345

میڈیا ہاؤس یا بھٹہ خشت، صحافی یاجدید غلام؟؟

تحریر: شمعون عرشمان۔۔
پاکستان میں میڈیا انڈسٹری اور بھٹہ خشت میں کوئی فرق نہیں۔ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کو صحافت، آزادیٔ اظہار اور جمہوریت کا چوتھا ستون کہتے ہوئے اب شرم آنی چاہیے۔ جس صنعت میں انسانوں کو ملازم نہیں بلکہ دفتر کے فرنیچر، کیمروں، کمپیوٹروں اور لائسنس کے ساتھ منتقل ہونے والا سامان سمجھا جائے، وہاں صحافت نہیں، باقاعدہ انسانی منڈی لگتی ہے۔
پاکستان میں اینٹوں کا بھٹہ فروخت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ زمین، مشینری، کچی اینٹیں، کوئلہ اور دیگر سامان نئے مالک کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ میڈیا چینل فروخت ہوتا ہے تو عمارت، اسٹوڈیو، کیمرے، لوگو، فریکوئنسی، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ملازمین بھی پیکیج کا حصہ بنا دیے جاتے ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ بھٹے کا مزدور جانتا ہے کہ وہ مزدور ہے، لیکن میڈیا ورکر کو کئی برس تک یہ جھوٹ سنایا جاتا ہے کہ وہ ایک معزز ادارے، ایک نظریاتی خاندان اور آزادیٔ صحافت کے مشن کا حصہ ہے۔ پھر ایک دن اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نام نہاد خاندان، مشن اور نظریے سمیت اس کا سودا ہوچکا ہے۔
کبھی شعیب شیخ بول نیوز فروخت کرتا ہے تواس کے ساتھ کام کرنے والے سیکڑوں ملازمین کو صرف اتنا بتایا جاتا ہے کہ اب مالک بدل گیا ہے، اب چشتی فیملی آپ لوگوں کی نئی مالک ہوگی۔۔۔ کبھی سما ٹی وی کا سودا ہوجاتا ہے اور وہ لوگ، جنہوں نے برسوں ادارے کی اسکرین، ساکھ اور شناخت بنائی، فیصلے کے وقت کمرے سے باہر رکھے جاتے ہیں۔ نیوز ون اور ٹی وی ون جیسے اداروں میں ملکیت اور انتظامیہ کی تبدیلیوں کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ روہی ٹی وی اور سٹی 21 بھی نئے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں۔
مگر ہر مرتبہ سودا کرتے وقت سب کچھ میز پر ہوتا ہے، سوائے ورکر کے حق کے۔
بلڈنگ کی قیمت طے ہوتی ہے۔
لائسنس کی قیمت طے ہوتی ہے۔
برانڈ کی قیمت طے ہوتی ہے۔
اشتہارات، ریونیو، آلات اور ڈیجیٹل اور دیگر اثاثوں کی قیمت طے ہوتی ہے۔
صرف اس انسان کی قیمت اور مستقبل طے نہیں ہوتا جس نے بیس، پندرہ یا دس سال اس ادارے کو دیے ہوتے ہیں۔
یہ محض بے حسی نہیں، منظم استحصال ہے۔
ایک رپورٹر گرمی، سردی، بارش، سیلاب، دھماکے، فسادات اور احتجاج میں جان ہتھیلی پر رکھ کر خبر دیتا ہے۔ کیمرہ مین گولیوں اور لاٹھیوں کے درمیان تصویر بناتا ہے۔ اسائنمنٹ ایڈیٹر عید کی نماز چھوڑ کر ڈیسک پر بیٹھتا ہے۔ پروڈیوسر رات بھر جاگ کر نشریات چلاتا ہے۔ ڈرائیور ہنگاموں میں ٹیم کو محفوظ مقام تک پہنچاتا ہے۔ ویڈیو ایڈیٹر، این ایل ای، انجینئر، لائٹنگ اسٹاف، میک اپ آرٹسٹ، ویب ڈیسک، سوشل میڈیا ٹیم، نیوز روم اور اکاؤنٹس کے ملازمین اپنی زندگیاں ادارے کی مشین میں پیستے رہتے ہیں۔
لیکن جب ادارہ فروخت کرنے کا وقت آتا ہے تو انہی لوگوں کو اتنا حق بھی نہیں دیا جاتا کہ انہیں بتایا جاسکے ان کا مستقبل کس کے ہاتھ بیچا جارہا ہے۔
انہیں اجلاس میں نہیں بلایا جاتا۔
ان کی ملازمت کے تحفظ کی ضمانت نہیں لی جاتی۔
ان کی بقایا تنخواہوں، گریجویٹی، پروویڈنٹ فنڈ، انشورنس اور سابقہ سروس کے متعلق کوئی واضح تحریری معاہدہ سامنے نہیں آتا۔
بس اچانک ایک نیا مالک، نئی انتظامیہ اور نئے حکم نامے آجاتے ہیں۔
پھر ’’ری اسٹرکچرنگ‘‘ کے نام پر لوگوں کو نکال دیا جاتا ہے۔ ’’رائٹ سائزنگ‘‘ کے نام پر خاندانوں کی روٹی چھین لی جاتی ہے۔ ’’کاسٹ کٹنگ‘‘ کے نام پر کئی ماہ کی تنخواہیں روک لی جاتی ہیں۔ ’’نئے بزنس ماڈل‘‘ کے نام پر پرانے ملازمین کی سروس ختم کردی جاتی ہے۔
لفظ انگریزی کے ہوتے ہیں لیکن ان کا ترجمہ صرف ایک ہوتا ہے۔۔مزدور کا معاشی قتل۔
یہی میڈیا ہاؤسز کسی فیکٹری میں مزدوروں کو نکالا جائے تو چیختی ہوئی سرخ پٹیاں چلاتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہ ملے تو اینکر میز پر ہاتھ مار کر حکومت سے جواب مانگتا ہے۔ کسی بھٹے پر مزدور کا استحصال ہو تو خصوصی رپورٹ تیار ہوتی ہے۔ کسی کمپنی میں جبری برطرفیاں ہوں تو انسانی حقوق کے ماہرین کو بلا کر لمبی بحث کی جاتی ہے۔ لیکن جب اپنے ہی چینل میں ملازمین کو تنخواہیں نہ ملیں، جب اپنے ہی رپورٹر کے بچوں کی فیس رک جائے، جب اپنے ہی کیمرہ مین کے گھر راشن نہ ہو، جب اپنے ہی پروڈیوسر کو بغیر نوٹس نکال دیا جائے، تو اسکرین اچانک اندھی، مائیک اچانک گونگا اور صحافت اچانک بے بس ہوجاتی ہے۔
کیونکہ یہاں خبر وہ نہیں جو عوام کے لیے اہم ہو۔
یہاں خبر وہ ہے جس کی اجازت مالک دے۔
میڈیا مالکان آزادیٔ اظہار کا نعرہ صرف اس وقت لگاتے ہیں جب ان کے کاروباری مفاد، لائسنس، سرکاری اشتہارات یا سیاسی رسائی کو خطرہ ہو۔ لیکن جب ایک عام میڈیا ورکر اپنے بقایاجات، تنخواہ یا ملازمت کے تحفظ کی بات کرے تو یہی آزادیٔ اظہار فوراً بغاوت، بدتمیزی اور ادارہ دشمنی بن جاتی ہے۔
کیا آزادیٔ صحافت صرف مالک کی آزادی ہے؟
کیا رپورٹر کو اپنے حق کے لیے بولنے کی آزادی نہیں؟
کیا کیمرہ مین کے بچوں کو کھانا کھانے کا حق نہیں؟
کیا پروڈیوسر کی بیٹی کی فیس، بیمار والد کی دوا اور گھر کا کرایہ آزادیٔ صحافت کا مسئلہ نہیں؟
جس صحافی کی اپنی تنخواہ کئی ماہ سے بند ہو، اس سے طاقتور لوگوں کے خلاف آزادانہ سوالات کی توقع کرنا مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ جس رپورٹر کو ہر وقت برطرفی کا خوف ہو، اس سے سچ کی حفاظت کا مطالبہ کرنا کھلی منافقت ہے۔ جس میڈیا ورکر کے گھر کا چولہا مالک کے ایک دستخط کا محتاج ہو، اس کے ہاتھ میں مائیک نہیں بلکہ معاشی غلامی کی زنجیر ہوتی ہے۔
پاکستانی میڈیا ورکر اس ملک کا شاید واحد مزدور ہے جو پوری قوم کا دکھ نشر کرتا ہے لیکن اپنا دکھ نشر نہیں کرسکتا۔ وہ سیاست دانوں، صنعت کاروں، بیوروکریٹس اور حکمرانوں کا احتساب کرتا ہے لیکن اپنے مالک سے ایک ماہ کی تنخواہ مانگتے ہوئے بھی ڈرتا ہے۔
اسے معلوم ہے کہ زبان کھولی تو نوکری جائے گی۔
سوال کیا تو نام بلیک لسٹ میں ڈالا جائے گا۔
یونین کی بات کی تو باغی کہا جائے گا۔
بقایاجات مانگے تو غیر پیشہ ور قرار دے دیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی تو قانونی نوٹس یا پیکا ایکٹ سمیت ہتک عزت کیسز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ صحافت نہیں، جدید غلامی ہے۔
میڈیا مالکان کو واضح طور پر سمجھنا ہوگا کہ چینل صرف پیمرا لائسنس، شیشے کی عمارت، خوب صورت لوگو اور مہنگے اسٹوڈیو کا نام نہیں۔ چینل ان انسانوں کا نام ہے جو چوبیس گھنٹے اسکرین کو زندہ رکھتے ہیں۔
کیمرہ خود خبر ریکارڈ نہیں کرتا۔
مائیک خود سوال نہیں پوچھتا۔
سیٹلائٹ خود بلیٹن تیار نہیں کرتا۔
ٹیلی پرامپٹر خود نہیں پڑھتا۔
کنٹرول روم خود نشریات نہیں چلاتا۔
اور مالک کا سرمایہ خود صحافت پیدا نہیں کرتا۔
ادارے کی اصل دولت وہ ورکر ہے جسے سودا کرتے وقت گنتی میں بھی شامل نہیں کیا جاتا، مگر سودا مکمل ہونے کے بعد اخراجات کی فہرست میں سب سے پہلے اسی کا نام کاٹا جاتا ہے۔
چینل فروخت کرنا کاروباری حق ہوسکتا ہے، لیکن انسانوں کو اعتماد میں لیے بغیر ان کی ملازمت، سروس اور مستقبل کو سودے کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا کسی کا حق نہیں۔ یہ اخلاقی جرم ہے۔ یہ مزدور دشمنی ہے۔ یہ ان لوگوں کی محنت کی توہین ہے جنہوں نے مالکان کے لیے نام، دولت، اثرورسوخ اور سیاسی طاقت پیدا کی۔
حکومت، پیمرا، وزارتِ اطلاعات، لیبر ڈیپارٹمنٹس، عدالتوں اور صحافتی تنظیموں کی خاموشی بھی اس جرم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ آخر کوئی قانون کیوں نہیں کہ میڈیا ادارے کی فروخت سے پہلے ملازمین کو باقاعدہ تحریری نوٹس دیا جائے؟ ان کے نمائندوں کو مذاکرات میں شامل کیا جائے؟ ان کے بقایاجات پہلے ادا کیے جائیں؟ ان کی سابقہ سروس اور مراعات کو قانونی تحفظ دیا جائے؟ نئے مالک کو ملازمین کے حقوق کی ضمانت دینے کا پابند بنایا جائے؟
کیا پیمرا کا کام صرف لائسنس دینا، معطل کرنا اور جرمانہ کرنا ہے؟
کیا وزارتِ اطلاعات کا تعلق صرف مالکان، اشتہارات اور سرکاری تشہیر سے ہے؟
کیا لیبر قوانین صرف فیکٹریوں اور دکانوں کے مزدوروں کے لیے ہیں؟
کیا نیوز روم میں بیٹھا شخص مزدور نہیں؟
اب وقت آگیا ہے کہ میڈیا ورکرز بھی یہ سمجھیں کہ خاموشی انہیں محفوظ نہیں رکھے گی۔ آج دوسرے چینل کے ملازمین نکالے گئے ہیں تو کل باری ان کی ہوسکتی ہے۔ آج کسی اور کی تنخواہ روکی گئی ہے تو کل ان کا چیک بھی رک سکتا ہے۔ آج کسی دوسرے ادارے کا سودا ملازمین کو اعتماد میں لیے بغیر ہوا ہے تو کل ان کا نام بھی کسی کاروباری معاہدے کی نامعلوم شق میں لکھا ہوگا۔
جس صنعت میں ورکر متحد نہ ہوں، وہاں مالک ہمیشہ طاقتور رہتا ہے۔
جس نیوز روم میں اپنے حقوق پر خاموشی ہو، وہاں آزادیٔ صحافت خالی خول ایک نعرہ رہ جاتی ہے۔
اور جس ملک میں میڈیا ورکر کو کیمرے، میز، کرسی اور کمپیوٹر کے ساتھ منتقل کردیا جائے، وہاں میڈیا ہاؤس اور بھٹہ خشت میں واقعی کوئی فرق نہیں رہتا۔
بلکہ ممکن ہے بھٹہ خشت کچھ معاملات میں میڈیا انڈسٹری سے زیادہ ایماندار ہو۔
یہاں مزدور کو کم از کم مزدور تو تسلیم کیا جاتا ہے۔
یہاں کارکن کو پہلے ’’فیملی‘‘ کہا جاتا ہے، پھر مہینوں تنخواہ نہیں دی جاتی، اور آخر میں اسی نام نہاد فیملی کو اطلاع دیے بغیر کسی دوسرے مالک کے ہاتھ فروخت کردیا جاتا ہے۔
یہ صنعت نہیں، بے حسی کی منڈی ہے۔
یہ صحافت نہیں، انسانوں کی تجارت ہے۔
اور یہ آزادیٔ اظہار نہیں، چند مالکان کی کاروباری آزادی کا فریب ہے۔(شمعون عرشمان)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں