پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے مبینہ طور پر 80 لاکھ روپے مالیت کے دو ملبوسات خریدنے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے یہ الزام پھیلانے والے یوٹیوبرز کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ عظمیٰ بخاری نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام لگانے والوں سے کہا ہے کہ وہ عدالت میں اپنی سورس کے ساتھ 80 لاکھ روپے کی رسید بھی پیش کریں۔معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک مبینہ آڈیو گردش کرنے لگی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ عظمیٰ بخاری کی بیٹی کی شادی ہونے والی ہے اور اس سلسلے میں لاہور کے ایک ڈیزائنر سے دو جوڑے تیار کروائے گئے ہیں جن کی مجموعی قیمت 80 لاکھ روپے ہے۔ ڈیلی پاکستان نے بھی اس زیر گردش آڈیو کا ذکر کرتے ہوئے واضح طور پر اسے ایک دعویٰ کے طور پر رپورٹ کیا، تاہم اس الزام کی تائید میں کسی رسید، ڈیزائنر کے مصدقہ بیان یا دوسرے دستاویزی ثبوت کا ذکر سامنے نہیں آیا۔بعدازاں احمد حسن بوبک نامی ایک ایکس صارف نے اس معاملے کو شیئر کرتے ہوئے براہ راست دعویٰ کیا کہ عظمیٰ بخاری نے لاہور میں 80 لاکھ روپے کے دو سوٹ آرڈر کیے ہیں۔ پوسٹ میں اس دعوے کے ساتھ وزیر اطلاعات پر مزید سنگین مالی الزامات بھی لگائے گئے، اس سوشل میڈیا مہم پر عظمیٰ بخاری نے طنزیہ انداز میں ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ “ارے واہ، میں نے اتنے مہنگے جوڑے دے دیے” اور پھر الزام پھیلانے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب متعلقہ شخص خود یہ اعتراف کررہا ہے کہ خبر شاید سچ نہ ہو، لیکن دوسری جانب محض سوشل میڈیا پر اسے پھیلانے اور سنسنی پیدا کرنے کے لیے اسے شیئر بھی کررہا ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے معاملے کو محض سوشل میڈیا جواب تک محدود رکھنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنے کا بھی واضح اشارہ دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ متعلقہ افراد کو “عدالت کا محبت نامہ” بھجوا رہی ہیں اور ان سے کہا کہ اپنی خبر کی سورس اور اس کی بیٹی کو بھی ساتھ لائیں اور 80 لاکھ روپے کی رسید پیش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح الزام لگانے والے کم از کم عدالت کے سامنے تو آئیں گے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ وزیر اطلاعات پنجاب نے اپنے خلاف سوشل میڈیا یا سیاسی حلقوں سے لگائے گئے الزامات پر عدالت سے رجوع کرنے کا راستہ اختیار کیا ہو۔ جنوری 2026 میں عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کے خلاف پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 کے تحت 8 کروڑ 40 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ اس مقدمے میں بھی ان کا مؤقف تھا کہ ان کے خلاف لگایا گیا الزام جھوٹا اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔عظمیٰ بخاری ماضی میں بھی سوشل میڈیا پر جعلی یا گمراہ کن مواد کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی شخص کی ساکھ متاثر کرنے والی غیرمصدقہ معلومات کو صحافت کے نام پر پھیلانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ پنجاب حکومت کے ایک پروگرام میں بھی انہوں نے صحافیوں سے کہا تھا کہ غلط معلومات کی نشاندہی اور صحافتی احتساب ضروری ہے۔اس پورے معاملے میں بنیادی حقیقت فی الحال یہی ہے کہ 80 لاکھ روپے کے دو جوڑوں کی خریداری کا دعویٰ سوشل میڈیا اور ایک مبینہ آڈیو سے سامنے آیا ہے، جبکہ اس دعوے کے حق میں کوئی مصدقہ رسید یا آزاد دستاویزی ثبوت منظرعام پر نہیں آیا۔۔اب معاملے کا اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ آیا وزیر اطلاعات واقعی متعلقہ یوٹیوبرز یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف ہتک عزت یا کسی دوسرے قانون کے تحت مقدمہ دائر کرتی ہیں، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو الزام لگانے والے 80 لاکھ روپے کے مبینہ آرڈر کے بارے میں عدالت کے سامنے کیا شواہد پیش کرتے ہیں۔
77
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل