duniya news ki duniyaa daari 571

دنیا نیوز سے 60 سالہ صحافیوں کی رخصتی ۔۔

تحریر: رانا خالد قمر۔۔
ہمارے بڑے کہا کرتے تھے صحافی وہ طبقہ ہے جس کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں وہ مثال دیا کرتے تھے جیسے چاول جتنا پرانا ہوتا ہے اس کی خوشبو اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اسی طرح تجربے کے ساتھ صحافی کے قلم سے نکلے لفظوں کی خوشبو سے زمانہ معطر ہوتا ہے ۔۔۔۔ پھر وقت بدلا قلم کی جگہ کیمرے نے اور تحریر کی جگہ تقریر نے لی تو یہ روایت بھی ٹوٹ گئی ۔۔ جس نے چار دن مائیک تھام لیا وہ سینئر ہوگیا ۔ گویا سنیارٹی کا معیار ہی بدل گیا وہ لفظ جو وقت اور عمر کی خوشبو میں گندھے ہوا کرتے تھے وہ یاوا گوئی اور سطحی ہوگئے ۔۔ ظلم یہ کہ انہیں “ہائر” کرنے کے لئے ایچ آر مینجمنٹ کا نظام آ گیا ۔۔۔
صحافیوں کے انٹرویو ایچ آر منیجر کرنے لگے ان کی تنخواہوں کا تعین تجربے نہیں “تعلق” کی بنیاد پر ہونے لگا
یوں صحافت اپنی موت آپ مرنے لگی ۔۔۔۔
مرے کو مارے شاہ مدار
کے مصداق ان صحافیوں کی عمر کا تعین اور “ریٹائرمنٹ” کا فیصلہ بھی ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کے ذمے ٹھہرا ۔ گویا بندر کے ہاتھ ماچس دے دی گئی ۔۔انجام گلشن کا آپ خود اندازہ لگا لیں۔
حال ہی میں 60 سال کی عمر پوری کرنے والے کارکنوں کو خالی ہاتھ ہی “دنیا” سے رخصت کردیا گیا ۔۔۔ دنیا سے “اٹھنے” والے ان بزرگوں میں لاہور نیوز ہیڈ آفس سے کنٹرولر نیوز آصف سپرا۔ دنیا نیوز ہیڈ آفس سے کنٹرولر نیوز عزیز خاں اور ان جیسے اور بھی سینئرز نوکری سے نکال دئیے گئے ۔
کل جب مجھے معلوم ہوا تو مجھے اس حکم پر تعجب ہوا پھر میں نے سوچا یقینا ان لوگوں کو اس ادارے میں کئی سال گزارنے پر گریجوائٹی۔ پینشن یا دیگر مراعات دے کر رخصت کیا گیا ہوگا اور یہ بھی میرے دل میں خیال آیا کہ ساٹھ سالہ بزرگوں کی اس فہرست میں جناب مجیب الرحمن شامی۔ جناب نجم سیٹھی اور جناب سلمان غنی اور ان جیسی دیگر شخصیات بھی شامل ہوں گی کیونکہ انصاف کا یہی اصول ہے ۔ میں کل اور آج اس بارے میں کھوج لگاتا رہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ 60 سال والا قانون آدھے سٹاف پر لاگو ہو اور آدھا سٹاف اس دائرے میں ہی نہ آئے ۔۔۔ مگر افسوس میں غلط سوچ رہا تھا ۔۔ میں تو اس میاں عامر کو جانتا ہوں جس نے سکوٹر سے اپنا کیرئیر شروع کیا اور بہت محنت کے بعد اس مقام تک پہنچا تھا وہ تو بہت انسان پرور اور دعائیں لینے والا میاں عامر تھا ۔۔۔ کیا وہ ان کا روپ تھا یا بہروپ ؟ کیا یہ ان کا اصلی روپ ہے ؟ ۔۔۔ آج جب یہ “بزرگ” اس ادارے کا حصہ نہیں تو آپ کو اس رزلٹ بھی بہت جلد دیکھنے بلکہ بھگتنے کو مل جائے گا ۔۔۔ کیونکہ اب لفظوں کو مہکانے اور سرخیوں کو چمکانے والے “بابے” آپ کے پاس نہیں رہے۔۔۔( رانا خالد قمر)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں