرتبہ oblige کریں ایک مرتبہ نہ کریں تو سب ختم۔
مزے کی بات بتاؤں کہ صحافی جو پوری دنیا کے مظالم پر مظلوموں کی آواز بنتے ہیں جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو وہ بول نہیں پاتے جیسے تنخواہوں میں تاخیر کا ظلم۔ مجھے یاد ہے میرے پہلے اخبار میں ہی تین تین مہینے تٗخواہ لیٹ ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ عید کی رات دس گیارہ بجے نوٹ ایک بوری میں آئے اور ہمیں تنخواہ ملی۔ یار کیا کیا یادیں ہیں۔
بہرحال اس سے انکار نہیں کہ اس فیلڈ میں اگر رسک ہے تو مزا اور تھرل بھی بہت ہے۔ ابھی ایک حکومت کے حامی صحافی کو دیکھا کہ انہیں بھی ان کے ایک ویلاگ پر گھر سے اٹھا لیا گیا، پرچہ ہوا مگر پھر بااثر دوستوں کی مداخلت سے معاملہ حل ہو گیا یعنی یہ شہادت گہہ صحافت میں قدم رکھنا ہے، لوگ آساں سمجھتے ہیں صحافی ہونا ۔۔۔(نجم ولی خان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں