تحریر: رانا خالد قمر۔۔
بانوے نیوز کی انتظامیہ نے اپنے کیمرہ مینوں کو عجیب سا حکم جاری کیا کہ وہ اپنی ذاتی موٹر سائیکل میں ٹریکر لگوائیں تاکہ ان کی موومنٹ کا پتہ چلتا رہے ۔۔۔ چار کیمرہ مین انکاری ہوئے تو ان میں سے تین پر دفتر کے گیٹ بند اور کارڈز بلاک کردئیے گئے ۔۔ ایک نے معافی تلافی سے جان چھڑوائی ۔۔ نوکری سے فارغ ہونے والے تین میں سے ایک ایکسیڈنٹ کی وجہ سے گھر میں پڑا ہے وہ بستر پر پڑا پڑا ہی نوکری سے فارغ کردیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ جب شکایت لے کر اپنے باس ارشاد احمد عارف کے پاس گئے تو انہوں نے آگے سے جو جواب دیا تاریخ کے صفحات میں “سنہری” الفاظ میں درج ہوگا۔۔۔ انہوں نے فرمایا کہ فوٹو گرافر بھی ساری عمر اپنی موٹر سائیکل استعمال کرتے رہے ہیں اب اگر یہ کیمرہ مین بھی کرلیں گے تو کون سا قیامت آ جائے گی۔۔۔۔ حیرت ہے وہ اتنے بڑے صحافی ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اسٹل کیمرہ فوٹو گرافر اپنے گھر سے لاتا تھا جبکہ کیمرہ مین پہلے چالیس کلو میٹر کا سفر طے کرکے دفتر جائے گا پھر وہ کیمرہ اور فوٹیج جمع کروانے دفتر آئے گا ۔اس جانے اور آنے کی مشق میں اسی کلومیٹر سفر کرے گا ۔۔ اگر دوسری ڈیوٹی لگ گئی تو یہ سفر ڈبل ہوجائے گا۔۔۔ اس کے بدلے تیس لیٹر پٹرول ملے گا۔۔
موٹر سائیکل کی ٹوٹ پھوٹ اور مستری کا خرچہ بھی وہ جیب سے کرے گا ؟
کیمرہ مین تنخواہ ہی کتنی لیتے ہیں کہ ان کی زندگی داؤ پر لگا دی جائے ؟
ارشاد احمد عارف سے تو شکوہ نہیں کیونکہ وہ ہماری کلاس اور پہنچ سے اوپر کی شئے ہیں البتہ ہمارے دوست سینئر صحافی اور پی ایف یو جے کے ایک دھڑے کے روح رواں رانا عظیم صاحب بھی تو اسی ادارے میں ہیں ۔ان سے شکوہ بھی ہے اور امید بھی۔ وہ اپنا وی لاگ حضور صلی اللہ علیہ والیہ وسلم پر درود و سلام پڑھ کر شروع کرتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے اتنا نیک انسان اپنے کارکنوں کی بات نہ کرے ۔۔۔ مجھے امید ہے انہوں نے بات کی ہوگی اس لئے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا اور اگر ان کی بات چینل مالکان نہیں مانیں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی باہر آ جائیں گے ۔۔۔ آخر کار وہ بھی تو بڑے صحافتی لیڈر ہیں۔۔۔۔
اس لئے مجھے یقین ہے ۔۔۔ ٹریکر لگواؤ ورنہ گھر جاؤ ۔۔۔ آرڈر واپس ہوجائے گا۔۔۔(رانا خالد قمر)
306