تحریر: شاہ ولی اللہ جنیدی
کراچی کبھی صرف پاکستان کا معاشی دارالحکومت نہیں تھا، بلکہ اسے ملک کا ایک بڑا ثقافتی، ادبی، صحافتی اور فکری مرکز بھی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ یہاں کے اخبارات کے دفاتر، ادبی بیٹھکیں، کتابوں کی دکانیں، کتب خانے اور اخبارات و رسائل کے اسٹال شہر کی تہذیبی زندگی کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ صبح اخبار خریدنا، سرخیاں پڑھنا، اداریے پر گفتگو کرنا، کسی کالم نگار کی تحریر پر اختلاف یا اتفاق کرنا اور شام کو ادبی رسالہ لے کر بیٹھ جانا ایک معمول تھا۔
آج منظرنامہ بدل چکا ہے۔ اخبار کے اسٹال پر پڑے بنڈل پہلے کی طرح ہاتھوں ہاتھ نہیں بکتے، ادبی رسائل کے خریدار کم ہوتے جا رہے ہیں اور نئی نسل کی بڑی تعداد اخبار، رسالے اور کتاب کے بجائے موبائل فون کی اسکرین سے اپنی معلومات حاصل کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کراچی میں اخبارات و رسائل واقعی آخری سانس لے رہے ہیں، یا صرف صحافت کا پرانا کاروباری اور ابلاغی ماڈل دم توڑ رہا ہے؟
میرے خیال میں مسئلہ صرف پرنٹ میڈیا کی موت کا نہیں؛ یہ دراصل پڑھنے کے رجحان، صحافتی معیار، ادارتی خودمختاری، معاشی بحران، اشتہاری نظام، ٹیکنالوجی اور سماجی ترجیحات کی مشترکہ تبدیلی کا نتیجہ ہے۔
پرنٹ میڈیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج رفتار کا ہے۔ اخبار کی خبر عموماً اگلی صبح قارئین تک پہنچتی ہے، جبکہ ٹیلی وژن، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے ذریعے وہی واقعہ چند منٹوں، بلکہ بعض اوقات چند سیکنڈز میں عوام کے سامنے آ جاتا ہے۔
فیس بک، ایکس، یوٹیوب، واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارموں نے خبر کے سفر کا پورا نقشہ بدل دیا ہے۔ اب قاری صبح اخبار کھول کر یہ جاننے کے لیے بے تاب نہیں ہوتا کہ گزشتہ روز کیا ہوا؛ وہ رات ہی کو موبائل فون پر اس واقعے کی ویڈیوز، تبصرے، تجزیے اور فوری ردعمل دیکھ چکا ہوتا ہے۔
چنانچہ اخبار کے سامنے بنیادی سوال یہ نہیں کہ خبر کیا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ ایسی کیا چیز ہے جو قاری کو سوشل میڈیا پر ملنے کے باوجود اخبار میں پڑھنے پر مجبور کرے؟
اس سوال کا جواب تحقیق، پس منظر، تجزیے، دستاویزات، معتبر ذرائع اور صحافتی دیانت میں پوشیدہ ہے۔
اصل بحران اخبار کا نہیں، پڑھنے والے کا بھی ہے
یہ کہنا آسان ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا نے اخبارات کو تباہ کردیا، لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ معاشرے میں کتاب، اخبار اور رسالہ پڑھنے کا رجحان بھی کم ہوا ہے۔
آج کا شہری مصروف ہے، اس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے اور اس کی توجہ مسلسل بدلتی ہوئی مختصر ویڈیوز اور چند سطروں کی خبروں نے اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ طویل کالم پڑھنے کے بجائے مختصر پوسٹ، مکمل مضمون کے بجائے چند سیکنڈ کی ویڈیو اور تحقیق شدہ رپورٹ کے بجائے فوری تبصرہ زیادہ مقبول ہو رہا ہے۔
یہ تبدیلی صرف کراچی یا پاکستان تک محدود نہیں، مگر کراچی جیسے بڑے شہری اور کاروباری مرکز میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں محسوس ہوتے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ پرنٹ میڈیا کا بحران دراصل معاشرے کے مطالعے کے بحران سے جڑا ہوا ہے۔
مگر سارا الزام قاری پر ڈالنا بھی درست نہیں
یہاں صحافتی اداروں کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
ایک زمانہ تھا جب اخبار خریدنے کی ایک بڑی وجہ اس کا اداریہ، کالم، تحقیقی رپورٹ، ادبی صفحہ اور خصوصی مضمون ہوتا تھا۔ ایک خبر کے پیچھے رپورٹر کئی دن تحقیق کرتا، دستاویزات جمع کرتا، متعلقہ افراد سے بات کرتا اور پھر رپورٹ تیار کرتا تھا۔
آج کئی اخبارات میں خبر کا بڑا حصہ پریس ریلیز، سرکاری بیان، سوشل میڈیا پوسٹ یا نیوز ایجنسی کے مواد کی تدوین تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ نتیجتاً مختلف اخبارات میں ایک ہی خبر تقریباً ایک ہی زبان اور زاویے سے نظر آتی ہے۔
جب اخبار قاری کو نئی معلومات، نئی دستاویز، نیا سوال اور نیا زاویہ فراہم نہ کرے تو پھر قاری اس کے لیے پیسے کیوں خرچ کرے؟
پرنٹ میڈیا کی بقا کا سب سے مضبوط راستہ تحقیقاتی صحافت ہوسکتی ہے، لیکن اس کے لیے وقت، وسائل، تربیت اور ادارتی آزادی درکار ہے۔
تحقیقاتی صحافت فوری خبر سے مختلف ہوتی ہے۔ اس میں رپورٹر کو فائلیں دیکھنا، سرکاری ریکارڈ کھنگالنا، اعداد و شمار کا تجزیہ کرنا، مختلف ذرائع سے تصدیق کرنا اور بعض اوقات کئی ہفتوں یا مہینوں تک ایک موضوع پر کام کرنا پڑتا ہے۔
لیکن اگر ادارے رپورٹر کو مناسب وقت، معاوضہ اور وسائل نہ دیں تو صحافت رفتہ رفتہ خبر نویسی سے خبر رسانی اور پھر محض مواد کی ترسیل بن جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں میڈیا مالکان اور ادارتی انتظامیہ کی ذمہ داری سب سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
صحافت صرف ایک کاروبار نہیں، لیکن صحافتی ادارہ کاروباری حقیقتوں سے آزاد بھی نہیں ہوسکتا۔
کاغذ، پرنٹنگ، تقسیم، تنخواہوں، دفاتر اور دیگر اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اشتہارات کا بڑا حصہ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی طرف منتقل ہوچکا ہے۔ ایسے حالات میں پرنٹ اداروں کے لیے مالی مشکلات حقیقی ہیں۔
لیکن مالی بحران کو صحافتی معیار گرانے کا جواز بھی نہیں بنایا جاسکتا۔
اگر ادارہ تحقیقاتی رپورٹنگ ختم کردے، رپورٹر کم کردے، تجربہ کار صحافیوں کی جگہ کم معاوضے پر غیر تربیت یافتہ افراد لے آئے، ادارتی صفحات محدود کردے اور ہر چیز کو صرف اشتہار یا کلک کے پیمانے سے دیکھے تو وہ اپنے مستقبل کو خود کمزور کرتا ہے۔
قاری اخبار صرف خبر کے لیے نہیں، اعتماد کے لیے خریدتا ہے۔
اخبارات اور رسائل نے اردو زبان کی ترویج میں بھی غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔
صحافت نے اردو کو صرف ادبی حلقوں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عام زندگی کی زبان بنایا۔ مشکل اور کلاسیکی اسلوب کے بجائے اخبارات نے نسبتاً سادہ، شائستہ اور عام فہم زبان کو فروغ دیا۔ روزمرہ اور محاورات کو صحافتی تحریر میں جگہ ملی اور لاکھوں قارئین اردو زبان سے اخبارات ہی کے ذریعے جڑے۔
اخبارات کے ادبی صفحات نے شاعروں، افسانہ نگاروں، کالم نگاروں اور محققین کو پلیٹ فارم فراہم کیا۔ رسائل نے نئی ادبی نسل کی تربیت کی اور کئی قلم کاروں کو پہلی بار قارئین تک پہنچایا۔
آج جب ادبی صفحات کم ہورہے ہیں اور ادبی رسائل بند ہو رہے ہیں تو نقصان صرف ایک کاروبار کا نہیں بلکہ اردو کی تہذیبی روایت کا بھی ہے
روزنامہ اخبار کم از کم فوری خبر، کاروباری معلومات اور حالات حاضرہ کی وجہ سے اپنی ضرورت برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن ادبی اور خصوصی رسائل کو کہیں زیادہ سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
کبھی ادبی رسائل، سیاسی و سماجی جرائد، خواتین کے رسائل، بچوں کے رسائل اور علمی و سائنسی مجلات گھروں کا حصہ ہوتے تھے۔ فنون، نقوش، ہیرالڈ، نیوزلائن، پاکیزہ، نونہال اور گلوبل سائنس جیسے نام اپنے اپنے شعبوں میں ایک شناخت رکھتے تھے۔
ان میں سے بعض رسائل بند ہوگئے، بعض کی اشاعت محدود ہوگئی اور بعض ڈیجیٹل دنیا کے سامنے اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکے۔
اس میں مطالعے کے بدلتے ذوق، بڑھتی ہوئی لاگت، اشتہارات کی کمی اور ادارتی ترجیحات سب شامل تھے۔
روایتی طور پر اخبارات کو قومی، علاقائی، مقامی اور کاروباری اخبارات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح رسائل میں ادبی، سیاسی و سماجی، خواتین و بچوں، علمی اور سائنسی جرائد شامل رہے ہیں۔
لیکن ڈیجیٹل دور نے ان روایتی تقسیموں کو بھی بدل دیا ہے۔ اب ایک ہی میڈیا ادارہ اخبار، ویب سائٹ، موبائل ایپ، یوٹیوب چینل، پوڈکاسٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے بیک وقت مختلف طبقات تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس تبدیلی کو خطرہ سمجھنے کے بجائے نئے امکان کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پرنٹ میڈیا کا کمزور ہونا لازماً صحافت کا ختم ہونا نہیں۔
دنیا بھر میں میڈیا ادارے Digital-First Model کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ ای پیپر، ویب سائٹس، موبائل ایپلی کیشنز، پوڈکاسٹ، ویڈیو رپورٹنگ، نیوز لیٹر اور سوشل میڈیا کے ذریعے اخبارات اپنی نئی زندگی تلاش کر رہے ہیں۔
کراچی کے بڑے اخبارات بھی اس سمت بڑھ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ اخبار کاغذ پر چھپے گا یا موبائل پر پڑھا جائے گا؛ اصل سوال یہ ہے کہ صحافت کی روح، تحقیق، صداقت اور ذمہ داری کیسے زندہ رکھی جائے گی۔
ممکن ہے آنے والے برسوں میں اخبار کا کاغذ کم ہوجائے، لیکن صحافت ختم نہ ہو۔
سوشل میڈیا نے عام آدمی کو بھی اطلاع کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اب ہر شخص تصویر، ویڈیو یا خبر چند سیکنڈز میں لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔
لیکن اس آزادی کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے: غلط خبر، جعلی معلومات، ادھوری معلومات اور غیر مصدقہ دعوے بھی اسی رفتار سے پھیلتے ہیں۔
اخبار اگر صرف سوشل میڈیا کی نقل بن جائے تو وہ اپنی سب سے بڑی طاقت کھو دیتا ہے۔ اسے سوشل میڈیا سے آگے بڑھ کر کہنا ہوگا:
ہم نے اس خبر کی تصدیق کی ہے، اس کے ذرائع یہ ہیں، اس کا پس منظر یہ ہے اور اس کے اثرات یہ ہوسکتے ہیں۔
یہی وہ قدر ہے جس کے لیے قاری اب بھی معتبر صحافت کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔
صحافت کی تنزلی کا ذمہ دار کون؟
اس سوال کا جواب کسی ایک شخص یا ادارے پر ڈالنا درست نہیں ہوگا۔
پہلی ذمہ داری میڈیا مالکان کی ہے کہ وہ صحافت کو صرف کاروباری مصنوعات کے بجائے ایک سماجی ذمہ داری بھی سمجھیں۔
دوسری ذمہ داری مدیران کی ہے کہ وہ خبر کے معیار، زبان، تحقیق اور ادارتی آزادی پر سمجھوتہ نہ کریں۔
تیسری ذمہ داری صحافیوں کی ہے کہ وہ رفتار کے مقابلے میں صحتِ خبر، تحقیق اور پیشہ ورانہ دیانت کو ترجیح دیں۔
چوتھی ذمہ داری ریاست اور متعلقہ اداروں کی ہے کہ ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں آزاد اور ذمہ دار صحافت معاشی اور انتظامی دباؤ کے بغیر اپنا کام کرسکے۔
پانچویں ذمہ داری تعلیمی اداروں کی ہے کہ نئی نسل میں مطالعہ، تحقیق اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جائے۔
اور سب سے بڑھ کر معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم، کتاب، اخبار اور سنجیدہ تحریر کی قدر دوبارہ پیدا کرے۔
پرنٹ میڈیا کی بقا کے لیے محض ای پیپر بنانا کافی نہیں۔ اگر کاغذی اخبار کی وہی خبریں، وہی تبصرے اور وہی غیر تحقیقی مواد موبائل پر منتقل کردیا جائے تو ڈیجیٹل منتقلی کوئی حل نہیں۔
اخبار کو وہ مواد دینا ہوگا جو سوشل میڈیا نہیں دے سکتا:
* گہری تحقیق
* دستاویزی صحافت
* مقامی مسائل کی مسلسل پیروی
* ڈیٹا جرنلزم
* اچھا اداریہ
* معیاری کالم
* ادبی و ثقافتی صفحات
* نوجوان لکھنے والوں کے لیے مواقع
* زبان و ادب کی حفاظت
* فیکٹ چیکنگ
* عوامی مسائل پر تحقیقی مہمات
یہی وہ چیزیں ہیں جو اخبار کو محض خبر کا کاغذ نہیں بلکہ معاشرے کی دستاویز بناتی ہیں۔
کراچی کی صحافتی تاریخ صرف چند بڑے اخبارات کے ناموں تک محدود نہیں۔ اس شہر نے ایسے صحافی، مدیر، کالم نگار، ادیب، شاعر، مترجم اور محقق پیدا کیے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے کئی نسلوں کی فکری تربیت کی۔
اگر اخبارات اور رسائل کے ساتھ یہ روایت بھی ختم ہوگئی تو کراچی صرف ایک کاروباری شہر رہ جائے گا؛ اس کی ایک بڑی فکری شناخت کمزور ہوجائے گی۔
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پرنٹ میڈیا کو مردہ قرار دینے کے بجائے اس کی بیماری کی تشخیص کی جائے۔
قاری کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اسے معیاری مواد دیا جائے۔ صحافی کو صرف خبر مکمل کرنے کا مزدور نہ سمجھا جائے بلکہ تحقیق کا موقع دیا جائے۔ اداروں کو صرف اشتہارات کے بجائے قارئین کا اعتماد حاصل کرنے کی حکمت عملی بنانی ہوگی۔ اور اردو صحافت کو محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت سمجھنا ہوگا۔
آخری بات
کراچی کے اخبارات و رسائل شاید آخری سانس نہیں لے رہے؛ وہ ایک عہد سے دوسرے عہد میں منتقل ہورہے ہیں۔ البتہ یہ منتقلی کامیاب ہوگی یا ناکام، اس کا فیصلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ صحافت کا معیار کرے گا۔
اگر اخبار صرف کل کی خبر آج چھاپتا رہے گا تو اس کا وجود واقعی خطرے میں ہے۔ لیکن اگر وہ آج کی خبر کے پیچھے چھپی حقیقت تلاش کرے، سوال اٹھائے، دستاویز سامنے لائے، طاقت سے سوال کرے، کمزور کی آواز بنے، اردو زبان کو زندہ رکھے اور قاری کو وہ کچھ دے جو اسے چند سیکنڈ کی ویڈیو میں نہیں مل سکتا، تو پرنٹ میڈیا کا مستقبل اب بھی موجود ہے۔
اخبار کا اصل دشمن موبائل فون نہیں؛ ناقص صحافت ہے۔
اور صحافت کا اصل سرمایہ کاغذ نہیں؛ قاری کا اعتماد ہے۔
یہ اعتماد اگر واپس حاصل کرلیا جائے تو ممکن ہے اخبارات کی تعداد کم ہوجائے، صفحات مختصر ہوجائیں، اشاعت کی شکل بدل جائے، مگر صحافت زندہ رہے گی—اور کراچی کی فکری آواز بھی۔
11