سپریم کورٹ کے چیف جسٹس،یحیٰ آفریدی کی جانب سے عدالتی رپورٹنگ پر مامور صحافیوں کو ” فطرت کا قریب سے نظارہ کروانے” کے لیے ان کے پریس روم کو تالے لگوانے کے بعد متاثرہ صحافیوں نے بھی سپریم کورٹ کی رپورٹنگ صرف کھڑے ہو کر یا بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کرنا شروع کردی ہے ، سپریم کورٹ میں” جیل اصلاحات پر قومی کانفرنس ”کے دوران بھی عدالتی رپورٹروں نے آڈیٹوریم میں مختص کرسیوں پر بیٹھنے کی بجائے احتجاجاً کھڑے ہوکر تقریب کی کوریج کی،جب چیف جسٹس چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کو سپریم کورٹ کا چمکتا دمکتا ‘فسیلیٹیشن سنٹر’ دکھا نے گئے ؟ تو وہاں کھڑے “کالی پٹیوں” والے صحافیوں کو دیکھ کر وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سہم سی گئیں اور نہایت معصومیت سے پوچھا:”خیر تو ہے ناں؟ کیا آپ ہمارے خلاف احتجاج کر رہے ہیں؟”جس پرصحافیوں نے فورا ان کا بلڈ پریشر نارمل کرتے ہوئے بتایا کہ “جی نہیں، ہمارا مسئلہ انتظامیہ کا تالا ہے، آپ کا جلال نہیں،”یہ سنتے ہی چاروں وزرائے اعلیٰ کے چہرے کھل گئے اور ان کی جانب سے ”مظلوم ” صحافیوں کے ساتھ دلی یکجہتی کا طوفان امڈ آیا، وزیر اعلی خیبر پختونخوا، سہیل آفریدی نے تو جذباتی ہوکر متاثرہ صحافیوں کے لیے اتنی گہری ہمدردی کا اظہار کیا کہ انہوں نے جلد ہی سپریم کورٹ بلڈنگ کے باہر درختوں کے جھنڈ میں بنائے گئے “اوپن ایئر پریس روم”کا دورہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا، دوسری جانب، اس قومی ،جذباتی موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کہاں پیچھے رہنے والے تھے ؟انہوں نے بھی موقع غنیمت جان کر لالی پاپ دیتے ہوئے بڑے دکھی دل کے ساتھ آہستگی کے ساتھ (تاکہ کوئی غیر متعلقہ شخصیت سن کرناراض نہ ہوجائے )کہا:”ہم آپ لوگوں کو اس گرمی میں یوں گھاس پر نہیں بیٹھنے دیں گے! دوسری جانب متاثرہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ پچھلے 17 روز سے وہ مسلسل ‘گرین بیلٹ’ پر بیٹھ کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں،معلوم نہیں کہ سپریم کورٹ کا بھاری قفل ان کے لئے کھلتا بھی ہے ؟ یا پھر ہمیں مستقل طور پر “ماحولیاتی صحافت” ہی کرنا پڑے گی ۔
138
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل