psl samaa tv multan sultans ka media partner bangya 791

آئی ایم سماء کے ہرنوں کیلئے لمحہ فکریہ

تحریر: شہریار خان۔۔
عبد العلیم خان۔۔ ایک کامیاب بزنس مین، ہمیشہ فائدے کا سودا کرتے ہیں، کچھ برس قبل روزنامہ وقت شروع کیا، شاندار دفاتر بنائے، بڑے اچھے اچھے صحافیوں کو پرکشش تنخواہوں پر دوسرے میڈیا ہاؤسز سے اپنے پاس لے گئے۔ اسلام آباد میں بہت خوبصورت دفتر بنایا۔ نثار حسین صاحب، افضل بٹ صاحب، بلال ڈار، عبد الرؤف چوہدری مرحوم، فرحت ترابی سمیت تمام دوست اچھی تنخواہوں پر بھرتی ہوئے، پھر ایک روز میر شکیل الرحمن کو اپنا اخبار فروخت کر دیا، مع ملازمین۔۔
بےچارے ملازمین کچھ عرصہ تو جنگ اخبار میں کام کرتے رہے مگر پھر انہیں آہستہ آہستہ تکلیف دہ انداز میں نکالتے گئے۔ عبد الرؤف چوہدری بےچارہ مظالم کا شکار رہا۔ اس پہ اتنا دباؤ ڈالا گیا کہ وہ برداشت نہ کر سکا۔ عبد الرؤف چوہدری کے آخری لمحات کے ساتھی حامد حبیب سے پوچھیں وہ بتائیں گے کہ طبیعت کی خرابی کے باوجود اسے دفتر آنے پر مجبور کرنے والے کون تھے؟ وہ اسے ہسپتال لے کر جا رہے تھے مگر راستے میں بھی بار بار فون آتے رہے کہ اسمبلی نہ پہنچے تو سخت کارروائی ہو گی، وہ اس دباؤ کو برداشت نہ کر سکا اور کچھ ہی دیر میں چل بسا۔۔
یہ تو ایک عبد الرؤف چوہدری کی کہانی تھی، باقی لوگوں کی بھی اپنی اپنی کہانی ہے، ان پہ کیا گزری؟ کوئی بلال ڈار سے پوچھے، نثار صاحب سے پوچھیں، سب بتائیں گے۔۔
اب آتے ہیں سماء کی طرف، ظفر صدیقی نے بہت اچھے انداز میں سما نیوز بنایا اور اسے بہترین انداز میں چلا بھی رہے تھے ان سے عبد العلیم خان نے چینل خریدا اور پھر بڑے بڑے اعلانات کیے۔ پٹرول مہنگا ہونے پر تنخواہیں بھی بڑھائیں اور ہر عید پر بونس بھی دئیے۔ ملازمین ان کے گن گاتے نہیں تھکتے تھے۔۔ پھر عبدالعلیم خان کے نازک کندھوں پر پہلے گلگت بلتستان اسمبلی کی ذمہ داری ڈالی گئی اور اب آزاد کشمیر الیکشن کا بڑا ٹاسک بھی دے دیا گیا ہے۔ اس لیے شاید ان سے چینل کی ذمہ داری واپس لیے جانے کا کام شروع ہو چکا ہے۔
شاید اسی لیے کچھ عرصہ قبل ملازمین کو فارغ کرنے کی لسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو بہت سے دوست ان کا دفاع کرنے سامنے آ گئے اور باقاعدہ ایک سوشل میڈیا ٹرینڈ بنایا گیا۔۔ اب کیا ہو رہا ہے؟ ایسے ایسے رپورٹرز اور دیگر شعبہ جات کے ملازمین فارغ کیے جا رہے ہیں جنہیں کچھ عرصہ قبل بہترین رپورٹرز کا ایوارڈ بھی دیتے رہے ہیں۔ شاید اب یہ چینل بھی فروخت ہو رہا ہے، اس لیے وزن کم کیا جا رہا ہے؟
عبد العلیم خان کے دفاع کے لیے ٹرینڈ بنانے والے یاد رکھیں، کارپوریٹ سیکٹر میں وفاداری نہیں مفاد دیکھے جاتے ہیں اس لیے مہربانی کریں۔۔ سچ تو سچ ہے، پھیلے گا۔( شہریارخان)۔۔
اسلام آباد کے سینئر صحافی شہریار خان اپنا کالم شہریاریاں کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں، ان کی یہ تحریر سوشل میڈیا وال سے لی گئی ہے جو ان کے شکریہ کے ساتھ شائع کی جارہی ہے، عمران جونیئر ڈاٹ کام کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ علی عمران جونیئر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں