354

حال 92میڈیا گروپ کا بھی اچھا نہیں ؟؟؟؟

تحریر: امجد عثمانی۔۔۔
صحافیوں کی عالمگیر تنظیم آئی ایف جے (انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس)کا خط نظر سے گزرا ۔۔۔پہلے تو میں سمجھا شاید یہ فیک لیٹر ہے کیونکہ لیٹر پر22جولائی 2025درج یے۔۔۔۔بظاہر ایک سال پرانا خط لیکن متن میں اداروں کی حالیہ بدحالی کا تذکرہ تھا۔۔آئی ایف جے کی ویب سائٹ پر بھی یہ لیٹر نہ ملا تو مایوسی بڑھی کہ اچھا ہوتا یہ لیٹر اصلی ہوتا کہ134ممالک میں 6لاکھ صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان کے صحافیوں کی داستان غم کہے تو زہے نصیب۔۔۔فیکٹ چیک کرتے جناب رانا عظیم کے معتمد خاص عزیزم شاہد چودھری کی وال پر یہ لیٹر مل گیا اور ساتھ ہی جناب رانا عظیم کا صوتی پیغام بھی ۔۔۔۔۔تب کھلا کہ یہ تاریخ کے ساتھ سن کی غلطی کلیریکل مسٹیک ہے۔۔۔۔لیکن ساتھ یہ بھی کھلا کہ کلرک کلرک ہوتا ہے چاہے ایشیائی یا انگریز ہو۔۔۔۔۔مطلب صرف جلد کے رنگ کا فرق ہے دماغ ایسے ہی ہیں۔۔۔
انٹرنیشل فیڈریشن کی صدر کا یہ خط وزیر اعظم پاکستان ۔۔۔چئیرمین سینٹ ۔۔۔وزیر اطلاعات اور کے نام ہے ۔۔۔۔خط میں میں پاکستان میں میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں پر شدید تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔۔۔خط میں پیکا قانون کو بھی موضوع بنایا گیا ہے ۔۔۔۔خط میں پاکستان کے میڈیا ہائوسز جنگ گروپ ،ایکسپریس گروپ ،دنیا گروپ،ایک نیوز،،سنو نیوز،آج نیوز،ڈان نیوز،نکتہ نیوز،365 نیوز اور نیوز ون کا نام لیکر وہاں کی حالت زار بیان کی گئی ہے اور یہ حرف بہ حرف سچ بھی ہے ۔۔۔۔۔
میڈم پریذیڈنٹ ۔۔۔۔آپ کا شکریہ کہ آپ نے پاکستان کے صحافیوں کے لیے خط لکھا۔۔۔ان کے لیے عالمی فورم سے آواز اٹھائی کہ واقعی ان کے لیے ان کے ملک میں آواز اٹھانے والی ملک گیر تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس تقسیم در تقسیم کا صدمہ سہتے سہتے نڈھال ٹھہری ہے۔۔۔اس کی آواز اتنی مدہم ہے کہ چراغ سحری ہی کہہ لیں۔۔۔آپ بھی حیران ہونگی کہ پاکستان میں ایک یونین کے پانچ دھڑے ہیں اور ہر کوئی اپنے آپ کو یونین کہتا ہے۔۔۔
میڈم پریذیڈنٹ ۔۔۔آپ کا شکریہ کہ آپ نے صحافیوں کے عالمی فورم سے جنگ گروپ۔۔۔۔دنیا گروپ ۔۔۔۔ایکسپریس گروپ ایسے بڑے اداروں کی اندرونی کہان طشت ازبام کردی ۔۔۔۔لیکن گزارش ہے پاکستان کے میڈیا ہائوسز کی اسی صف میں ایک اور بڑا میڈیا گروپ 92 کے نام سے بھی ہے۔۔۔۔حال اس کا بھی اچھا نہیں ہے ۔۔۔۔وہاں کتنا برا حال ہے ؟؟لاہور کے بے باک اخبار نویس جناب رانا خالد نے آج ہی اپنے بلاگ میں 92میڈیا گروپ کی حالت زار کہی ہے ۔۔۔۔۔۔رانا خالد نے دعویٰ کیا ہے کہ 92میڈیا گروپ کی انتظامیہ نے اپنے کیمرہ مینوں کو عجیب سا حکم جاری کیا کہ وہ اپنی ذاتی موٹر سائیکل میں ٹریکر لگوائیں تاکہ ان کی موومنٹ کا پتہ چلتا رہے ۔۔۔ رانا خالد کے مطابق چار کیمرہ مین انکاری ہوئے تو ان میں سے تین پر دفتر کے گیٹ بند اور کارڈز بلاک کردئیے گئے جبکہ یک نے معافی تلافی سے جان چھڑائی ۔۔۔۔ستم بالائے ستم یہ کہ نوکری سے فارغ ہونے والے تین میں سے ایک کیمرا مین ایکسیڈنٹ کی وجہ سے گھر میں پڑا ہے وہ بستر پر پڑا پڑا ہی نوکری سے فارغ کردیا گیا ۔۔۔۔۔
میڈم پریذیڈنٹ ۔۔۔۔92میڈیا گروپ کی حالت زار سے بے خبری میں آپ کا کوئی قصور نہیں کہ آپ کو جو بتایا گیا وہ آپ نے لکھ بھیجا لیکن ہے تو یہ بددیانتی کہ میڈیا ہائوسز کے احتساب میں کسی ایک میڈیا ہائوس کو بوجوہ استثنا دیا جائے۔۔۔سوال ہے کہ کیوں۔۔۔؟؟؟اور کیوں کا جواب آپ کے ذمے ہے۔۔۔۔بہر حال آپ کے خط کا ایک پھر شکریہ ۔۔۔۔!!!!( امجد عثمانی)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں