ٹیکنالوجی انٹرپرینیور، سابق اینکر اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کیلیفورنیا سے بزنس کی تعلیم حاصل کرنے والے وقار ذکا نے عالمی ٹریڈ فائی ماسٹرز مقابلے میں انعام کے طور پر حاصل ہونے والی نئی 2026 مرسڈیز جی ویگن فروخت کرکے اس کی رقم پاکستان میں ایک تعلیمی منصوبے پر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ گاڑی اگر تمام درآمدی ڈیوٹیوں، ٹیکسوں اور دیگر سرکاری اخراجات کی ادائیگی کے بعد پاکستان لائی جائے تو اس کی مجموعی مالیت تقریباً 32 کروڑ روپے تک بن سکتی ہے۔ وقار ذکا کے مطابق وہ اس مہنگی گاڑی کو ذاتی نمود و نمائش کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم تعلیم، تحقیق اور نوجوانوں کی علمی صلاحیتیں بہتر بنانے پر لگانا چاہتے ہیں۔وقار ذکا نے کہا کہ منصوبے کے تحت ایسے منتخب مدارس کے ساتھ کام کیا جائے گا جہاں طلبہ حفظِ قرآن مکمل کرچکے ہوں یا قرآن پر مضبوط عبور رکھتے ہوں۔ ان طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت، ریاضی، طبیعیات اور جدید سائنسی علوم کے منظم پروگرام متعارف کرانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ دینی تعلیم کے ساتھ عالمی سطح کی سائنسی اور تکنیکی مہارتیں بھی حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف روایتی تعلیم تک محدود رہنا نہیں بلکہ پاکستان سے ایسے ریاضی دان، سائنس دان اور محقق تیار کرنا ہے جو مستقبل میں فیلڈز میڈل کی سطح تک پہنچ سکیں اور ایسے تحقیقی نظریات یا ایجادات سامنے لائیں جنہیں نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا جاسکے۔ وقار ذکا نے واضح کیا کہ منصوبے کے تحت محض مفت رقم تقسیم نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق مالی تعاون صرف ایسے افراد کو فراہم کیا جائے گا جو تعلیم، تحقیق اور سماجی ذمہ داری کے واضح اہداف کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔انہوں نے بتایا کہ معاونت حاصل کرنے والوں کے لیے باقاعدگی سے درخت لگانا بھی لازمی شرط ہوگی۔ مستفید ہونے والے افراد روزانہ یا ماہانہ بنیادوں پر شجرکاری کریں گے اور اس کی پیش رفت تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے واٹس ایپ پر ارسال کریں گے تاکہ منصوبے میں جواب دہی اور عملی خدمت کا عنصر برقرار رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ذمہ داری اور محنت کے بغیر دی جانے والی مفت رقم دیرپا تبدیلی پیدا نہیں کرتی، اس لیے ہر مستفید شخص کو تعلیم کے ساتھ ماحول اور معاشرے کے لیے بھی عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔وقار ذکا نے کہا کہ سوشل میڈیا سے وابستہ متعدد افراد مہنگی گاڑیوں اور پرتعیش طرزِ زندگی کی نمائش کو کامیابی تصور کرتے ہیں، تاہم وہ انعام میں ملنے والی گاڑی فروخت کرکے اس کی رقم پاکستان کے تعلیمی مستقبل پر خرچ کرنا زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔وقار ذکا گزشتہ پانچ برس سے مختلف بین الاقوامی آن لائن ٹریڈنگ مقابلوں میں حصہ لیتے آرہے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے 2022 کے ایک مقابلے میں تیسری، کورونا کے دوران منعقدہ ایک مقابلے میں ساتویں اور 2024 کے ایک کرپٹو ٹریڈنگ مقابلے میں پانچویں پوزیشن حاصل کی، جبکہ حالیہ کثیر اثاثہ جاتی ٹریڈ فائی ماسٹرز مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے جی ویگن جیتی۔حالیہ مقابلے میں شرکا نے کرپٹو کرنسی کے علاوہ امریکی حصص، سونا، تیل، فاریکس اور دیگر مالیاتی اثاثوں میں بھی تجارت کی۔ وقار ذکا کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسے محض کرپٹو ٹریڈنگ مقابلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔وقار ذکا کے اس اعلان کو پاکستان میں تعلیم پر مبنی ترقی، مدارس کے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کرنے اور مختلف سماجی پس منظر رکھنے والے نوجوانوں کو عالمی سائنسی اعزازات کی سطح تک پہنچانے کی ایک نئی کوشش قرار دیا جارہا ہے
90
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل