344

میڈیا ہاوسز کی تباہی میں بیوروکریسی کا کردار

تحریر: میاں محمد ندیم
پاکستان میں صحافت کا بحران صرف اشتہارات کی کمی، ڈیجیٹل میڈیا کی تیز رفتار یلغار یا معاشی بدحالی کا نتیجہ نہیں۔ اگر مسئلہ محض مالی وسائل تک محدود ہوتا تو گزشتہ برسوں میں سرکاری اشتہارات میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ، مختلف حکومتی مراعات اور ٹیکس میں دی جانے والی رعایتیں اس صنعت کو سہارا دینے کے لیے کافی ثابت ہوتیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ ادارے کیوں ایک ایک کرکے بند ہو رہے ہیں جن کے نیوز روم کبھی سینکڑوں صحافیوں کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے آباد رہتے تھے؟ ہر بحران کے بعد تجربہ کار رپورٹر، سب ایڈیٹر، فوٹو گرافر/کیمرہ مین اور ڈیسک ورکر کیوں بے روزگار ہو جاتا ہے، مگر لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں اور بھاری مراعات لینے والا انتظامی ڈھانچہ تقریباً ہمیشہ محفوظ رہتا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید پاکستان کے میڈیا بحران کی سب سے تلخ حقیقت میں پوشیدہ ہے، اور وہ حقیقت ہے صحافتی اداروں کے اندر پروان چڑھنے والی بیوروکریسی۔
لاہور پریس کلب میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے مشترکہ اجلاس میں میڈیا اداروں کی بندش، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، جبری برطرفیوں اور صحافیوں کو درپیش دیگر مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس نشست میں سامنے آنے والے خیالات نے ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ پاکستان کی صحافتی صنعت کا بحران صرف معاشی نہیں بلکہ انتظامی، ساختی اور پالیسی سازی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر ہم اس پہلو کو نظر انداز کرتے رہے تو مالی پیکجز، اشتہارات یا دیگر مراعات بھی اس صنعت کو دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا نہیں کر سکیں گی۔
میری کسی فرد، گروہ یا ادارے سے کوئی ذاتی رنجش نہیں۔ یہ تحریر برسوں کے مشاہدے، صحافتی تجربے اور سینکڑوں متاثرہ صحافیوں کی کہانیوں کا نچوڑ ہے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستانی میڈیا اداروں کے بڑے مسائل میں ایک مسئلہ وہ انتظامی بیوروکریسی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ اداروں کے اندر ایک طاقتور طبقے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ طبقہ نہ صرف لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں اور غیر معمولی مراعات حاصل کرتا ہے بلکہ آہستہ آہستہ ادارے کے مالک کی آنکھ، کان اور فیصلہ ساز بھی بن جاتا ہے۔ پھر مالکان وہی دیکھتے ہیں جو انہیں دکھایا جاتا ہے، وہی سنتے ہیں جو انہیں سنایا جاتا ہے، اور وہی فیصلے کرتے ہیں جن کا مشورہ انہیں یہی محدود حلقہ دیتا ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس انتظامی طبقے میں ایسے لوگ بھی ہیں جوخود کبھی صحافتی کارکن رہ چکے ہے۔ اداروں نے انہیں مواقع فراہم کیے، انہیں تربیت دی، تجربہ دیا اور عہدوں تک پہنچایا، مگر طاقت کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد ان کی ترجیحات بدل گئیں۔ کارکنوں سے ان کا تعلق کمزور ہوتا گیا اور اپنے اختیارات، مراعات اور ذاتی مفادات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح بن گیا۔ نتیجتاً ادارے آہستہ آہستہ ایسے افراد کے زیر اثر آ گئے جن کے لیے ادارے کی بقا سے زیادہ اپنی حیثیت کا تحفظ اہم بن گیا۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی میڈیا ادارے کو مالی بحران کا سامنا ہوتا ہے تو قربانی ہمیشہ سب سے کمزور طبقے سے لی جاتی ہے۔ چند ہزار یا معمولی تنخواہ لینے والے رپورٹر، سب ایڈیٹر، فوٹو گرافر/کیمرہ مین، ڈیسک ورکر اور دیگر کارکن سب سے پہلے برطرف کیے جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں روپے تنخواہیں اور اضافی مراعات لینے والا انتظامی ڈھانچہ تقریباً جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات کارکنوں کی برطرفیوں کی سفارش بھی یہی طبقہ کرتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک اخراجات کم کرنے کا آسان ترین طریقہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کی آواز فیصلہ سازی کے ایوانوں تک نہیں پہنچتی۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی عہدیدار کی حیثیت سے میں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ اس بحران کی ذمہ داری صرف میڈیا مالکان پر عائد نہیں ہوتی۔ صحافتی تنظیمیں، حکومتیں، متعلقہ ریگولیٹری ادارے اور خود ہم صحافی بھی کئی مواقع پر اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کر سکے۔ اگر اس بحران کا دیانت داری سے جائزہ لینا ہے تو ہمیں اپنی کمزوریوں کا اعتراف بھی اسی جرات سے کرنا ہوگا جس جرات سے ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں سرکاری اشتہارات کے بجٹ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ اگر ایک صوبے میں سالانہ اشتہارات کا بجٹ تقریباً دو ارب روپے سے بڑھ کر بیس سے پچیس ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے تو پھر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس اضافے کے باوجود میڈیا ادارے مسلسل مالی بحران کا شکار کیوں رہے؟ یہ اضافی وسائل آخر کہاں خرچ ہوئے؟ اگر اخبارات، ٹی وی چینلز اور دیگر ادارے پھر بھی اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کر سکے تو اس پورے نظام کی شفاف آڈٹ اور غیر جانبدارانہ جانچ ناگزیر ہو چکی ہے۔
اسی طرح ڈیوٹی فری نیوز پرنٹ کے استعمال پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جانیں ایک اخبار روزانہ کتنی کاپیاں شائع کرتا ہے، اس کے پاس اے بی سی سرٹیفکیٹ کس تعداد کا ہے، وہ کتنا نیوز پرنٹ درآمد کرتا ہے اور اس کا حقیقی استعمال کیا ہے۔ یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ برسوں سے ڈیوٹی فری درآمد شدہ نیوز پرنٹ کا ایک حصہ اوپن مارکیٹ میں فروخت ہوتا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں، کیونکہ یہ معاملہ صرف مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ قومی وسائل کے استعمال سے بھی متعلق ہے۔ اسی طرح ایسے اخبارات بھی موجود رہے ہیں جہاں عملہ چند افراد پر مشتمل تھا مگر صفحات اور سپلیمنٹس کی تعداد کسی بڑے ادارے کا تاثر دیتی تھی۔ ایسے معاملات شفاف اور آزادانہ تحقیقات کے متقاضی ہیں۔
اعداد و شمار بھی اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ صرف ایک سال کے دوران ملک بھر میں تقریباً ایک درجن چھوٹے اور بڑے میڈیا ادارے بند ہوئے اور سات سو سے زائد صحافی و میڈیا کارکن بے روزگار ہوئے۔ یہ صرف سات سو ملازمتوں کا خاتمہ نہیں بلکہ سات سو خاندانوں کے معاشی تحفظ، بچوں کی تعلیم، گھروں کے چولہوں اور مستقبل کی امیدوں کے بجھ جانے کی کہانی ہے۔ بے روزگاری کی اس قیمت کو صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کی زندگی کا واحد سہارا اس کی ماہانہ تنخواہ ہو۔
دوسری طرف یہی ادارہ جاتی بیوروکریسی ہر بحران کے دوران حیرت انگیز طور پر محفوظ رہتی ہے۔ ایک ادارہ بند ہوتا ہے تو یہ لوگ اپنے تعلقات، سفارشات اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر کسی نئے میڈیا گروپ میں بہتر پیکج کے ساتھ جگہ بنا لیتے ہیں، جبکہ وہ صحافی جس نے اپنی پوری زندگی میدان میں گزار دی، دروازے دروازے روزگار کی تلاش میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد اپنے ذاتی کاروبار بھی چلا رہے ہوتے ہیں، اپنے بچوں کو سفارشوں کے ذریعے بہترین ملازمتیں دلوا چکے ہوتے ہیں، لیکن جب ادارے کو قربانی کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ کبھی اپنی مراعات یا عہدے قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ قربانی ہمیشہ اس کارکن کے حصے میں آتی ہے جس کی کل کائنات صرف اس کی تنخواہ ہوتی ہے۔
لاہور کے اسی اجلاس میں ایک مثال نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک بڑے میڈیا ہاﺅس میں پچیس برس کا تجربہ اور ماسٹرز ڈگری کا حامل سب ایڈیٹر صرف ستر ہزار روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کر رہا تھا، جبکہ اسی ادارے میں ایف اے پاس ایک انتظامی افسر تین لاکھ روپے تنخواہ اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے تک کی اضافی مراعات لے رہا تھا۔ جب اخراجات کم کرنے کا وقت آیا تو ادارے نے تجربہ کار سب ایڈیٹر کو فارغ کر دیا، کیونکہ بیوروکریسی اپنے لوگ قربان نہیں کرتی ۔ آج اسی ادارے کی عمارت پر تالے لگنے کی نوبت آ چکی ہے، جبکہ وہی انتظامی بیوروکریسی کسی دوسرے ادارے میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں اداروں کو اپنے فیصلوں پر ازسرنو غور کرنا چاہیے۔
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ کسی خاموش، نیم تاریک اور گرد آلود نیوز روم میں جا کر کسی میڈیا ہاﺅس کے مالک سے صرف چند سوال پوچھے جائیں۔ کیا اسے وہ رپورٹر یاد ہے جو بارش، سیلاب، دہشت گردی، انتخابات اور احتجاج کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر خبر لاتا تھا؟ کیا اسے وہ سب ایڈیٹر، گرافک ڈیزائنرز اور پیج میکریاد ہیں جنہوں نے برسوں راتیں جاگ کر اس کے اخبار کے صفحات سنوارے؟ کیا اسے وہ کیمرہ مین یاد ہے جس کی تصاویر نے اس کے ادارے کو شناخت دی؟ کیا اسے وہ ڈیسک ورکر یاد ہے جس نے اپنی جوانی نیوز روم کی فلورسنٹ روشنیوں کے نیچے گزار دی؟ اگر یہ سب یاد ہیں تو پھر آج وہ کہاں ہیں؟ اور اگر وہ بے روزگار ہیں تو پھر وہ لوگ کہاں ہیں جنہیں ادارے کی نجات کا واحد ذریعہ سمجھا جاتا تھا؟
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کوئی بھی ادارہ صرف سرمایہ، عمارت یا طاقت کے بل بوتے پر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ ادارے اپنے لوگوں سے زندہ رہتے ہیں۔ جب کسی ادارے میں وفادار، باصلاحیت اور محنتی کارکن بوجھ بن جائیں اور عہدے، تعلقات اور خوشامد قابلیت پر غالب آ جائیں تو زوال خاموشی سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیتا ہے۔
پاکستان کی صحافت آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر واقعی اس صنعت کو بچانا ہے تو میڈیا مالکان، صحافتی تنظیموں، حکومت، ریگولیٹری اداروں اور خود صحافتی برادری کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ اداروں میں فیصلوں کا معیار کرسی نہیں بلکہ صلاحیت، خوشامد نہیں بلکہ دیانت، گروہ بندی نہیں بلکہ میرٹ، اور عہدہ نہیں بلکہ ادارے کے لیے حقیقی کردار ہونا چاہیے۔ جب تک صحافتی اداروں میں کارکن کو سب سے قیمتی اثاثہ نہیں سمجھا جائے گا، بحران ختم نہیں ہوگا بلکہ مزید گہرا ہوتا جائے گا۔
کیونکہ جس دن کسی ادارے میں کرسی انسان سے زیادہ قیمتی ہو جائے، اس دن زوال کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اور جس دن ایک وفادار صحافی اپنے ہی ادارے میں خود کو اجنبی محسوس کرنے لگے، اس دن صرف ایک ملازمت ختم نہیں ہوتی، بلکہ صحافت کی تاریخ کا ایک باب خاموشی سے بند ہو جاتا ہے۔(میاں محمد ندیم)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں