186

پنجاب میں مارشل لاء

تحریر: میاں داؤد ایڈووکیٹ۔۔۔
مسلم لیگ نواز کا پنجاب میں یہ بل آئین میں دیئے گئے کم 13 بنیادی آئینی حقوق یعنی 13 آرٹیکل بنیادی حقوق سے متعلق کی خلاف ورزی ہے، اگر یہ قانون لاگو ہو گیا تو یہ آئین کا آرٹیکل 4 یعنی (مساوی قانونی تحفظ)، آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی کا حق) آرٹیکل 10 (غیرقانونی گرفتاری اور نظربندی سے تحفظ)، آرٹیکل 10 اے (فیئر ٹرائل)، آرٹیکل 13 ( دوہری سزا)، آرٹیکل 14 ( عزت نفس کا تحفظ) آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی) آرٹیکل 16 (اکٹھے ہونے کی آزادی) آرٹیکل 17 ( سیاسی سرگرمیوں کی آزادی) آرٹیکل 18 (کاروبار کی آزادی) آرٹیکل 19 (اظہار رائے کی آزادی) آرٹیکل 23 اور 24 ( جائیداد خریدنے، استعمال کرنے کا حق) کی عملی طور پر معطلی ہوگی۔ بنیادی حقوق ہمیشہ تب معطل ہوتے ہیں جب مارشل لاء لگایا جاتا ہے ورنہ کبھی بھی بنیادی حقوق معطل نہیں کئے جاتے، کسی قانون کے ذریعے تو بنیادی حقوق معطل ہو ہی نہیں سکتے۔ اس لئے یہ مجوزہ بل پنجاب میں مارشل لاء لگانے کے مترادف ہوگا۔
بنیادی آئینی حقوق کے آرٹیکلز کے علاوہ یہ مجوزہ بل آئین کے آرٹیکل 175 سب آرٹیکل 3 ( عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ کرنا) کی بھی خلاف ورزی ہے۔(میاں دائود ایڈووکیٹ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں