امریکا میں صحافتی اور مزدور یونینز سمیت مختلف تعلیمی و سماجی تنظیموں کے اتحاد نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس نئے ویزا ضابطے کو وفاقی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے جس کے تحت غیر ملکی صحافیوں کے امریکا میں قیام کی مدت محدود کرتے ہوئے انہیں ہر 240 روز بعد اپنے امیگریشن اسٹیٹس میں توسیع کے لیے درخواست دینا ہوگی، جبکہ چینی صحافیوں کے لیے یہ مدت صرف 90 روز مقرر کی گئی ہے۔ یہ مقدمہ 18 اگست 2026 کو امریکی ریاست میساچوسٹس کی وفاقی ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا۔ درخواست گزاروں میں The NewsGuild-CWA، American Federation of Teachers، United Automobile Workers، Presidents’ Alliance on Higher Education and Immigration، NAFSA: Association of International Educators اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔ مقدمے میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے نئے ضابطے کو روکنے کی درخواست کی گئی ہے، جو 15 ستمبر 2026 سے نافذ ہونا ہے۔
نئے قواعد صرف صحافیوں تک محدود نہیں بلکہ امریکا آنے والے بین الاقوامی طلبہ اور ایکسچینج پروگرامز میں شریک افراد کو بھی متاثر کریں گے۔ نئے نظام کے تحت F ویزا رکھنے والے بین الاقوامی طلبہ اور J ویزا رکھنے والے ایکسچینج وزیٹرز کو زیادہ سے زیادہ چار سال کے لیے قیام کی اجازت دی جائے گی، جبکہ غیر ملکی میڈیا نمائندوں کے لیے جاری ہونے والے I ویزا پر قیام کی مدت زیادہ سے زیادہ 240 روز ہوگی۔ چینی پاسپورٹ رکھنے والے بعض صحافیوں کے لیے یہ مدت 90 روز تک محدود کردی گئی ہے۔ اس سے قبل غیر ملکی صحافی عمومی طور پر امریکا میں اپنی صحافتی ذمہ داری یا ملازمت کی مدت تک قانونی طور پر قیام کرسکتے تھے۔ اسے “Duration of Status” کا نظام کہا جاتا تھا۔ نئے ضابطے کے تحت اس نسبتاً کھلے نظام کو ختم کرکے مقررہ مدت متعارف کرائی گئی ہے، جس کے بعد صحافیوں کو اپنی مدت پوری ہونے سے قبل امریکی حکام سے باقاعدہ توسیع حاصل کرنا ہوگی۔صحافتی یونینز نے اس تبدیلی کو آزادیٔ صحافت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کا خدشہ ہے کہ ہر آٹھ ماہ بعد ویزا اسٹیٹس کی تجدید کی ضرورت غیر ملکی نمائندوں کے لیے نہ صرف انتظامی بوجھ پیدا کرے گی بلکہ ایسے صحافیوں پر بالواسطہ دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے جو امریکی حکومت یا پالیسیوں کے بارے میں تنقیدی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے بھی مقدمے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے اقدامات غیر ملکی صحافیوں کے لیے اضافی رکاوٹیں پیدا کریں گے اور امریکا سے آزادانہ رپورٹنگ کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ مقدمے میں درخواست گزاروں نے نئے ضابطے کو امریکی انتظامی قانون کے تحت “من مانی اور غیر معقول” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس پالیسی کے اخراجات، اس کے تعلیمی و معاشی اثرات اور عوامی مشاورت کے دوران اٹھائے گئے اعتراضات کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قواعد عالمی طلبہ، محققین اور صحافیوں کو امریکا آنے سے روک سکتے ہیں اور امریکی جامعات اور اداروں کی عالمی صلاحیتوں کو راغب کرنے کی اہلیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے عدالتی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے مقدمے کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ محکمہ کا مؤقف ہے کہ ویزا ہولڈرز کی زیادہ باقاعدگی سے جانچ امیگریشن اور ویزا نظام میں مبینہ فراڈ کی روک تھام اور قومی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اب میساچوسٹس کی وفاقی عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے نیا ضابطہ بناتے وقت قانونی تقاضے پورے کیے اور آیا اسے 15 ستمبر سے نافذ ہونے سے قبل روکا جانا چاہیے ۔ مقدمے کا نتیجہ امریکا میں کام کرنے والے غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں بین الاقوامی طلبہ، محققین اور ایکسچینج پروگرامز میں شامل افراد کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
123