214

مالکان کا غصہ کیمرہ مینوں پر نکالنا نامناسب ہے، پی ایف یوجے۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے ایم کیو ایم حقیقی کے چئیرمین آفاق احمد کی جانب سے جلسہ کے دوران میڈیا کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پی ایف یو جے کے صدر رانا محمد عظیم، سیکرٹری جنرل شکیل احمد، سیکرٹری فنانس شہر بانو اور ارکان فیڈرل ایگزیکٹو کونسل نے کہا ہے کہ میڈیا کو دعوت دینے کے بعد اس طرح رویہ روا رکھنا اور تحکمانہ انداز میں کیمرہ مینوں کو کام کرنے سے روکنا ناقابل فہم ہے۔ اگر انہیں میڈیا سے کوئی شکایت تھی تو وہ دعوت دے کر نہ بلاتے۔ مگر مالکان کا غصہ ورکر کیمرہ مینوں پر نکالنا انتہائی نامناسب اور غیر شائستہ ہے۔ آفاق احمد نے اپنے خطاب کے وقت وہاں موجود کیمرہ مینوں کو ہٹانےکے لئے سخت رویہ اپنایا اور الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اداروں کے مالکان ان کی کوریج نشر کرنے کی بجائے ان کی فوٹیج ایجنسیوں کو دے دیتے ہیں۔ ان کے اس غیر ذمہ دارانہ گفتگو کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ پی ایف یو جے لیڈر شپ کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو میڈیا کو دعوت دینے سےقبل اپنی پالیسی کو مد نظر رکھنا چاہئے مگر میڈیا کو دعوت دینے کے بعد ان سے نامناسب رویہ ناقابل برداشت ہے۔ پی ایف یو جے لیڈر شپ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس رویہ پر میڈیا ورکروں سے معذرت کی جائے۔دریں اثنا کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) کے صدر اعجاز احمد، جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار نقوی، نائب صدور محمد ناصر شریف، راہب گاہو، خازن یاسر محمود، جوائنٹ سیکریٹریز طلحہٰ ہاشمی،روبینہ یاسمین اور مجلس عاملہ کے اراکین نے نے ایم کیو ایم حقیقی کے چئیرمین آفاق احمد کی جانب سے جلسہ کے دوران میڈیا کے ساتھ ناروا سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔کے یو جے کے عہدیداران نے کہا کہ 24 جولائی کو آپ کی جانب سے جلسے کی کوریج کی درخواست پر میڈیا وہاں موجود تھا۔ جس کے بعد میڈیا و کیمرہ مینوں سے اس طرح کا رویہ ناقابل برداشت اور ناقابل فہم ہے۔جب آپ خود کہہ رہے ہیں کہ میڈیا مالکان آپ کے جلسے کی کوریج نشر نہیں کرتا بلکہ فوٹیج ایجنسیوں کو دے دیتے ہیں تو آپ کا شعبہ اطلاعات کیوں کوریج کی درخواست لیے پھرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آفاق احمد کا رویہ انتہائی نامناسب رہا جس پر ان کو معذرت کرنی چاہیے اور جب آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی فوٹیج ایجنسیوں کو دے دی جاتی ہیں تو میڈیا سے کوریج کی درخواست ہی نہیں کی جائے۔دوسرا مالکان کو بھی چاہیے کہ اتنے سنگین الزام کے بعد وہاں کوریج کے لیے کسی کو نہ بھیجیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں