85

غیر ملکی میڈیا سے متعلق نئی ہدایات واپس لی جائیں، ایچ آر سی پی

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فارن میڈیا فسیلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026 فوری طور پر واپس لی جائیں، کیونکہ ان اقدامات سے صحافت پر بیوروکریٹک کنٹرول کو ادارہ جاتی شکل ملنے اور پاکستان میں آزادانہ رپورٹنگ مزید محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ ایچ آر سی پی نے 5 اگست کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ہدایات صحافت کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے خبروں کے حصول کے عمل میں مزید انتظامی رکاوٹیں پیدا کریں گی اور عوامی مفاد کے معاملات پر رپورٹنگ کی حوصلہ شکنی کا باعث بنیں گی۔انسانی حقوق کی تنظیم نے اس اقدام کو ملک میں آزادیٔ صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا۔ کمیشن کے مطابق پاکستان میں آزاد صحافت کے لیے دستیاب گنجائش مسلسل محدود ہورہی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں رپورٹنگ پر من مانی قدغنیں، بڑھتی ہوئی سنسرشپ اور صحافیوں و میڈیا اداروں کو درپیش قانونی اور انتظامی رکاوٹیں شامل ہیں۔ایچ آر سی پی نے خاص طور پر ان شقوں پر تشویش کا اظہار کیا جن کے تحت صحافیوں کو ملک کے بیشتر حصوں سے رپورٹنگ کرنے سے پہلے سرکاری منظوری حاصل کرنا ہوگی۔تنظیم نے کہا کہ ایسی شرائط یہ ’’خوف ناک پیغام‘‘ دیتی ہیں کہ تنقیدی رپورٹنگ قابلِ قبول نہیں اور اس کے نتیجے میں صحافی عوامی مفاد کے اہم معاملات کی کوریج سے گریز کرسکتے ہیں۔ایچ آر سی پی نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ ہدایات واپس لے اور آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کے تحفظ سے متعلق اپنی آئینی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔یہ بیان فارن میڈیا فسیلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026 کے اجرا کے بعد سامنے آیا ہے، جن کے تحت غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے کام کرنے والے پاکستانی صحافیوں کی سرگرمیوں کے لیے نئے طریقہ کار متعارف کرائے گئے ہیں۔ان ہدایات کو صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں، جن میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس بھی شامل ہے، کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ایچ آر سی پی کا کہنا تھا کہ تازہ اقدامات صحافت پر کنٹرول سخت کرنے کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ رپورٹنگ پر مزید پابندیاں عائد کرنے سے شفافیت، جواب دہی اور عوام کی معلومات تک رسائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں