تحریر: قذافی بٹ۔۔۔
پاکستان میں صحافت اپنے آخری دور میں داخل ہوچکی ہے۔۔ ورکرز پر اداروں کے دروازے آہستہ آہستہ بند کیے جارہے ہیں۔ صحافت کا معیار بھی اس حد تک گر چکا ہے کہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا صرف ٹی وی سکرین پر بیٹھ جائیں دیکھ بھی لیں گے اور سماعت بھی فرما لیں گے۔ لیکن اسکے باوجود ہے ہمارے نیوز روموں میں بیٹھے بڑے دماغ فیلڈ میں کام کرنے میں والے جو چند بچے کھچے لوگ رہ گئے ہیں ان سے اس بات کی ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ جیسے بین الاقوامی سطح کے ادارے ہیں ویسے رپورٹنگ کریں ویسے پریزنٹیشن دیں ۔ حالانکہ اگر آپ سی این این ،بی بی سی، الجزیرہ وغیرہ دیکھیں تو انکے مین بلیٹن یا پروگرام انتہائی سینئر کررہے ہوتے ہیں اور انکی عمریں بھی پچاس یا اس سے اوپر ہوتیں ہیں ۔
اسکرین پر خوبصورت چہرہ بٹھانا ہے ( انتہائی معذرت سے) کسی کی دل شکنی یا توہین کرنا مقصود نہیں لیکن ہمارا معیار یہ ہے کہ ہم نے لیپا پوتی کرکے خوبصورت چہرہ بٹھانا ہے،، لباس ایسا ہونا چاہیے کہ بس۔۔۔۔ یعنی وہ میرا جسم میری مرضی والا نعرہ۔۔۔
میں نے ایک پروڈیوسر سے پوچھا کہ یار یہ جو سکرین پر انتہائی نامناسب انداز مین اینکرز آرہی ہیں کیا یہ پیچھے سے یا آپ لوگوں کی ڈیمانڈ ہے تو انکا جواب تھا کہ جی کچھ تو ڈیمانڈ ہے اور کچھ بیٹھنے والوں کا آپس میں مقابلہ چل رہا ہے۔۔۔ ٹی وی کے نیوز بلیٹن نا ہوگئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ خدوخال کا مقابلہ ہے ۔۔۔ اور یہ صرف ریٹنگ کے نام پر ۔۔۔۔۔ اب آپ سیانے ہیں خود سمجھ جائیں
مرد حضرات بھی نوجوان ہوں لیکن انکی تعداد بھی اب ان کی تعداد بھی نا ہونے کے برابر ہے۔ ان میل فی میل اینکر کو پاویں پتا الف ب بھی نا ہو۔۔ الفاظ کے تلفظ اور ادائیگی ایسے کہ الفاظ بھی پناہ مانگیں۔۔ اور جو پروگرام کرنے بیٹھتے ہیں ماسوائے چند ایک کو چھوڑ کر باقی الامان الحفیظ ۔۔۔۔۔۔۔
جو سینئرز ہوچکے ہیں انہیں یا تو دفاتر سے فارغ کردیا جارہا ہے یا کھڈے لائن لگا کر اس انتظار میں بٹھایا گیا ہے کہ کب انکی باری لگانا ہے۔۔
نوٹ: یہ جو اوپر رائے لکھی گئی ہے اسکا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے لہذا مجھ پر لعنت اور پھٹکار مت برسایے گا بس ٹی وی لگا کر دیکھ لیجئے گا ۔۔(قذافی بٹ)
43