وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ 2019 کی پالیسیاں میڈیا کو مالی مشکلات میں ڈالنے کا سبب بنیں، جن میں سرکاری اشتہاری ریٹس میں کمی اور پریس کلبوں کے لیے امداد کی حد مقرر کرنا شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ حد ختم کرکے میڈیا انڈسٹری کی مالی صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔وفاقی وزیراطلاعات کے مطابق 2019 میں متعارف کرائی گئی میڈیا پالیسیوں نے پاکستان کی میڈیا صنعت کو مالی مشکلات سے دوچار کیا، جن کے اثرات آج بھی نیوز اداروں پر مرتب ہو رہے ہیں۔نیشنل پریس کلب کی نئی ویب سائٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں تشکیل دے جو میڈیا انڈسٹری کو مضبوط بنائیں اور صحافیوں کو باوقار روزگار کے مواقع فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ان اقدامات کو واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے جنہوں نے براڈکاسٹرز، اخبارات اور پریس اداروں کو کمزور کیا۔وفاقی وزیر نے 2019 میں نافذ کی گئی اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کے تحت نیشنل پریس کلب کے لیے وفاقی گرانٹ کی حد ایک ملین روپے جبکہ دیگر پریس کلبوں کے لیے پانچ لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سب سے بڑے پریس کلب کے لیے اس نوعیت کی حد مقرر کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس حد کو ختم کرنے کے لیے ترمیمی عمل شروع کر چکی ہے اور وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس معاملے کو جلد حل کیا جائے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ 2019 میں سرکاری اشتہارات کی ٹی وی چینلز کے لیے مقررہ نرخوں میں بھی نمایاں کمی کی گئی تھی، جس کے باعث بڑے نشریاتی اداروں کی فی منٹ آمدن میں نمایاں کمی آئی جبکہ دیگر چینلز بھی اس سے متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق اگرچہ بعد ازاں اشتہاری نرخوں میں نظرثانی کی گئی، تاہم اس وقت کی گئی کمی کے مالی اثرات آج بھی، چھ سے سات سال بعد، میڈیا ادارے برداشت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی بھی ٹیلی ویژن چینل یا اخبار کو اس کی ادارتی پالیسی کی بنیاد پر سرکاری اشتہارات سے محروم نہیں کیا جا رہا۔ ان کے بقول، ایک اخبار سے متعلق ماضی کا تنازع بھی مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) سے بھی اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) سے بھی کہا ہے کہ جب بھی حکومت کی جانب سے واجبات ادا کیے جائیں تو ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کو ترجیح دی جائے۔میڈیا کارکنوں کے تحفظ کے حوالے سے وزیر اطلاعات نے صحافیوں کے لیے جامع جاب سیکیورٹی پالیسی، پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران جاں بحق ہونے والے صحافیوں کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کے نظام، اور حکومت کی سرپرستی میں صحافیوں کے لیے ہیلتھ کارڈ متعارف کرانے کی تجویز بھی پیش کی۔عطا اللہ تارڑ نے اعلان کیا کہ وزارت اطلاعات و نشریات نیشنل پریس کلب میں ایک جدید ڈیجیٹل لیب قائم کرے گی، جس میں پوڈکاسٹ اسٹوڈیو اور ڈیجیٹل مواد کی تیاری کی سہولیات موجود ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت اطلاعات قائداعظم یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، کامسیٹس یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) کے اشتراک سے انفارمیشن افسران اور نامزد صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایشن اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے مختصر تربیتی کورسز بھی شروع کر رہی ہے، جن کے تمام اخراجات وزارت برداشت کرے گی۔
وفاقی وزیر نے صحافیوں کے لیے رہائشی سہولتوں، سفری رعایتوں اور نیشنل پریس کلب کی عمارت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے حکومت اور صحافیوں کے درمیان ہر ماہ مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس سے میڈیا صنعت کو درپیش مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔عطا اللہ تارڑ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے تیزی سے فروغ کے باوجود الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اب بھی ملک کے اہم اور بنیادی ادارے ہیں اور ان کا کردار بدستور ناگزیر ہے۔
125