337

آج نیوز ملازمین کو تنخواہیں کون دے گا، ملین ڈالر سوال۔۔۔

آج نیوز میں گزشتہ تین ماہ سے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی ہے۔ متاثرہ ورکرز شدید مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی واضح جواب یا حتمی تاریخ نہیں دی جارہی۔ بدھ کے روز ایک سو پانچ روز بعد پچاس ہزار سیلری والوں کو مئی کی تنخواہ دی گئی ہے، جب کہ باقی لوگ اب بھی سیلری کے منتظر ہیں۔۔ ملازمین کے مطابق مسلسل تین ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کے باعث متعدد خاندانوں کے گھریلو معاملات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ کئی ملازمین بچوں کی اسکول فیس ادا نہیں کرسکے جس کے باعث بعض بچوں کو اسکول انتظامیہ کی جانب سے کلاسز سے روکنے یا اسکول چھوڑنے کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ بعض ورکرز کئی ماہ سے گھر کا کرایہ بھی ادا نہیں کرسکے اور مالک مکان انہیں گھر خالی کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ دوسری جانب کئی ملازمین کے گھروں میں بیمار بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کے علاج اور ادویات کے لیے بھی رقم دستیاب نہیں۔ پپو کا کہنا ہے کہ ملازمین دوستوں اور رشتہ داروں سے قرض لے کر گھر کے اخراجات پورے کررہے ہیں تاہم مسلسل عدم ادائیگی کے باعث اب قرض اور ادھار کے ذرائع بھی محدود ہوتے جارہے ہیں۔ صورتحال نے ملازمین کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے اور بعض ورکرز کے ساتھیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مسلسل مالی دباؤ اور گھریلو مسائل کے باعث کوئی ملازم انتہائی قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں لیکن تین ماہ سے اپنی محنت کا معاوضہ نہ ملنے کے باعث ان کے لیے گھر کا راشن، بچوں کی تعلیم، کرایہ اور علاج جیسے بنیادی اخراجات پورے کرنا ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ متاثرہ ورکرز کے مطابق انتظامیہ سے متعدد بار رابطہ کرنے اور تنخواہوں سے متعلق وضاحت مانگنے کے باوجود کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا جارہا۔ ملازمین نے آج نیوز کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بقایا تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں اور ادائیگی کا واضح شیڈول جاری کیا جائے تاکہ شدید مالی اور ذہنی بحران سے دوچار ملازمین اور ان کے خاندانوں کو فوری ریلیف مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں