کوئٹہ پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جرنلٹس میں سرکاری ملازمین کی ممبرشپ سے متعلق بار بار نشاندہی کے باوجود کسی نے کان نہیں دھرے، دو مرتبہ شواہد کے ساتھ نشاندہی بھی کی گئی لیکن اس کے ردعمل میں اپوزیشن پروگریسیو پینل سے تعلق رکھنے والے دو اراکین کی رکنیت تین ماہ کیلئے معطل کردی گئی ۔۔ پروگریسیو پینل کا مطالبہ ہے کہ تمام اراکین کی اسکروٹنی کی جائے لیکن جرنلسٹ پینل کی مسلسل خاموشی، مراعات، عہدوں اور بار بار الیکشن میں ووٹ ڈالنے والے سرکاری ملازمین کا مسلسل تحفظ کیا جارہا ہے۔ جب پروگریسیو پینل نے عدالت سے رجوع کیا تو جرنلسٹ پینل انتقامی کارروائی پر اتر آیا اور اپنے درمیان سرکاری ملازمین کی اسکروٹنی کرنے کے بجائے پروگریسیو پینل کے دو ارکان کی ممبرشپ تین ماہ کیلئے معطل کردی گئی۔۔پپو کا کہنا ہے کہ عدالت جانے کا مشورہ بھی جرنلسٹ پینل نے دیا اور اب کارروائی بھی جرنلسٹ پینل کررہی ہے ۔سرکاری ملازمتیں اور سرکاری و نجی اداروں سے مراعات لینے والے صحافیوں کو کیوں بچایا جارہا ہے، اس کی وجہ بتانے کیلئے جرنلسٹ پینل کا کوئی عہدیدار تیار نہیں۔۔واضح رہے تین ماہ کیلئے رکنیت معطل ہونے والے دونوں صحافیوں کا تعلق پروگریسو پینل سے ہے جو گزشتہ الیکشن میں صدر اور جنرل سیکرٹری بی یو جے کے امیدوار بھی تھے۔۔
228
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل