saat samandar paar dosto ke naam 245

سرکاری نیوزایجنسی کے قائم مقام ڈائریکٹر پر ہراسمنٹ کا الزام ثابت، جرمانہ عائد۔۔۔

تحریر: امجد عثمانی۔۔
کچھ دن پہلے وفاقی محتسب نے اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ سنایا جس میں پہلی مرتبہ تضحیک آمیز رویے اور گفتگو کو بھی ہراسمنٹ کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک ادارے کے سنئیر ملازم نے واٹس ایپ گروپ میں خاتون کی بانجھ پن کے حوالے سے تضحیک کی اور انہیں ایک دو بار نہیں 17 بار بے اولادی کا طعنہ دیا۔۔۔خاتون کے مطابق یہ مکروہ مہم گذشتہ برس اس وقت چلائی گئی جب انہوں نے اپنے دفتر کی یونین کے انتخابات میں سیکرٹری کا الیکشن لڑا۔۔۔۔وفاقی محتسب کے فیصلے کے مطابق الزامات ثابت ہونے پر ملزم پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جس میں سے چار لاکھ روپے بطور ہرجانہ شکایت کنندہ کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ ایک لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے جائیں گے۔۔۔آج نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی ایک پریس ریلیز نظر سے گزری تو کھلا کہ وہ صاحب تو سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے قائم مقام ڈائریکٹر ہیں تو افسوس ہوا اور شرمندگی بھی۔۔۔۔۔ شکایت کنندہ خاتون بھی اے پی پی کی رپورٹر / سب ایڈیٹر ہیں۔۔۔۔افسوس اس بات کا کہ کچھ لوگوں کو تعلیم بھی نہیں سدھارتی اور شرمندگی یہ کہ ایسے لوگ بھی اپنے آپ کو صحافی کہتے ہیں۔۔۔سوچ کر ہی خوف آتا ہے کہ کوئی انسان اتنا یہ اذیت ناک بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کو اس بات کا طعنہ دے جس کا وہ خود بھی اختیار نہیں رکھتا۔۔۔کیا ان صاحب کے بچے ان کا اپنا کمال ہے؟کل کو ان کی بیٹی کے ہاں بچے نہ ہوئے تو وہ کیا کرلیں گے؟؟؟یہ سوچتے قران مجید کی سورہ شوری کی یہ آیات نقش خیال پر ابھریں۔۔اللہ کی طاقت اور انسان کی بے بسی کو بیان کرتیں آیات مبارکہ :
لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ۴۹﴾اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿۵۰﴾
آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے(49)یا انہیں جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے، وه بڑے علم واﻻ اور کامل قدرت واﻻ ہے(50)
قرآن مجید کی اولاد کے باب میں اس صراحت کے بعد شاید ہی کسی انسان کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اس موضوع پر کسی اور زاویے سے لب کشائی کرے۔۔۔ناجانے پھر بھی کچھ لوگ خدا بننے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں