298

جنگ گروپ کا المیہ ۔۔۔۔۔۔!!!

تحریر: امجد عثمانی۔۔۔
سال پہلے دنیا میڈیا گروپ کے اخبار روزنامہ میں ایک کالم پر ہنگامہ برپا ہواتو گزارش کی تھی اخبار کسی شعبہ زندگی یا مکتب فکر کا مجلہ نہیں ہوتا بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی اور تمام مکاتب فکر کا ترجمان ہوتا ہے۔۔۔ایڈیٹر کو ایک ایک قاری کے جذبات کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوتا ہے
۔۔۔۔یہی فارمولہ کسی ٹی وی چینل کے لیے ہے کہ اس کا ہر ناظر اس کے پیش نظر ہوتا ہے ۔۔۔۔صاف ظاہر ہے کہ تب ہی کسی ملک کے میڈیا کو قومی میڈیا کہا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔جنگ گروپ نے بھی ایک ہی ہفتے میں دو بلنڈر کیے ۔۔۔اسی طرح ایک نجی چینل نے بھی سنگین غلطی کی ۔۔۔۔محرم ایسے حساس مہینے میں ایسی غیر محتاط ادارتی پالیسی ۔۔۔؟؟سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔۔۔۔روزنامہ جنگ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے ترجمے کی غلطی کا شور ابھی تھما نہیں تھا کہ جیو نیوز نے ایک متنازع پروگرام نشر کرکے جلتی پر تیل کا کام کیا۔۔۔کہا جاتا ہے کہ جنگ گروپ میں کوئی اہم خبر میر شکیل الرحمان کی منظوری بغیر شائع نہیں۔ ہوتی ۔۔۔۔سوال یہ ہے پھر یہ دو غلطان کیسے ہوئے؟؟؟جنگ گروپ کا المیہ یہ بھی ہے میر شکیل الرحمان نے ہوس زر میں اپنے اداروں کو تہس نہس کر دیا ہے ۔۔۔پاکستان کا سب سے کثیر الاشاعت روزنامہ آواز بیک جنبش قلم بند کردیا۔۔۔۔لاہور میں روزنامہ جنگ اور دی نیوز کواتنا محدود کردیا کہ یہ دو بڑے ادارے اب کمروں میں سما گئے ہیں ۔۔۔۔یہی حال جیو نیوز کا ہے ۔۔۔۔کارکن صحافیوں کا ایسا معاشی قتل عام کے دل خون کے آنسو روتا ہے ۔۔۔۔ظاہر ہے جب ایک صحافی کو تین تین بندوں کا کام کرنا پڑے تو کون سا ترجمہ اور کون سی ڈاکیومنٹری ؟؟؟؟باقی میڈیا ہائوسز کا بھی یہی منظر نامہ ہے۔۔۔۔۔جنگ گروپ ہی نہیں تمام میڈیا ہائوسز کو مشورہ ہے کہ آپ ہی اپنی ادائوں پر غور کریں۔۔۔۔ان کے ہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسے صحافت سے زیادہ کثافت کہا جا سکتا ہے۔۔۔۔معذرت کی ندامت سے بہتر ہے کہ اپنی ادارتی صحت کا خیال کریں اور اس کا راز صرف اچھی ایڈیٹوریل ٹیم کے پاس ہے۔۔۔۔!!(امجد عثمانی)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں