امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیرملکی طلبہ، ثقافتی تبادلے کے تحت امریکا آنے والے افراد اور صحافیوں کے لیے ویزا قوانین میں مزید سختی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ امریکی محکمہ ہوم سیکیورٹی کی جانب سے جاری کیے گئے نئے حتمی قانون کے تحت بین الاقوامی طلبہ کے لیے ایف ویزا، ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کے تحت امریکا میں کام کرنے کی اجازت حاصل کرنے والے غیرملکیوں کے لیے جے ویزا اور میڈیا کے نمائندوں کے لیےآئی ویزا کی مدت کے لیے دورانیہ طے کردیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس قانون کا نفاذ فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے کے 60 روز بعد ہوگا، جو کانگریس کے جائزے سے مشروط ہے جبکہ اس اقدام سے بین الاقوامی طلبہ، ایکسچینج ورکرز اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے نئی رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ضوابط کے تحت، طلبہ اور ایکسچینج ویزا کی مدت چار سال سے زیادہ نہیں ہوگی، صحافیوں کے لیے ویزے کی مدت زیادہ سے زیادہ 240 دن یا چینی شہریوں کے لیے صرف 90 دن ہوگی جبکہ موجودہ قوانین کے تحت یہ مدت کئی برس پر محیط ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ویزا کے رکھنے والے غیرملکی توسیع کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔قبل ازیں غیرملکی طلبہ، صحافیوں اور ثقافتی تبادلوں کے پروگرام کے تحت آنے والے افراد کے لیے جاری ویزے امریکا میں پروگرام یا ملازمت کی مجموعی مدت تک کے لیے دستیاب ہوتے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ نئے ویزا قوانین کے تحت گریجویٹ طلبہ کو کسی بھی مرحلے پر اپنی تعلیمی ترجیحات تبدیل کرنے یا اجازت کے بغیر کسی دوسرے شعبے میں منتقل ہونے سے روکتے ہیں، ان ضوابط کے تحت طلبہ کے لیے اپنی ڈگری یا تربیت مکمل کرنے کے بعد امریکا چھوڑنے کی مدت بھی 60 دن سے کم ہو کر صرف 30 دن رہ جائے گی۔محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سابق عہدیدار ڈوگ رینڈ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے مالی سال 2024 میں 5 لاکھ سے زائد ثقافتی تبادلوں کے تحت اور 37 ہزار 300 صحافیوں کو ویزے جاری کیے۔بیان میں کہا گیا کہ غیرملکیوں افراد کی تعداد میں نمایاں اضافے سے امریکا میں قیام کے دوران ان غیر تارکین وطن کی نگرانی اور دیکھ بھال ڈی ایچ ایس کی صلاحت کے لیے ایک چیلنج بن جاتی ہے۔مزید بتایا گیا کہ جو ویزا ہولڈرز اپنے داخلے کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی امریکا میں رہنا چاہتے ہیں، انہیں یا تو ویزے کی توسیع کے لیے ڈی ایچ ایس کو درخواست دینا ہوگی یا پھر بیرون ملک سفر کر کے اور دوبارہ امریکا میں داخل ہو کر ازسر نو داخلہ حاصل کرنا ہوگا۔
110
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل