تحریر: امجد عثمانی۔۔۔
پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر برادرم نعیم حنیف نے درست کہا کہ جیو نیوزٹرینڈ سیٹر نیوز چینل ہے۔
۔نعیم صاحب سے اختلاف کرتے عرض ہے کہ رجحان ساز ادارہ نہیں ہوا کرتا تھا۔۔۔۔جیو نیوز ہی نہیں جنگ گروپ کے تمام ادارے لیڈنگ ادارے ہوا کرتے تھے ۔۔۔جنگ ۔۔۔دی نیوز ۔۔۔اواز ۔۔۔اور تو اور شام کا اخبار انقلاب بھی ۔۔۔کبھی جنگ گروپ آگے آگے بھاگا کرتا اور پورے ملک کا میڈیا اس کے پیچھے پیچھے ۔۔۔۔۔نعیم نے ایک اور بات بھی کہی کہ میر شکیل الرحمان کو بے روز گار کارکنوں کی بد دعائیں لے ڈوبیں ۔۔۔انہوں نے درست کہا کہ جنگ گروپ نے جس طرح کارکن صحافیوں کا معاشی قتل عام کیا ۔۔۔یہ ایک دل خراش کہانی ہے ۔۔۔۔پاکستان ٹائمز اور روزنامہ وقت کی کہانی ایک سی ہے۔۔۔اچھے بھلے چلتے اخبار لیکر ڈمی کردیے ۔۔۔یہی نہیں روزنامہ انقلاب اور روزنامہ آواز کا چشم زدن میں گھلا گھونٹ دیا۔۔۔ملک کے سب سے بڑے اخبار جنگ اور دی نیوز کو بھی اتنا محدود کردیا کہ۔ یہ دو ادارے سہ منزلہ عمارت سے دو کمروں میں سما گئے ۔۔۔یہی حال جیو کا ہے ۔۔۔۔ان اداروں سے سینکڑوں کارکنوں کو بیک جنبش قلم بے روزگار کردیا اور ملال بھی نہیں ہوا۔۔۔سرمایہ دار کو کارکن کے معاشی قتل پر ملال کیسا ۔۔۔؟سرمایہ دار سنگدل ہوتا ہے چاہے کلین شیوڈ ہو یا باریش ۔۔۔۔یہ بات روزنامہ جہان پاکستان میں سمجھ آئی جب ایک متدین مالک نے اچھا بھلا اخبار اچانک ڈمی کردیا ۔۔۔۔میرے خیال میں میر صاحب کو ایک اور بات بھی کھا گئی اور وہ ہے خدائی لہجہ ۔۔۔۔وہی لہجہ جس میں وہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں ۔۔۔۔لاہور کے بزرگ ترین اخبار نویس جناب عظیم قریشی کا ایک روز پہلے فون آیا ۔۔۔۔میری خوش بختی کہ عظیم صاحب ایسے عظیم لوگ مجھے یاد کر لیتے ہیں ۔۔۔پوچھنے لگے کہ جیو نیوز کی کیا کہانی ہے؟میں نے واقعہ بتایا تو کہنے لگے کہ تکبر اللہ کو پسند نہیں ۔۔۔میر شکیل کو تکبر لے ڈوبا ۔۔۔۔عظیم قریشی صاحب نے سچ کہا کہ یہ تکبر کا ہی خمیازہ ہے میر صاحب کا میڈیا گروپ سکڑ گیا ہے۔۔۔بقول سید طلعت حسین یہ حشر صحافت ہے۔۔۔۔بہر حال گردش ایام دیکھیے کہ آج جنگ گروپ سے بہتر دنیا اور ایکسپریس میڈیا گروپ ہے ۔۔۔۔عالم گیر سچائی یہی ہے کہ خدائی لہجہ صرف خدا کو ہی سجتا ہے ۔۔۔۔سدا بادشاہت اللہ کی ہے ۔۔۔رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔!!!! (امجد عثمانی)۔۔۔
186